اسلام آباد : امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آج سے رابطہ عوام اور ممبرشپ مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ آئندہ 20 دنوں میں ایک لاکھ افراد کو جماعت اسلامی کا ممبر بنایا جائے گا، جن میں 50 ہزار خواتین اور 50 ہزار مرد شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد کے ہر سیکٹر، محلے اور گھر گھر جا کر لوگوں کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنائے گی تاکہ عوام کو منظم کرکے ان کے حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز اٹھائی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اسلامی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل زبیر صفدر، نائب امیر ملک عبدالعزیز، سیکرٹری اطلاعات عامر بلوچ امیر زون تحسین احمد خالد بھی موجود تھے۔
نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد اس وقت شدید مسائل کا شکار ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے شہر مختلف پابندیوں اور سیکیورٹی انتظامات کے باعث متاثر ہے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ میٹرو اور دیگر ٹرانسپورٹ سروسز کی بندش سے عوام کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جبکہ بین الاضلاع اور گڈز ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث اشیائے ضروریہ کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی میٹریل کی فراہمی متاثر ہونے سے ترقیاتی کام بھی بند پڑے ہیں اور شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد کے عوام کے مسائل کا واحد اور مؤثر حل بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مختلف حیلوں بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کر رہی ہے، جس کے باعث شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بغیر وفاقی دارالحکومت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اور عوام کو ان کا حق دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی دگنی ہو چکی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ سولر سسٹم اور سورج کی روشنی کے استعمال پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جو عوام پر مزید معاشی بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں کی سیکیورٹی ضروری ہے، مگر اس کی آڑ میں پورے اسلام آباد کو بند کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
