فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنانے پر مبنی مسوّدہ قانون پر رائے شماری کی تیاریاں

اسرائیلی پارلیمنٹ، مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنانے پر مبنی مسوّدہ قانون پر رائے شماری کی تیاریاں کر رہی ہے۔

پارلیمنٹ نے، موسمِ بہار کی تعطیلات سے چند روز قبل، آج بروز سوموار سے مسّودے پر بحث شروع کر دی ہے۔ اس بل کی منظوری اسرائیلوں کے خلاف ارتکابِ جُرم کرنے والے فلسطینیوں کے لئے شدید ترین سزاوں کا مطالبہ کرنے والے انتہائی دائیں بازو کی سالوں پر محیط کوششوں کا نقطہ عروج اور قانونی تجویز پیش کرنے والی دینی پارٹی کے لیڈر اور اسرئیل کے انتہائی متعصب وزیرِ دفاع ایتمار بن گویر کی فتح تصور کی جائے گی۔

مسّودہ قانون کے مخالفین اسے نسل پرستانہ اور سخت گیرقانون قرار دیتے ہیں۔ قانون کی رُوسے سزائے موت 30 دن کے اندر نافذ ہو جائے گی۔ تاہم توقع ہے کہ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اس مسّودہ قانون کے خلاف اسرائیل کی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کروائیں گی۔

مسّودہ بِل پر رائے شماری کی تیاریوں کے دوران بن گویر نے اپنے کوٹ کی کالر پر پھندے کا بروش لگا کر اس اقدام کو مقبول بنایا اور قانون کی منظوری کی صورت میں سزائے موت کے طریقے کا کھُلا اشارہ دیا۔

ایک بیان میں بن گویر نے بِل کو حالیہ سالوں کا “اہم ترین قانون” قرار دیا اور کہا ہے کہ “خدا کی مدد سے، ہم اس قانون کو پوری طرح نافذ کریں گے اور اپنے دشمنوں کو ماریں گے”۔

بن گویر کی جماعت وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی زیرِ قیادت حکومتی اتحاد کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔

بل میں کیا کیا شامل ہے؟

مسّودہ بِل پر تنقید کرنے والوں میں اسرائیلی اور فلسطینی افراد، حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون کے اسرائیلی عدالتی نظاموں کے درمیان ایک درجہ بندی قائم کرنے کی وجہ سے موت کی سزا بنیادی طور پر فلسطینی قیدیوں تک محدود رہے گی۔