یکم مئی کا پیغام: مزدور کی تنخواہ عزت کے برابر ہو تو ریلوے ترقی کرے گی

یکم مئی کا پیغام: مزدور کی تنخواہ عزت کے برابر ہو تو ریلوے ترقی کرے گی
از: وقاص احمد آسی
مرکزی صدر، پاکستان ریلوے پریم یونین

یکم مئی محنت کشوں کی عظمت کا دن ہے۔ پاکستان ریلوے کے 67 ہزار مزدور اور افسران وہ گمنام ہیرو ہیں جن کی محنت سے یہ ملک چلتا ہے۔ انجن کا پہیہ تبھی گھومتا ہے جب ڈرائیور، فائرمین، گینگ مین، ٹیکنیشن، پورٹر، کلرک اور افسر سب ایک زنجیر کی کڑی بن جائیں۔

بدقسمتی سے آج ریلوے کا مزدور مسائل کے انجن میں پس رہا ہے۔ 45 ڈگری گرمی میں پٹری مرمت کرنے والا گینگ مین، 12 گھنٹے انجن کے نیچے لیٹنے والا ٹیکنیشن، 50 کلو وزن اٹھانے والا پورٹر — ان سب کو کیا ملتا ہے؟ تنخواہ تاخیر سے، سیفٹی کٹ اپنی جیب سے، علاج کے لیے دھکے، اور 15 سال بعد بھی نوکری کچی۔

سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ مہنگائی 35% بڑھ گئی مگر ریلوے مزدور کی تنخواہ 5 سال سے وہیں کھڑی ہے۔ آج گریڈ-4 کا ملازم 32 ہزار تنخواہ لیتا ہے جبکہ ایک فیملی کا ماہانہ خرچ 60 ہزار سے کم نہیں۔ مزدور بچوں کی فیس دے یا بجلی کا بل؟ جب پیٹ خالی ہو تو ٹرین وقت پر کیسے پہنچے گی؟

دوسری طرف افسران پر بھی دباؤ ہے — سیاسی ٹرانسفر، بجٹ کی قلت، خستہ انفراسٹرکچر۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ افسر اور مزدور آمنے سامنے نہیں، شانہ بشانہ ہیں۔ ریلوے کی تباہی کی وجہ ‘اوپر’ کی کرپشن اور ‘نیچے’ کی بے بسی ہے۔ جب اسکریپ کباڑ کے بھاؤ بکتا ہے، فیول ٹینک سے چوری ہوتا ہے، پارسل بغیر بکنگ چڑھتا ہے، تو نقصان ریلوے کا ہوتا ہے اور بوجھ مزدور کی تنخواہ پر پڑتا ہے۔

پاکستان ریلوے پریم یونین یکم مئی 2026 پر حکومت اور انتظامیہ سے 6 مطالبات رکھتی ہے:

1. مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ: فوری طور پر تمام ریلوے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 50% اضافہ کیا جائے اور اسے مہنگائی انڈیکس CPI سے منسلک کیا جائے۔ ہر سال بجٹ میں خودکار اضافہ ہو۔ ریلوے خسارے کا بہانہ نہ بنے — جب 11 ٹرینیں آؤٹ سورس کر کے اربوں بچائے جا سکتے ہیں تو مزدور کو اس کا حق کیوں نہیں؟

2. جان کی حفاظت پہلی ترجیح: ہر مزدور کو ہیلمٹ، سیفٹی شوز، جیکٹ لازمی دی جائے۔ ML-1 منصوبے میں ‘زیرو ایکسیڈنٹ پالیسی’ شامل ہو۔ جو افسر اپنی ٹیم کو حادثے سے بچائے اسے قومی ایوارڈ ملے۔

3. عزت + بروقت معاوضہ: تنخواہ، اوورٹائم، TA/DA یکم تاریخ کو اکاؤنٹ میں۔ 10 سال سے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 5000 مزدوروں کو فوری مستقل کیا جائے۔ ‘ورکر آف دی ایئر’ کا انتخاب ہر شیڈ سے ہو۔

4. کرپشن کا خاتمہ = مزدور کا حق: تمام خریداری SAP سسٹم پر، اسکریپ نیلامی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے، فیول میں GPS سینسر۔ ذاتی پسند پر تبادلے بند — جو افسر میرٹ کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف کارروائی ہو۔

5. تربیت اور ترقی: کیریج فیکٹری اسلام آباد کو ‘اسکل سینٹر’ بنایا جائے۔ گینگ مین کو ویلڈر، ہیلپر کو ٹیکنیشن بننے کا راستہ دیا جائے۔ مزدور کے بچے کے لیے تعلیمی وظیفہ مقرر ہو۔

6. اعتماد کی فضا: یکم مئی کو وزیر ریلوے سے DRM تک سب افسران شیڈ میں مزدور کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ ہر مہینے ‘کھلی کچہری’ لگے تاکہ مزدور بلا خوف مسئلہ بتا سکے۔

ہم افسران سے کہتے ہیں: آپ کے ایک دستخط سے سو گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ ‘ریڈ ٹیپ’ کو ‘گرین سگنل’ میں بدلیں۔ اور مزدور بھائیوں سے اپیل ہے: اپنا حق مانگیں لیکن ڈیوٹی سے غداری نہ کریں۔ ایک منٹ کی لیٹ لاکھوں مسافروں کو تکلیف دیتی ہے۔

یکم مئی صرف چھٹی نہیں، وعدے کا دن ہے۔ افسر وعدہ کرے کہ انصاف کرے گا، مزدور وعدہ کرے کہ دیانت سے کام کرے گا۔ جس دن ریلوے کے مزدور کو مہنگائی کے برابر تنخواہ اور عزت مل گئی، اس دن پاکستان ریلوے دنیا کی بہترین ریلوے بن جائے گی۔

روٹی، کپڑا، مکان کے بعد اب مزدور کا نعرہ ہے: ‘عزت، تحفظ، اور مہنگائی کے برابر تنخواہ’

_مضمون نگار پاکستان ریلوے پریم یونین کے مرکزی صدر وقاص احمد آ سی