خادم حرمین شریفین کی جرات کو سلام

خادم حرمین شریفین کی جرات کو سلام
کیا اپ سمجھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ انجینیئر افتخار چودری نے خادم حرمین شریفین کو مکہ میں پکار کر کہا کہ ایک پاکستانی اپ سے محبت کرتا ہے اور اپ کو سلام پیش کرنا چاہتا ہے؟اور کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپ کو سلام پیش کرتی ہے
اس کے جواب میں 2004 میں انہوں نے فرمایا ہم بھی پاکستانیوں سے بہت پیار کرتے ہیں
انجینیئر افتخار چودھری صرف کسی کمپنی کا مینجر سروس ہی نہیں تھا وہ پاکستانیوں کا سفیر تھا
باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

یہ زمانہ عجب رنگ لیے ہوئے ہے کہ جہاں الفاظ محض آواز نہیں رہتے بلکہ تاریخ کے اوراق پر نقش ہو جاتے ہیں۔ جب Donald Trump جیسے شخص کے لبوں سے کوئی جملہ نکلے اور وہ محمد بن سلمان کے بارے میں ہو، تو وہ محض ایک بیان نہیں رہتا بلکہ ایک اعتراف بن جاتا ہے—خواہ وہ اعتراف تلخی میں لپٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔
وقت کی گرد نے بہت سے چہروں کو دھندلا دیا، بہت سے دعووں کو بے وزن کر دیا، مگر کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک عہد کی گواہی سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی لمحہ تھا، جب ایک بیالیس برس کا نوجوان دنیا کے دباؤ کے سامنے اپنے موقف پر قائم رہا—نہ لہجہ بدلا، نہ قدم ڈگمگائے، نہ اصول بکے۔ یہ صرف ایک سیاسی موقف نہ تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ طاقت کے سامنے سر جھکانا لازمی نہیں ہوتا، اور اگر نیت مضبوط ہو تو انسان اپنے فیصلوں کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔
یہ وہ دور تھا جب سیاست تجارت کی زبان بولنے لگی تھی، جب ضمیر کی قیمت طے ہوتی تھی، اور جب تعلقات وفاداری کے بجائے مفاد سے جُڑنے لگے تھے۔ ایسے میں اگر کوئی اپنے ملک و قوم کے مفاد کو ذاتی فائدے پر ترجیح دے، تو یہ محض تعریف نہیں بلکہ ایک غیر معمولی واقعے کا بیان ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اور خاص طور پر اس وقت جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار ہوں۔
“وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ”
(سورۃ آل عمران: 26)
یہ آیت اس پوری کہانی کا خلاصہ معلوم ہوتی ہے۔ عزت نہ تو خریدی جا سکتی ہے، نہ ہی کسی سے مانگی جا سکتی ہے، بلکہ یہ اللہ کی عطا ہوتی ہے۔ اور جب وہ چاہتا ہے تو ایک انسان کے فیصلے میں ایسا وقار رکھ دیتا ہے جو زمانوں تک مثال بن جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک نوجوان قیادت نے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر بھی دنیا میں اپنا مقام بنایا جا سکتا ہے۔
محمد بن سلمان—یہ نام اس گھڑی محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک علامت کا نام بن گیا تھا۔ ایک طرف دباؤ، دوسری طرف ذمہ داری؛ ایک طرف عالمی سیاست کی پیچیدگیاں، دوسری طرف اپنی قوم کی امیدیں۔ ایسے حالات میں جو فیصلہ کیا جاتا ہے، وہ صرف اس وقت کا نہیں ہوتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتا ہے۔
ٹرمپ کے الفاظ، اپنی سختی کے باوجود، دراصل ایک پوشیدہ اعتراف تھے۔ کیونکہ تاریخ کا اصول ہے کہ دشمن بھی اُسی کا نام لیتا ہے جو اس کے راستے میں رکاوٹ بنے۔ جو بک جائے وہ کبھی زیرِ بحث نہیں آتا، اور جو نہ بکے وہی تاریخ کا حصہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے الفاظ وقتی طور پر سخت محسوس ہوتے ہیں مگر درحقیقت وہ ایک بڑے سچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقتدار انسان کو بے لگام کر دیتا ہے۔ بادشاہت ایک ایسا منصب ہے جہاں ہر دروازہ کھلا ہوتا ہے، جہاں فیصلے آسان ہو جاتے ہیں، اور جہاں مشورے اکثر چاپلوسی میں بدل جاتے ہیں۔ مگر اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے یا قومی وقار کو؟ کیا وہ وقتی فائدے کو چنتا ہے یا مستقل عزت کو؟
محمد بن سلمان نے اس امتحان میں وہ راستہ اختیار کیا جس پر چلنا آسان نہ تھا۔ اس نے یہ واضح کیا کہ قیادت صرف طاقت کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ یہ منصب اختیار کا نہیں بلکہ امانت کا ہوتا ہے، اور امانت کا حق ادا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
اور یہاں اس تمام منظرنامے کے بیچ میرا اپنا وجود بھی گواہی دیتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے پچیس برس Saudi Arabia کی سرزمین پر گزارے۔ یہ وقت صرف روزگار کمانے کا نہ تھا بلکہ ایک تعلق بنانے کا تھا۔ میں نے اس مٹی میں محنت کی، اس کے لوگوں کے ساتھ جیا، اور اس کی ترقی میں اپنے حصے کے مطابق کردار ادا کیا۔
مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب 2004 میں عمرہ ادا کرنے کے بعد میں نے سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو پکار کر کہا کہ پاکستانی آپ سے محبت کرتے ہیں اور میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہم بھی پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں۔ یہ لمحہ میرے لیے صرف ایک ملاقات نہ تھا بلکہ ایک ایسا رشتہ تھا جو ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو گیا۔
اسی طرح خلیج جنگ کے دوران ہم تقریباً چھ سو پاکستانی انجینئرز نے فہد بن عبدالعزیز آل سعود کو برقیہ بھیجا کہ ہم جہاں بھی ضرورت ہوگی، خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ یہ الفاظ محض رسمی نہ تھے بلکہ ایک عہد تھے، ایک ایسا وعدہ جس میں اخلاص بھی تھا اور وفاداری بھی۔
وقت گزرتا رہا مگر یہ جذبہ کم نہ ہوا۔ میں آج بھی United Arab Emirates میں رہتے ہوئے اسی سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں۔ جب میں کہتا ہوں کہ ہم جس کا کھاتے ہیں اس کے گن گاتے ہیں تو اس کا مطلب صرف تعریف کرنا نہیں بلکہ وفاداری نبھانا ہے۔ ہم اپنے میزبان ملکوں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کی سلامتی چاہتے ہیں، اور دل سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اللہ انہیں امن اور استحکام عطا فرمائے۔
ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی جہاں بھی ہوگا، وہ اپنے محسن کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ وہ مشکل وقت میں پیچھے ہٹنے والا نہیں بلکہ آگے بڑھ کر کھڑا ہونے والا ہوگا۔ ہم اپنے عمل اور اپنی نیت سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم وفاداری کو سمجھتے ہیں اور اسے نبھانا بھی جانتے ہیں۔
یہی جذبہ میں نے ایک محفل میں بھی بیان کیا تھا کہ وقت آئے گا جب پاکستانی، چاہے وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے محسنوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ بات کسی جذباتی لمحے کی نہیں تھی بلکہ ایک یقین کی تھی، ایک ایسے یقین کی جو تعلق، تجربے اور مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔
جب ہم اس پورے منظرنامے کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری پیغام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے ملتی ہے، اور وقار منصب سے نہیں بلکہ فیصلوں سے قائم رہتا ہے۔
قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے:
“وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ”
(سورۃ ہود: 113)
اور یہی وہ اصول ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
محمد بن سلمان کے اس رویے نے یہ ثابت کر دیا کہ قیادت عمر کی محتاج نہیں بلکہ بصیرت، حوصلہ اور نیت کی محتاج ہوتی ہے۔ اور جب ان کے ساتھ اخلاص اور وفاداری شامل ہو جائے تو ایک قوم اپنی حقیقی پہچان حاصل کر لیتی ہے۔
آخر میں دل یہی دعا کرتا ہے کہ اللہ ہمیں بھی وہی بصیرت دے، وہی جرأت دے، کہ ہم حق کو پہچان سکیں اور اس پر قائم رہ سکیں۔ کیونکہ صبر اور استقامت ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت تک لے جاتا ہے، اور یہی راستہ قوموں کی اصل پہچان بنتا ہے۔اور اسی راستے پر محمد بن سلمان چلے ہیں۔