رمضان المبارک کے آخری عشرے اور عید پر گیس کی شدید قلت کا خدشہ

رمضان المبارک کے آخری عشرے اور عید پر گیس کی شدید قلت کا خدشہ، جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی، گیس کی قلت کے باعث گیس لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضافے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بتایاہے کہ جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی۔
ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطرگیس نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق مارچ کے لیے قطر سے 8 ایل این جی کارگوز آنے تھے، صرف 2 ہی آئے، ایل این جی کے بقیہ 6کارگو 7-11-12-16-20اور 21 مارچ کو آنے تھے۔ذرائع نے بتایاکہ پاکستان کو موجود ایل این جی کی لوڈ منیجمنٹ کرنی پڑیگی، 20سی21مارچ تک لوڈ منیجمنٹ کرکے ایل این جی دستیاب رہ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں صنعتی سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کو ایل این جی سپلائی متاثر ہوگی۔دوسری جانب وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قطر سے ایل این جی آنی ہے اور وہ قطر سے ہی آئیگی تاہم فیول کے متبادل آپشنز ضرور موجود ہیں۔جام کمال نے کہا کہ برآمدات اور درآمدات کی ذمہ داری شپنگ لائنز کی ہے، انہیں ذمہ داری پوری کرناہوگی۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ کنٹینرز کے رسک انشورنس اور دیگر اخراجات کے باعث کچھ منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، پورا خطہ متاثر ہوا ہے، یہ ریجن ٹریڈ اور انرجی سپلائی کا اہم روٹ ہے، خلیجی ممالک سے انرجی وسائل پر انحصار رکھنے والے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔جام کمال نے کہا کہ اس ریجن میں گڈز اور شپمنٹ کو پہلے کافی سہولت حاصل تھی، انشورنس اور لاجسٹک اخراجات میں اضافے کے اثرات اب نظرآنا شروع ہوگئے ہیں،کچھ چیزوں کے متبادل انتظامات ممکن ہیں، تاہم کچھ معاملات ہمارے اختیار میں نہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسیمع خان نے انکشاف کیا ہے ملک میں پیٹرول کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے ۔ مختلف پیٹرول پمپس پر قلت ہونا شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے، اس سے غریب، موٹر سائیکل سوار طبقہ شدید متاثر ہوگا۔
آئی جی سندھ پیٹرول پمپس کی سیکیورٹی یقینی بنائیں ۔ عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ لوگ بڑی مقدار میں پیٹرول پمپوں سے پیٹرول کی خریداری کر رہے ہیں ۔ حکومت پیٹرولیم کے ذخائر کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے۔ ڈیلرز کو اس کی اوسطاً سیل سے 50 فیصد کم پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں، پیٹرول پمپوں پر جھگڑے شروع ہوگئے ہیں ۔
کل ہم پر الزام عائد نہ کیا جائے کہ ہم گڑ بڑ کررہے ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس اور لیوی فوری ختم کی جائے۔ حکومت سے بات کرتے ہیں تو وہ کمیٹی بنا دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کرنے جارہی ہے ۔ ہم اتنا مہنگا پیٹرول نہیں دے سکتے یا تو ہم پیٹرول پمپس بند کردیں ۔ شہر کے متعدد پیٹرول پمپس ڈرائی ہورہے ہیں ۔ اس صورتحال میں امن و امان کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔