لاہور اور شیخوپورہ کے علاقوں، بالخصوص کالا شاہ کاکو اور شیخوپورہ روڈ پر مزدوروں نے پنجاب لیبر کوڈ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کی قیادت نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے کی۔ اس موقع پر امین منہاس، حاجی انصر محمود، رانا عابد سمیت دیگر مزدور رہنماؤں نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ پنجاب لیبر کوڈ مزدوروں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے، اسی لیے مزدور تنظیمیں اسے مکمل طور پر مسترد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کوڈ میں مستقل ملازمتوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور ٹھیکیداری نظام کو قانونی شکل دے دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مزدوروں کا روزگار غیر محفوظ ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کے تحت مزدور یونینوں اور سی بی اے (Collective Bargaining Agent) کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے، جو کہ مزدوروں کی اجتماعی نمائندگی اور حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی جیسے اہم معاملات، جن کی ذمہ داری حکومت اور فیکٹری مالکان پر ہونی چاہیے، انہیں ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مزدوروں کی جان و صحت کے تحفظ کے معاملات مزید کمزور ہو جائیں گے۔ شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے مزدوروں سے ہڑتال کا قانونی حق بھی چھین لیا گیا ہے، جبکہ لیبر کورٹس کے اختیارات میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے انتظامیہ کو ایسے اختیارات دے دیے گئے ہیں جو دراصل ججز کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزدور تنظیمیں اس لیبر کوڈ کو یکسر مسترد کرتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ فوری طور پر پنجاب لیبر کوڈ میں شامل مزدور دشمن دفعات کو ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 میں ہی تمام مزدور فیڈریشنوں نے اس مجوزہ قانون کو مسترد کر دیا تھا اور نیشنل لیبر فیڈریشن نے اس کے خلاف ملک بھر میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔
شمس الرحمٰن سواتی کے مطابق ان احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں حکومت نے نیشنل لیبر فیڈریشن سے وعدہ کیا تھا کہ اس قانون کو باقاعدہ مشاورت اور سہ فریقی (Consultative) عمل سے گزارا جائے گا اور بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO) کے کنوینشنز کی پاسداری کرتے ہوئے مزدوروں کی سب سے بڑی نمائندہ فیڈریشن سے مشورہ کیے بغیر اسے قانون کا درجہ نہیں دیا جائے گا۔ تاہم، ان کے بقول حکومت نے اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تمام جمہوری روایات اور اقدار کو نظر انداز کر دیا اور چند ہی سیکنڈوں میں اس قانون کو اسمبلی سے منظور کرا لیا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل نے نہ صرف مزدوروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ جمہوری اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح قانون سازی کرنا جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ کے مترادف ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر اس قانون پر نظرثانی کی جائے اور مزدور تنظیموں کو اعتماد میں لے کر ایسا لیبر فریم ورک تشکیل دیا جائے جو محنت کش طبقے کے مفادات کا حقیقی محافظ ہو
