نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے لاہور عوامی افطار پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں امریکہ، اسرائیل کو تیسری مرتبہ ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔ استعماری قوتوں کا جنگ مُسلط کرکے ریجیم چینج کا اقدام انتہائی شرمناک اور پوری دُنیا کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ فراڈ کی بنیاد پر قائم امریکہ کی یک محوری طاقت کو پوری دُنیا کو مُتّحِد ہوکر ختم کرنا ہوگا۔ افغان طالبان قیادت پاک افغان عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کریں۔ خِطّہ میں امن و استحکام کے لئے پاکستان، ایران، افغانستان کے پائیدار، بااعتماد، باہمی احترام اور وقار پر مبنی تعلقات ناگزیر ہیں۔ ماہِ رمضان پوری اُمت کو قرآن و سُنت کی بُنیاد پر متحد ہونے کا درس دیتا ہے۔ میدانِ بدر میں خاتم الانبیاء صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی سپہ سالاری میں اہل ایمان مُتّحِد ہوکر کفر کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے عظیم الشان فتح سے نوازا۔امریکہ، اسرائیل اور استعماری قوتوں کے مقابلہ میں عالم اسلام کا اِتحاد ناگزیر ہے، وگرنہ ہر اسلامی ملک استعمار کے لئے آسان شکار بنتا جائےگا۔ مسلم ممالک میں امریکی فوجی اڈے خود اِن ممالک کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ جنگ مُسلط کرکے امریکی فوج خود ان ممالک سے بھاگ گئی ہے۔
لیاقت بلوچ سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور مُلکی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔ لیاقت بلوچ نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور اسلام آباد میں تحریکِ تحفّظ آئینِ پاکستان کے رہنما مصطفٰی نواز کھوکھر سے ملاقات اور باہم اتفاق کیا کہ مُلک اِس وقت سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کو درپیش خطرات کی وجہ سے بدترین بحرانوں سے دوچار ہے، مُلک کو اِن تہہ در تہہ بحرانوں سے نجات دلانے کے لئے جمہوری قوتوں کو قومی کردار اور قومی ترجیحات پر ایک مؤقف اپنانا ہوگا۔ آئین، جمہوریت، پارلیمانی، انسانی حقوق کو حقیقی خطرات لاحق ہیں۔ عوام کے لئے اقتصادی بحران جان لیوا بن گیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صرف طاقت کا استعمال اور غیراعلانیہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ حکومت اور ریاست کو دہشت گردی کے خاتمہ، پاک ایران افغان بارڈر پر بڑھتے ہوئے شدید ترین خطرات کے خاتمہ کے لئے قومی اتفاقِ رائے، برداشت اور سیاسی حل کا راستہ نکالنا ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب لاہور اور پنجاب کو جدید اور خوبصورت بنانے کا دعویٰ کررہی ہیں، کیا انہیں نہیں معلوم کہ پنجاب کے عوام آج بھی بااختیار بلدیاتی نظام سے محروم ہیں، پولیس کلچر عوام کی تذلیل کا ذریعہ بن گئے ہیں، تمام سرکاری محکمے عوام کو لوٹنے، کاروبار کو تباہ کرنے کے اندھے اختیار کے مراکز بن گئے ہیں، پنجاب میں سیاسی برداشت اور سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالنے کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔ پنجاب کے خِلاف دیگر صوبوں میں نفرتوں کے سدباب کے لئے حقیقی اور متفقہ اقدامات ضروری ہیں وگرنہ صرف دعوؤں سے پنجاب اچھا نہیں ہوگا۔#
