پاکستان میں میڈیا اور ٹیلی ویژن
بحران سے کیسے نکالا جائے؟ٹی وی کی جگہ کون لے گا؟
تحقیق تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
پاکستان میں میڈیا اور ٹیلی ویژن کی تاریخ، پالیسیوں اور صحافتی ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس شعبے نے معاشرے پر گہرے اور کثیر الجہتی اثرات مرتب کیے ہیں۔ کسی ایک یکطرفہ فیصلے پر پہنچنے کے بجائے، اگر حسب ذیل ان تینوں بنیادی سوالات کو تاریخی شواہد اور صحافتی اصولوں کے آئینے میں دیکھنا ضروری ہے۔
کیا ٹیلی ویژن نے پاکستان میں قومی یکجہتی کو مضبوط کیا یا علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کو مطلوبہ جگہ نہیں دی؟ کیا نجی چینلز نے عوامی مسائل کو زیادہ نمایاں کیا یا ریٹنگ کی دوڑ نے سنجیدہ صحافت کو متاثر کیا؟ کیا خبر اور تجزیے کے درمیان فرق ناظرین کے لیے واضح رہتا ہے؟ یہ سوالات کسی ایک ادارے کے حق یا مخالفت میں فیصلہ سنانے کے بجائے تاریخی ریکارڈ، پروگراموں، پالیسیوں اور صحافتی شواہد کی مدد سے جانچنے چاہییں۔آئیے انہی تینوں سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں
قومی یکجہتی بمقابلہ علاقائی زبانیں اور ثقافتیں
پاکستان میں ٹیلی ویژن (خاص طور پر پی ٹی وی کے ابتدائی دور) کی بنیادی پالیسی کا مرکز ایک قومی بیانیہ (National Narrative) بنانا تھا۔
قومی یکجہتی میں کردار: پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں مختلف صوبوں کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ‘خدا کی بستی’، ‘وارث’ اور ‘آنگن ٹیڑھا’ جیسے کلاسک ڈراموں نے پورے ملک کے ناظرین کو یکساں طور پر متاثر کیا۔ قومی تہواروں، کھیلوں کے مقابلوں اور 1965 و 1971 کی جنگوں کے دوران ٹیلی ویژن نے حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو ابھارنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مگر رفتہ رفتہ پالیسی بدلنے یا مقتدر شخصیات کی ایما پر پٹری بدلنے کے نتیجے میں پاکستان کے نظریے سے دور ہوتا چلا گیا مورخ نے کبھی اس کی وجہ ڈھونڈننے کی کوشش کی تو آئندہ نسلوں کو وہ المناک حقائق بھی مل جائیں گے کیوں کھلواڑ کیا گیا ملک ٹوٹنے تباہ برباد کرنے کے اسباب بھی سامنے آ جائیں گے کاش اپنے اقتدار اور طاقت کےلیے پاکستانیوں ایک قوم بننے سے نہ روکا جاتا اور دو قومی نظریئے کو فروغ دے کر ملک کو شریعت کا نظام دیا جاتا تو میڈیا بھی بگاڑ کا شکار نہ ہوتا
علاقائی زبانوں کو کم جگہ ملناکا پروپیگنڈہ اس شدت سے کر کے اسے قومی یکجہتی کی پالیسی کا ایک منفی پہلو بنا دیا گیا کیا چین جاپان انڈیا نے “واحد قوم، واحد زبان” کے تصور کے تحت ترقی نہیں کی جو اردو کو حد سے زیادہ ترجیح دینےکے پروپگنڈے کی بھینٹ چڑھا کر ملک بھی توڑ ڈالا۔ نتیجے میں سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی جیسی علاقائی زبانوں اور ان کی ثقافتوں کو وفاقی سطح پر نمائندگی کا بھوت سر چڑھ کر بولا ۔ پی ٹی وی نے علاقائی مراکزبھی قائم کردیے، اور انہیں قومی نشریات کا حصہ بھی بنا دیا۔ 2002 کے بعد نجی میڈیا کے آنے سے علاقائی چینلز (جیسے سندھی، پشتو اور پنجابی چینلز) نے عصبیت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کیا ۔
عوامی مسائل کی عکاسی بمقابلہ ریٹنگ کی دوڑ
2002 میں پیمرا (PEMRA) کے قیام اور نجی چینلز کی آمد نے پاکستانی صحافت کے ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا۔
عوامی مسائل کا نمایاں ہونا: نجی چینلز نے ریاستی سنسرشپ اور پی ٹی وی کی یکطرفہ سرکاری خبروں کے اجارہ دارانہ دور کا خاتمہ تو کیالیکن زیادہ مضبوطی نہ دکھا سکے ۔ نجی میڈیا نے سیلاب، زلزلوں اور دہشت گردی کے دوران براہِ راست کوریج کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ لاپتہ افراد، بجلی اور پانی کا بحران، کرپشن کے اسکینڈلز اور عام آدمی کی مشکلات کو نجی چینلز نے ٹاک شوز اور تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعے حکومتوں کے ایوانوں تک پہنچایا۔تاہم سرکاری اشتہارات اور کنٹرولڈ پالیسی نے نجی چینلز کی ان عوامی مسائل اجاگر کرنے کی کوششوں کو زیرو تک پہنچا دیا جو آزاد صحافت کو ختم کرنے کے مترادف ہے
ریٹنگ کی دوڑ اور سنجیدہ صحافت کا نقصان: نجی چینلز تجارتی ماڈل پر چلتے ہیں، جہاں اشتہارات کا دارومدار ‘پیپل میٹرز’ اور ‘ٹی آر پی (TRP)’ ریٹنگ پر ہوتا ہے۔ اس ریٹنگ کی دوڑ نے صحافت کو توجہ کی معیشت (Attention Economy) میں تبدیل کر دیا۔جس کا نقصان ذمے دار صحافت کو پہنچا۔
سنسنی خیزی (Sensationalism): خبروں کو بریکنگ نیوز کے ڈرامائی انداز میں پیش کرنا، معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر دکھانا، اور ٹاک شوز میں معزز بحث کے بجائے “سیاسی اکھاڑے” بنانا معمول بن گیا۔ اسے نئی جہت سے بھی تشبہ دی گئی۔
سنجیدہ موضوعات کی محرومی: ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم، صحت اور پسماندہ طبقات کے بنیادی مسائل جیسے سنجیدہ موضوعات پر طویل دستاویزی فلمیں یا گہری تحقیقاتی رپورٹس غائب ہو گئیں، کیونکہ ان کی ریٹنگ سیاسی گرما گرمی اور پروپیگنڈہ کے مقابلے میں کم آتی ہے۔
خبر اور تجزیے کے درمیان دھندلی لکیر
صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ “خبر مقدس ہے اور تبصرہ آزاد” (Facts are sacred, opinion is free)۔ لیکن پاکستانی ٹیلی ویژن پر یہ اصول بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ناظرین کے لیے مبہم فرق: موجودہ دور میں زیادہ تر چینلز پر خبر (News) اور تجزیے (Analysis) کے درمیان فرق ناظرین کے لیے بالکل واضح نہیں رہتا۔ خبروں کے بلیٹن میں بھی رپورٹرز اور نیوز اینکرز محض حقائق بیان کرنے کے بجائے اپنی یا سرکاری رائے شامل کرتے ہیں۔
ٹاک شوز کا غلبہ: شام 7 سے رات 11 بجے تک کے پرائم ٹائم شوز بنیادی طور پر ‘تجزیاتی شوز’ ہیں، لیکن انہیں اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ حتمی حقائق ہوں۔ عام ناظر، جو میڈیا کی تکنیکی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتا، وہ کسی تجزیہ کار یا اینکر کی ذاتی رائے اور سیاسی جھکاؤ کو “مستند خبر” سمجھ بیٹھتا ہے۔اور سرکاری پروپیگنڈے کا شکار ہو کر سچائی زمینی حقائق سے دور چلا جاتا ہے۔
انفوٹینمنٹ (Infotainment): خبر کو معلومات سے زیادہ تفریح یا مذاق بنا دینے کے رجحان نے بھی اس تفریق کو ختم کیا۔ اسکرین پر چلنے والی سرخیاں، پسِ منظر کی ڈرامائی موسیقی اور اینکرز کا جارحانہ انداز رائے اور حقیقت کو آپس میں خلط ملط کر دیتا ہے۔ اور ذہن تبدیل کر دئے جاتے ہیں۔
تاریخی شواہد اور صحافتی ریکارڈ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں ٹیلی ویژن نے جہاں قومی یکجہتی کا کمزور فریم ورک دیا اورمحدود عوامی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا، وہیں تجارتی مفادات، ریٹنگ کی ہوس اور ایک مخصوص بیانیے کی پالیسی نے قومی اور علاقائی زبانوں کو حاشیے پر دھکیلا اور سنجیدہ و معلوماتی صحافت کو بہت نقصان پہنچایا۔ آج کا ناظر معلومات کے سیلاب میں تو ہے، لیکن اسے جھوٹ ، رائے اور حقیقت کے درمیان فرق جاننے کے لیے شدید فکری چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان میں ٹیلی ویژن کے سفر، اس کے اثرات اور اس کے درپیش چیلنجز کا تفصیلی، تاریخی اور صحافتی جائزہ لیں تو حسب ذیل اہم پہلو سامنے آتے ہیں
قومی یکجہتی بمقابلہ علاقائی زبانیں اور ثقافتیں
پاکستان میں ٹیلی ویژن کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو اس کا آغاز 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کی شکل میں ایک ایسے دور میں ہوا جب ملک کو ایک مشترکہ قومی تشخص کی سخت ضرورت تھی۔جس پر سرکاری عدم توجہگی اپنی جگہ ہے لیکن محب وطن اور نظریاتی حلقوں نے بھی کمزوری دکھائی مضبوط دلیلوں سے پاکستانی قوم بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اس عمل نے فائدے نہیں پہنچائے، محرومیاں ہی پیدا کیں۔
قومی یکجہتی میں ٹیلی ویژن کا کلیدی کردار
مشترکہ سماجی اقدار کی ترویج: پی ٹی وی نے اپنے سنہری دور (1970 سے 1990 کی دہائی) میں ایسے شاہکار ڈرامے اور پروگرام پیش کیے جنہوں نے ملک کے چاروں صوبوں کے عوام کو ٹی وی اسکرین کے سامنے ایک ساتھ بٹھا دیا۔ ‘وارث’ (پنجاب کا پس منظر)، ‘دیواریں’ (سندھ کا جاگیردارانہ نظام)، ‘پلاؤ’ (خیبر پختونخوا کی ثقافت) اور ‘دھواں’ جیسے ڈراموں نے مختلف ثقافتوں کو ایک دوسرے کے سامنے متعارف کروایا اور ہمدردی کا رشتہ پیدا کیا۔
بحران اور جنگوں میں قوم کو متحد کرنا: 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں، یا ملک میں آنے والے بڑے قدرتی حادثات (جیسے 2005 کا زلزلہ اور مختلف سیلاب)، ٹیلی ویژن نے قومی یکجہتی، امدادی سرگرمیوں اور حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک وفاقی پل کا کام کیا۔
کھیل اور تفریح کے ذریعے یگانگت: کرکٹ، ہاکی اور اسکوائش کے بین الاقوامی مقابلوں کی لائیو نشریات نے پورے پاکستان کو ایک پرچم تلے متحد کرنے میں جادوئی کردار ادا کیا۔ جب پاکستان میچ جیتتا تو کراچی سے گلگت تک خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔انڈیا سے جیت یا ہار کا الگ منظر ہوتا۔
ثقافتی سٹیریوٹائپنگ (Stereotyping): طویل عرصے تک مرکزی نشریات میں علاقائی کرداروں کو صرف مخصوص اور روایتی سانچوں میں دکھایا گیا۔ مثلاً، کسی پشتون کردار کو صرف چوکیدار یا خان صاحب کے مزاحیہ انداز میں پیش کرنا، یا بلوچی و سندھی کرداروں کو صرف وڈیروں اور مظلوم ہاریوں تک محدود رکھنا۔ اس سے گہرائی پر مبنی ثقافتی تفہیم پیدا نہیں ہو سکی۔
نجی میڈیا کا جزوی حل: 2002 کے بعد جب نجی چینلز (جیسے خیبر ٹی وی، کے ٹی این، دھوم، اپنا ٹی وی) آئے، تو علاقائی زبانوں کو اپنی اسکرینز ملیں اور یہ چینلز صوبوں تک محدود رہ گئے۔
عوامی مسائل کی عکاسی بمقابلہ ریٹنگ کی دوڑ
سنہ 2002 میں صدر پرویز مشرف کے دور میں پیمرا (PEMRA) آرڈیننس کے تحت نجی چینلز کو لائسنس دیے گئے۔ اس سے پاکستانی صحافت میں ایک بہت بڑا انقلاب آیا، جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو یکساں طور پر گہرے ہیں۔
عوامی مسائل کی عکاسی اور آزادیِ اظہار
ریاستی اجارہ داری کا خاتمہ: نجی میڈیا کے آنے سے پہلے صرف سرکاری بیانیہ عوام تک پہنچتا تھا جسے طنزیہ طور پر “سب اچھا ہے” کی رپورٹ کہا جاتا تھا۔ نجی چینلز نے حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر تنقید شروع کی، جس سے عوام کو احساس ہوا کہ ان کی آواز سنی جا تی ہے۔لیکن اسے بھی قوانین بدل کر اور کنٹرول کرکے نہ ہونے کے برابر کم کر دیا گیا ہے۔
براہِ راست کوریج اور دباؤ: نجی میڈیا نے مہنگائی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، گندم اور چینی کے بحران، اور ہسپتالوں کی ناقص صورتحال پر محدود پیمانے اور سرکاری پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے ہی لائیو اور تحقیقاتی رپورٹس پیش کیں۔ جس پر ضلعی انتظامیہ اور حکومت کا فوری ری ایکشن دیکھنے میں بھی آیا ۔
سماجی آگاہی مہم: پولیو کے خاتمے، عورتوں کے حقوق، گھریلو تشدد کے خلاف قوانین اور سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے نجی میڈیا نے فنڈز جمع کیے اور شعور بیدار کیا۔
ریٹنگ کی دوڑ اور سنجیدہ صحافت کا زوال
ٹی آر پی (TRP) کا تجارتی دباؤ: نجی چینلز کوئی فلاحی ادارے نہیں ہیں، وہ اشتہارات پر چلتے ہیں۔ اشتہارات کا فیصلہ ‘پیپل میٹرز’ کی ریٹنگ کرتی ہے۔ اس تجارتی ماڈل نے صحافت کو بزنس بنا دیا۔
سنسنی خیزی (Sensationalism) اور بریکنگ نیوز کا کلچر: ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے خبروں کو دھماکے دار پس منظر کی موسیقی، لال رنگ کی بڑی پٹیوں (لوپ) اور چیختی ہوئی آوازوں کے ساتھ پیش کیا جانے لگا۔ ایک عام سڑک کے حادثے یا گھریلو جھگڑے کو بھی ملک کا سب سے بڑا بحران بنا کر دکھایا جاتا ہے۔
سنجیدہ موضوعات کا بائیکاٹ: چونکہ ریٹنگ زیادہ تر سیاسی لڑائی جھگڑوں، عدالتوں کے باہر ہنگاموں اور فلمی دنیا کی گپ شپ سے آتی ہے، اس لیے چینلز نے سنجیدہ موضوعات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ آج پاکستانی میڈیا پر آپ کو تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change)، زراعت، اور غربت کے خاتمے پر کوئی مستقل یا گہرا پروگرام نظر نہیں آئے گا، کیونکہ ان موضوعات کی ریٹنگ نہیں آتی۔
خبر اور تجزیے کے درمیان دھندلی لکیر
صحافت کا سب سے بڑا ستون یہ ہے کہ ناظرین کو حقائق (Facts) بالکل غیر جانبدارانہ انداز میں فراہم کیے جائیں اور اگر کوئی تجزیہ (Opinion) پیش کیا جا رہا ہو، تو واضح کیا جائے کہ یہ کسی شخص کی ذاتی رائے ہے۔ پاکستانی میڈیا میں یہ لکیر تقریباً مٹ چکی ہے۔
خبروں میں رائے کی آمیزش (Opinionated News)
نیوز اینکرز کا کردار: اب نیوز بلٹن صرف خبر پڑھنے تک محدود نہیں رہا۔ نیوز اینکرز خبر پڑھتے ہوئے اپنے چہرے کے تاثرات، آواز کے اتار چڑھاؤ اور طنزیہ جملوں کے ذریعے ناظرین کو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی سیاسی جماعت یا شخصیت “اچھی” ہے اور کون سی “بری”۔
سرخیوں (Headlines) کی زبان: چینلز کی سرخیاں اب خالص خبر نہیں ہوتیں بلکہ ان میں ڈرامائی اور ادبی جملے استعمال کر کے ایک خاص سیاسی بیانیہ (Narrative) بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ٹاک شوز کا غلبہ اور “انفوٹینمنٹ”
پرائم ٹائم کا بحران: روزانہ رات 7 سے 11 بجے تک تمام بڑے چینلز پر ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ ان شوز کا مقصد کسی مسئلے کا حل نکالنا یا گہرا تجزیہ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بلا کر ان کے درمیان بحث اور تکرار کروانا، اشتہارات لیناہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کی ساکھ کا سوال: بہت سے ٹاک شوز میں بیٹھنے والے “تجزیہ کار” درحقیقت کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا نظریے کے حامی ہوتے ہیں، لیکن وہ خود کو آزاد تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عام ناظر، جو معلومات کی باریکیوں کو نہیں سمجھتا، ان کی ذاتی یا جانبدارانہ رائے کو آخری سچ اور “مستند خبر” مان لیتا ہے۔
حقائق کی پڑتال (Fact-Checking) کا فقدان: سوشل میڈیا کے اس دور میں ٹی وی چینلز اکثر ٹویٹس یا انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز کو بغیر کسی تصدیق کے اپنے شوز کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ جب بعد میں وہ خبر جھوٹی ثابت ہوتی ہے، تو ناظرین کا میڈیا پر سے اعتماد مزید اٹھ جاتا ہے۔
پاکستانی ٹیلی ویژن کا ارتقا تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ اس نے پاکستان کو آزادیِ اظہار دی، عام آدمی کو زبان دی اور حکمرانوں کو جوابدہ بنایا، لیکن دوسری طرف سرمائے کی چمک، ریٹنگ کے جنون اور گہرے سیاسی جھکاؤ نے اس کی ساکھ اور اخلاقی معیار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج کا پاکستانی ناظر معلومات کی کثرت کے باوجود سچی خبر اور غیر جانبدارانہ تجزیے کے لیے تڑپ رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل صحافت
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل صحافت کے طوفان نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے روایتی میڈیا (ٹی وی اور اخبارات) کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آیئے موجودہ دور میں میڈیا انڈسٹری کے سب سے بڑے سچ اور چیلنجز تلاش کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور یوٹیوب جرنلزم کے ٹی وی چینلز پر اثرات
یوٹیوب، فیس بک، ایکس (ٹویٹر) اور ٹک ٹاک کے آنے سے پاکستانی ٹی وی چینلز کا پورا بزنس ماڈل اور ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے:
مخاطبین (Audience) کی منتقلی: نوجوان نسل اب ٹی وی اسکرین کے سامنے نہیں بیٹھتی۔ وہ اپنی پسند کی خبریں اور تجزیے موبائل فون پر سمارٹ کلپس کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ ٹی وی کا ناظر بوڑھا ہو رہا ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کا ناظر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اشتہارات کا رخ بدلنا (Financial Crisis): ماضی میں کارپوریٹ کمپنیوں (موبائل نیٹ ورکس، بینکوں، کنزیومر گڈز) کے اربوں روپے کے اشتہارات کا رخ ٹی وی چینلز کی طرف ہوتا تھا۔ اب یہ اشتہارات گوگل، فیس بک اور یوٹیوب کے ڈیجیٹل اشتہارات کی طرف شفٹ ہو چکے ہیں، جس سے ٹی وی چینلز شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔
بریکنگ نیوز کا خاتمہ: اب کوئی بھی خبر سب سے پہلے سوشل میڈیا پر بریک ہوتی ہے۔ ٹی وی چینلز اب خبر دینے والے نہیں رہے، بلکہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں کو اٹھا کر اپنے اسکرین پر چلاتے ہیں۔فیک نیوز کی بھرمار ہے پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا ہے
انفرادی صحافت (Independent Journalism) کا عروج: ٹی وی کے بڑے بڑے اینکرز اور صحافیوں نے چینلز کی پالیسیوں اور سنسرشپ سے تنگ آ کر اپنے یوٹیوب چینلز بنا لیے ہیں۔ ان کے یوٹیوب ویوز اور اثر و رسوخ اکثر اوقات پورے ٹی وی چینل کی ریٹنگ سے زیادہ ہوتا ہے۔
پاکستانی میڈیا کو بحران سے کیسے نکالا جائے؟ (تجاویز)
پاکستانی میڈیا کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے روایتی سوچ کو بدلنا ہوگا:
سبسکرپشن ماڈل (Paywalls): چینلز کو صرف اشتہارات پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی معیاری اور تحقیقاتی صحافت کے لیے ‘پے وال’ یا سبسکرپشن ماڈل متعارف کروانا ہوگا جہاں ناظرین سچی خبر کے لیے خود ادائیگی کریں۔جھوٹ یا پروپیگنڈہ ظاہر ہونے پر صارف خود ہی چینل چھوڑ کر چلا جائے گا چینلز کو صارف کی پیمنٹ طاقت بھی زیر غور رکھنا ہو گی اسمارٹ فون جہاں امیروں کے لیے آسائش ہے وہاں متوسط لوگوں کی ضرورت بھی ہے آن لائن بینکنگ نے بھی موبائل کی ضرورت کو اہم بنا دیا ہے۔
کوالٹی اور ڈیجیٹل فرسٹ پالیسی: ٹی وی چینلز کو سنسنی خیز ٹاک شوز کے بجائے گہری تحقیقاتی رپورٹس، دستاویزی فلموں (Documentaries) اور ڈیٹا جرنلزم پر توجہ دینی ہوگی جو سوشل میڈیا پر آسانی سے دستیاب نہ ہو۔
ریٹنگ کے نظام (TRP) کی اصلاح: پاکستان میں ریٹنگ ماڈل (پیپل میٹرز) انتہائی محدود اور پرانا ہے۔ پیمرا اور میڈیا مالکان کو مل کر ایک ایسا شفاف نظام بنانا چاہیے جو صرف سنسنی خیزی کو نہیں بلکہ معیاری مواد اور سچائی کو بھی کریڈٹ دے۔
میڈیا مالکان کی اجارہ داری کا خاتمہ: میڈیا کو صرف ایک بزنس یا سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک پیشہ ورانہ صنعت کے طور پر چلایا جائے، جہاں فیصلے مارکیٹنگ مینیجرز نہیں بلکہ ایڈیٹرز کریں۔
بین الاقوامی موازنہ: کیا دیگر ممالک بھی بحران کا شکار ہیں؟
میڈیا کا یہ بحران عالمی ہے، لیکن مختلف ممالک نے اپنی معیشت اور پالیسیوں کے مطابق اس کا سامنا مختلف انداز میں کیا ہے:
+——————+————————————+————————————+————————————+
| ملک | بحران کی نوعیت | حکومتی/اداروں کے اقدامات | ورکرز کی صورتحال (خوشحال/بدحال) |
+——————+————————————+————————————+————————————+
| برطانیہ (UK) | روایتی ٹی وی کے ناظرین کم ہوئے | BBC کو پبلک فنڈنگ (لائسنس فیس) ملی | ورکرز نسبتاً خوشحال ہیں، مضبوط |
| | لیکن ڈیجیٹل شفٹ کامیاب رہا۔ | ہے؛ اخبارات ڈیجیٹل سبسکرپشن پر چلے| یونینز اور قوانین موجود ہیں۔ |
+——————+————————————+————————————+————————————+
| بھارت (India) | شدید کارپوریٹ کنٹرول، گودی میڈیا | بڑے کاروباری گروپس نے چینلز خرید | بڑے اینکرز ارب پتی ہیں، لیکن نچلے |
| | کا عروج، ساکھ کا شدید بحران۔ | لیے؛ آزاد صحافی یوٹیوب پر منتقل۔ | درجے کے رپورٹرز معاشی دباؤ کا شکار|
+——————+————————————+————————————+————————————+
| روس (Russia) | ریاست کا سخت کنٹرول؛ آزاد اور نجی | حکومت سرکاری میڈیا کو بھاری فنڈنگ | سرکاری ملازمین خوشحال ہیں؛ آزاد |
| | میڈیا کے لیے بقا ناممکن ہو گئی۔ | دیتی ہے؛ بیرونی فنڈڈ میڈیا پر پابندی| صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ |
+——————+————————————+————————————+————————————+
| ایران (Iran) | مکمل ریاستی کنٹرول (Sada va Sima); | سیٹلائٹ ٹی وی پر پابندیاں؛ سرکاری | ریاستی میڈیا کے ملازمین مستحکم ہیں|
| | عوام کا متبادل ذرائع پر انحصار۔ | نیٹ ورک کو حکومت خود چلاتی ہے۔ | لیکن آزاد صحافت کا وجود نہیں۔ |
+——————+————————————+————————————+————————————+
یوکے (UK): برطانیہ نے اپنے میڈیا کو تباہی سے بچانے کے لیے پبلک فنڈنگ اور سبسکرپشن کا ماڈل اپنایا۔ بی بی سی (BBC) کو برطانوی عوام کی طرف سے دیے جانے والے ٹی وی لائسنس ٹیکس سے فنڈ کیا جاتا ہے، اس لیے وہ ریٹنگ کی دوڑ سے آزاد ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) جیسے اخبارات نے قارئین کے عطیات اور ڈیجیٹل سبسکرپشن کے ذریعے خود کو مالی طور پر مستحکم کیا۔ وہاں صحافی اور ورکرز مضبوط لیبر قوانین کی وجہ سے محفوظ اور خوشحال ہیں۔
انڈیا: بھارت کا میڈیا مالی بحران سے زیادہ ساکھ کے بحران کا شکار ہے۔ وہاں ٹی وی میڈیا پر بڑے کارپوریٹ گھرانوں کا قبضہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سنجیدہ صحافت ختم ہو گئی اور “گودی میڈیا” (ریاست نواز میڈیا) کا اصطلاح سامنے آئی۔ وہاں نچلے درجے کے ورکرز معاشی بدحالی کا شکار ہیں جبکہ بڑے سٹار اینکرز کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ اس کے ردعمل میں وہاں “دی وائر” اور “نیوز لانڈری” جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوام کے پیسوں سے آزاد صحافت کر رہے ہیں۔
روس اور ایران: ان ممالک میں میڈیا کا ماڈل مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں ہے۔ وہاں تجارتی بحران اس لیے نہیں ہے کیونکہ حکومت خود میڈیا کو فنڈ کرتی ہے، لیکن وہاں آزاد صحافت کا بحران ہے۔ ورکرز اگر سرکاری بیانیے کے ساتھ چلیں تو خوشحال ہیں، ورنہ انہیں سخت سنسرشپ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستانی میڈیا ورکرز کی حالت: بدحال یا خوشحال؟
پاکستان میں میڈیا ورکرز (کیمرہ مین، ویڈیو ایڈیٹرز، ڈیسک اسٹاف، اور فیلڈ رپورٹرز) اس وقت شدید ترین معاشی بدحالی کا شکار ہیں:
تنخواہوں میں تاخیر اور کٹوتیاں: نجی چینلز میں کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں ملتیں اور جب مالی بحران آتا ہے تو سب سے پہلے نچلے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے 40 فیصد تک کٹوتی کر دی جاتی ہے۔
نوکریوں کی عدم تحفظ (Layoffs): پچھلے چند برسوں میں ہزاروں میڈیا ورکرز کو بغیر کسی نوٹس کے نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔
اسٹار اینکرز بمقابلہ عام ورکر: میڈیا انڈسٹری میں شدید طبقاتی تقسیم ہے۔ ایک طرف چند چوٹی کے اینکرز ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہ اور گاڑیاں لیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ کیمرہ مین یا ڈیسک رائٹر ہے جسے چند ہزار روپے بھی وقت پر نہیں ملتے۔
ٹی وی کی جگہ کون لے گا؟
مستقبل روایتی لائیو ٹی وی کا نہیں ہے۔ ٹی وی اسکرین کی جگہ درج ذیل ٹیکنالوجیز اور ماڈلز لے رہے ہیں:
کنیکٹڈ ٹی وی اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز (Connected TV & OTT): سمارٹ ٹی وی پر اب ناظرین کیبل نیٹ ورک کے بجائے نیٹ فلکس، یوٹیوب، اور مقامی اسٹریمنگ ایپس چلاتے ہیں۔ اسکرین بڑی ہوگی لیکن مواد انٹرنیٹ کا ہوگا۔
سوشل ویڈیو نیٹ ورکس (Short-form Video): ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز، اور یوٹیوب شارٹس خبروں کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ مستقبل میں 60 سیکنڈ کی ویڈیو ہی خبر کا معیار ہوگی۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور پرسنلائزڈ نیوز فیڈز: اے آئی (AI) نیوز اینکرز اور پرسنلائزڈ فیڈز کے ذریعے ناظرین کو صرف وہی خبریں دکھائی جائیں گی جن میں ان کی ذاتی دلچسپی ہوگی۔ تاشقند یا نیویارک کی خبروں کے بجائے آپ کو اپنے محلے اور شہر کی خبریں زیادہ موصول ہوں گی۔
