مِلتِ اسلامیہ کا انتشار اسلاموفوبیا کے فتنہ کو فروغ دے رہا ہے۔

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے اوورسیز پاکستانیز کے اعزاز میں افطار ڈنر اور منصورہ میں سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا کا تدارک مسلم ممالک میں قرآن و سُنت کی روشنی میں بابرکت اسلامی نظام کے نفاذ اور خود مسلمان اپنے اعمال، عِلم، مہارت اور برداشت و اخلاق کی برتری سے ممکن ہے۔ مِلتِ اسلامیہ کا انتشار اسلاموفوبیا کے فتنہ کو فروغ دے رہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ صدر ٹرمپ مکمل طور پر صیہونیت کے قبضہ میں ہیں اور امریکہ کے لئے رُسوائی اور تباہی لارہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی سائبر ٹیکنالوجی نے جنگوں کو آسان اور ہمہ گیر خطرات کا باعث بنادیا ہے۔ دُنیا پر ناجائز بنیادوں پر مسلّط جنگوں کے خاتمہ کے لئے اقوامِ متحدہ کا ادارہ سکیورٹی کونسل کردار ادا کرسکتا ہے، بشرطیکہ کوئی بھی ویٹو کا حق استعمال نہ کرے اور انصاف کی بنیاد پر عالمی امن بحال کیا جائے، وگرنہ اقتصادی تباہی مشرق و مغرب کے عوام کو شدید متاثر کرے گی۔
لیاقت بلوچ نے افغان اُمور کے ماہر اور انسٹی ٹیوٹ آف دریجنل اسٹڈیز پشاور کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اُن کے پاک-افغان تعلقات کی کشیدگی اور سرحدی علاقوں میں حالات کی ابتری پر متوازن ریڈیو پروگرام کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی اور جنگی صورتِ حال کے بڑھتے خطرات میں چین کا مصالحتی کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان کے حکمران امریکی غلامی سے آزادی حاصل کریں، خطہ میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے مستحکم تعلقات کی اہمیت کو تینوں ملک تسلیم کریں اور مِل بیٹھ کر امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کے خوفناک سازشی و جنگی عزائم کو ناکام بنائیں۔ اب یہ حقیقت دُنیا اور امریکیوں پر عیاں ہوگئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی ایماء پر ایران کے خلاف جارحیت کرکے گریٹ وار بلنڈر کیا ہے۔ ایران کو اپنے دفاع کے لئے ہر اُس مورچہ پر جوابی حملے کا حق حاصل ہے جہاں سے اُس پر وار ہوتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے تقریب میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا اب اپنا کوئی سیاسی وجود باقی نہیں رہا، ایم کیو ایم ہر ذلّت کے ساتھ اِسی تنخواہ پر کام جاری رکھے گی۔ سیاسی عدم وجود کی بقاء صرف اور صرف اقتدار کی غلام گردشوں میں ہی ممکن ہے۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم کا نیا قرب سندھ کے عوام کے خلاف گٹھ جوڑ ہے۔ اِس سے کراچی کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، کراچی کے عوام اب ہر سازشی حصار کو توڑنے کے لئے متحد اور متحرک ہیں