سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ الحمدللہ! 34سال سے سیاست کر رہا ہوں،34سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ،ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم بڑے بدعنوان لوگ ہیں،میری کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں ،حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟ آج تک کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا۔34سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں۔ ختمِ نبوت کے معاملے میں ایک مرتبہ عدالت گیا۔ میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے۔ احتساب کے ادارے احتساب نہیں، انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعیت اساتذہ کے زیر اہتمام قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے طلبہ اور اساتذہ، دونوں کو اپنے اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا ۔ یہ ہے حکمرانوں کی نظر میں تعلیم، طالب علم اور استاد کی قدر و منزلت۔مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ کون پالیسیاں بنا رہے ہیں ؟؟کون فیصلے کر رہا ہے ؟؟یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے۔حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف یا ملکی نظام کے خلاف؟ ان اقدامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟ ؟۔سیاست میں آئے اور آج پورے ملک کے بڑے سرمایہ کار بن گئے، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟مقدمات بھی چلے، سزائیں بھی ہوئیں، قید و بند بھی ہوئی، لیکن وفاداری کا اعلان کرتے ہی سب کچھ دھل جاتا ہےمیرے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہےہم دباؤ کے عادی ہیں۔ اپنے حق کی آواز کسی صورت نہیں روکیں گےکمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے۔تعلیم اور تربیت دونوں ضروری ہیں۔ تعلیم کے بغیر اندھیرا اور تربیت کے بغیر انسانیت نامکمل ہےدینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دینی مدارس صرف مولوی نہیں، دین کی تعلیم اور انسانی زندگی کی رہنمائی کرنے والے علماء پیدا کرتے ہیں۔علمائے دین انبیاء کے وارث ہیں، ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی ہے۔شریعت کا اولین تقاضا غلامی سے نجات اور جبر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے۔حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے قانون سازی کی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات آج تک نظرانداز کی جا رہی ہیںاسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اس کا اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام بھی ہےقرآن کا تصور آزادی، معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود ہےآج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہےانگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا۔