مذاکرات دفتر خارجہ یا نجی ہوٹل میں؟

پانچ اہم شخصیات کون ہیں؟ اے ڈی وینس سیاسیات فلسفے اور قانون میں ڈگری کے حامل ہیں۔ بطور وکیل شہرت حاصل کی، 2022 میں سینیٹر اور 2024 میں نائب صدر بنے۔

اسٹیو وٹکاف ریئل اسٹیٹ سرمایہ کار، سیاسیات اور قانون میں ڈگری یافتہ ہیں، 2025 میں خصوصی ایلچی بنے، ٹرمپ کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی ہیں۔

جیریڈ کشنر صدر ٹرمپ کے داماد، قانون اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، وائٹ ہاؤس کے مشیر بنے، ابراہیمی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔

باقر قالیباف نے پولیٹیکل جغرافیہ میں پی ایچ ڈی کیا، اسسٹنٹ پروفیسر رہے، 2005 کا صدارتی الیکشن لڑا، تہران کے میئر بنے، 2024 میں اسپیکر مقرر ہوئے۔

وزیر خارجہ عراقچی نے انٹرنیشنل ریلیشنز اور سیاسیات میں ڈگری لی، 1996 میں پی ایچ ڈی مکمل کیا، وزارت خارجہ میں ریسرچ تھنک ٹینک رہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے دنیا کی پانچ کلیدی شخصیات اکٹھی ہو رہی ہیں، جن کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور امن پر بھی گہرا ہے۔

جے ڈی وینس امریکی نائب صدارت اور داخلی سیاسی تجربے کے ساتھ طاقت کے توازن کو سمجھتے ہیں، اسٹیو وٹکوف اسرائیل–حماس اور روس یوکرین کے پیچیدہ معاہدوں میں مہارت رکھتے ہیں اور جیریڈ کوشنر مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے والے ابراہیم معاہدے کے خالق کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف کی عسکری حکمت عملی اور عباس عراقچی کے تجربہ کار سفارتی اقدامات مذاکرات کے دوران فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، جس سے اسلام آباد میں خطے کے مستقبل کی سمت اور عالمی تعلقات کی نئی لکیریں متعین ہوں گی۔

جے ڈی وینس (J.D. Vance)، جن کا اصل نام جیمز ڈونلڈ بومین تھا، 1984 میں اوہائیو کے شہر میڈل ٹاؤن میں پیدا ہوئے۔ مشکل خاندانی حالات، والدین کی علیحدگی، والدہ کی منشیات کے مسائل اور غربت نے ان کی ابتدائی زندگی کو متاثر کیا، لیکن ان کی نانی نے انہیں استحکام فراہم کیا۔

ہائی اسکول کے بعد انہوں نے امریکی میرین کور میں شمولیت اختیار کی اور عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے سیاسیات اور فلسفے میں ڈگری لی اور پھر ییل لا اسکول سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔

بطور وکیل اور سرمایہ کار کام کرنے کے بعد وہ شہرت کی طرف بڑھتے گئے۔ جے ڈی وینس نے 2016 میں اپنی مشہور کتاب Hillbilly Elegy شائع کی، جس میں انہوں نے غربت، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، منشیات کے بحران اور اپالاچیا کے سماجی مسائل کو ذاتی تجربات کی بنیاد پر بیان کیا۔

کتاب نے سیاسی ماحول میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور امریکی سفید فام ورکنگ کلاس کی نفسیات کو سمجھنے کا اہم ذریعہ تصور کی گئی۔ بعد میں اس کتاب پر فلم بھی بنی۔

سیاسی میدان میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے 2022 میں اوہائیو سے امریکی سینیٹ کی نشست جیتی، اگرچہ 2016 میں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید ناقد رہے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ٹرمپ کی حمایت اختیار کرلی اور MAGA تحریک کے نمایاں چہروں میں شامل ہوگئے۔

2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو اپنا نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا، جس کے بعد ان کا سیاسی قد بھی بہت بڑھ گیا۔ ان کے بعض پرانے بیانات پر تنازع بھی سامنے آیا، مگر ٹرمپ–وینس جوڑی نے کم مارجن سے کامیابی حاصل کی۔

وہ جنوری 2025 میں امریکہ کے 50ویں نائب صدر کے طور پر حلف بردار ہوئے۔ بطور سینیٹر انہوں نے کئی دو جماعتی قانون سازی میں حصہ لیا، مگر اکثر سخت دائیں بازو کے مؤقف بھی اختیار کیے۔ ان کی نجی زندگی میں بیوی اُشہ چلوکوری اور تین بچے شامل ہیں، جن سے وہ ییل لا اسکول کے زمانے میں ملے تھے۔

اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) ایک امریکی بزنس مین ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز وکیل کے طور پر کیا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار اور ڈویلپر کے طور پر بڑی کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے 1997 میں وٹکوف گروپ قائم کیا، جو نیویارک اور دیگر مقامات پر 70 سے زائد عمارتوں کی خرید، فنانسنگ اور تعمیر میں شامل رہا۔ وہ لانگ آئی لینڈ کے متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے، ہوفسٹرا یونیورسٹی سے سیاسیات میں بیچلر اور پھر قانون کی ڈگری حاصل کی۔

ایک ڈیل میں ٹرمپ کو سینڈوچ خرید کر دینے کے واقعے نے ان دونوں کے درمیان دوستی کی بنیاد رکھی، جو بعد میں کاروباری تعلقات اور سیاسی حمایت میں تبدیل ہوئی۔ اسٹیو وٹکوف نے 2016 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی، ان کی مہم میں چندہ دیا اور بعد میں کووِڈ–19 کے دوران ٹرمپ کی معاشی پالیسی ٹیم میں شامل ہوئے۔

وہ اس وقت بھی ٹرمپ کے ساتھ تھے جب 2024 میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش ہوئی۔ ٹرمپ کی دوسری کامیابی کے بعد 2025 میں وٹکوف کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کا کوئی سفارتی تجربہ نہیں تھا۔

اس کے باوجود انہوں نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے 2025 میں اسرائیل–حماس کے درمیان پہلی جنگ بندی کروائی جس کے نتیجے میں 33 یرغمالیوں کے بدلے 1500–2000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی، اگرچہ لڑائی جلد دوبارہ شروع ہوگئی۔ بعد میں اکتوبر 2025 میں وہ ایک دوسری بڑی جنگ بندی کے معاہدے میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔

وٹکوف کو ٹرمپ کی مکمل اعتماد حاصل ہے، اسی وجہ سے انہیں روس–یوکرین جنگ کے حل کے مذاکرات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی، اور انہوں نے ولادیمیر پیوٹن سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ تاہم ان کے امن منصوبوں میں روس کے متنازع مطالبات شامل تھے، جنہیں یوکرین نے مسترد کر دیا۔