پیادہ تو ہے ایک مہرہ ناچیز

“اسے میں مدتوں سے جانتا ہوں، وہ غدار کیسے ہوا”. یا یہ کہ “نہیں حضور, اس کے ابا نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا، وہ ملک دشمن نہیں ہے”؟ یا یہ کہ “وہ تو ہمیں کشمیر کے لیے چندہ دیتا تھا، را کا ایجنٹ کیسے ہے”؟ مزید یہ کہ ” پہلے آپ نے بنگالیوں کو غدار کہا, پھر بلوچوں پر فوج کشی کی. اب کشمیریوں کو بخش دیجئے”۔ نمونے کے یہ چند جملے آپ نے اکثر سنے ہوں گے۔ یہ جملے کبھی بے سوچے اور جا بجا بولنے کی عادت کا نتیجہ ہوتے ہیں اور کبھی سیاسی جتھے انہیں دانستہ تراشتے ہیں۔ یہ “تاریخی” جملے آپ ایک ماہ سے سن پڑھ رہے ہیں. “تاریخی” پر متعجب نہ ہوں۔ ملک ٹوٹنے کی باقاعدہ ابتدا انہی جملوں سے ہوئی تھی۔

جنوری 1968 میں نیوی اور سول سروس کے 28 بنگالی افسران اور چند سویلین اس الزام میں گرفتار ہوئے کہ وہ بھارتی ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں، اور چند ایک تو بھارتی شہر اگرتلہ جا کر بھارتی افسران سے ملے ہیں۔ سول ملٹری افسران معمولی پرزے ہوتے ہیں لہذا ملک کے لیے نمائشی چہرہ درکار ہوتا ہے۔ تفتیش پر الزام تہہ در تہہ نکلے، پرتیں کھلتی گئیں۔ پتا چلا کہ ان کا سرغنہ شیخ مجیب ہے جسے گرفتار کر لیا گیا۔ آپ جو ناٹک آج راولا کوٹ میں دیکھتے ہیں، وہ یونہی مشرقی پاکستان میں شروع ہوا تھا۔ کل وہاں ایک ملزم حراست میں مر گیا تو وزرا کے گھروں پر دھاوا بولا گیا۔ آج یہاں ایک آدمی دو طرفہ غیر ریاستی فائرنگ کے تبادلے میں مرا تو چار بے گناہ پولیس اہلکار مار دیے گئے۔ کل وہاں عدالتی سربراہ کے گھر حملہ کیا گیا تو آج یہاں ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا گیا۔ دونوں مواقع پر ملک کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ خیر ٹرائبونل کی سماعت شروع ہوگئی.

ملزمان سرکاری ملازم تھے جن کا غیر ملکیوں اور بیرون ملک دشمن سے ملنا سنگین جرم ہے۔ ریاست کے پاس جو اصل معلومات ہوتی ہیں، عام آدمی ان کا تصور نہیں کر سکتا۔ مقدمہ انجام تک پہنچا کر بالخ رائے دہی کی بنیاد پر، بدون شیخ مجیب، انتخابات کرا دیے جاتے تو ملک کبھی نہ ٹوٹتا۔ لیکن سیاست دانوں نے ایوب دشمنی میں تب کے بالشتیے شیخ مجیب الرحمن کو قومی رہنما بنا دیا۔ وہ جملے جو آپ نے اوپر پڑھے ہیں, ان دنوں کچھ یوں تھے: “شیخ مجیب؟ ارے وہ تو تحریک پاکستان کا کارکن تھا”.اور یہ کہ ” نہ جی، تین سال قبل اس نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم چلائی تھی۔ کیا وہ ملک توڑنے کے لیے تھی”؟ ایوب خان نے اپنے خلاف بپا ملک گیر شورش روکنے کو گول میز کانفرنس بلائی تو ان جملوں کے مصنفین کے دباؤ پر ملزم کو بھی مدعو کر ڈالا گیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ملزم نے صاف انکار کر دیا کہ پہلے مقدمہ واپس لو۔ اخبارات دیکھ لیجئے، تمام مغربی پاکستانی سیاست دان بھی اس بالشتیے کی وکالت کر رہے تھے۔

تب آمر مطلق ایوب خان سے دشمنی قابل فہم تھی لیکن آج راولا کوٹ میں فوجی ہسپتال پر حملے کا کیا جواز ہے؟ تب حقائق جانے بغیر صحافیوں اور سیاست دانوں نے ایک تھرڈ ریٹ کو درجہ اول رہنما بنا ڈالا تو آج وہی حکومت مخالف اندھی سوچ بے سمجھے کریانہ فروشوں کو عالمی رہنما بنا رہی ہے۔ جب ان بدبختوں نے مل کر اگرتلہ کیس ختم کروایا تو شیخ مجیب جتھے لیے پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کے جلسے پر حملہ آور ہوگیا۔ اور یہ تھا پاکستان کی آہنی فصیل، جماعت اسلامی، پر اسکرپٹ رائٹر کا پہلا منجنیقی پتھر! فصیل اڑ جائے تو باقی بچتا کیا ہے؟ جسے بھارتی لاپی کے چند فیصد سے زیادہ نہیں جانتے تھے، وہ انتخابات میں دو کے سوا تمام 162 نشستیں لے اڑا۔ رہے یہ آڑھتی، “تو بے چارہ پیادہ تو ہے ایک مہرہ ناچیز/فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ. اسکرپٹ رائٹر کا مسودہ تو لندن والے ان کے آقائے ولی نعمت (مالی سرپرست) فرزین کے پاس بھی نہیں۔

آج اسکرپٹ رائٹر وہی ہے، مہرے بدل گئے ہیں۔ تب کچھ دانشمند افراد موجود تھے، آج حزب مخالف کے تمام سیاست دان، صحافی اور اینکر پرسن حقائق جانے بغیر حکومت کی مخالفت میں کریانہ فروشوں کی اقتدا کر رہے ہیں۔ “تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن, اپنا تو بن”. جناب اپنے مرتبے کا خیال تو رکھیں. آپ ملک گیر شخصیات اور رہنما ہیں۔ یہ چار آڑھتی شیخ مجیب کی طرح آپ سے آگے نکل گیے تو؟ کیا اب نرالی تاریخ ہے جو خود کو نہیں دہرائے گی؟ آج مشرق مغرب کے سبھی ملک ہمارے گیت گا رہے ہیں۔ خدا خدا کر کے ملک میں کچھ سکون ہوا اور ملک بہتری کی طرف چل پڑا ہے۔ لیکن ایک دینی جماعت کے امیر کا فرمان یوں پڑھا: “سزا یافتہ کو رہا کرو تاکہ تناؤ ختم ہو”۔ اطلاعا عرض ہے کہ ملک میں دہشت گردی تو کُچھ موجود ہے، تناؤ ختم ہو چکا ہے۔ تو کیا آپ ملک میں پھر اندھیرا چاہتے ہیں؟ آپ چاہتے کیا ہیں؟

رہا کشمیر تو وہ علی گیلانی جیسے رہنماؤں سے بھرا پڑا ہے. جوہری پروگرام, فلسطین اور دستور اگر ہماری سرخ لکیریں ہیں تو کشمیر ہمارا وجود اور شاہ رگ ہے. کشمیری اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے پاکستان کے لوگ، اتنے ہی محترم ہیں جتنے پاکستانی۔ پاکستان کشمیر کی ماں ہے جس نے زخم کھا کر اپنی شہ رگ بچا رکھی ہے۔ کشمیر آج 1968 والے مقام پر کھڑا ہے۔ لیکن یہ پاکستان متعصب صحافیوں، بے بصیرت سیاستدانوں اور حقائق سے نابلد احمق دانشوروں سے نمٹنا اب بخوبی جانتا ہے۔ آج پوری دنیا ہمارے گن گارہی ہے تو کیا آپ نے اقتدار سے باہر کسی بھی قابل ذکر رہنما سے پاکستان کے حق میں کبھی ایک جملہ بھی سنا؟ میرا دریا اسی کوزے میں بند ہے۔

“میں فلاں کو مدت سے جانتا ہوں وہ غدار کیسے ہے”، یا “ہم نے اکٹھے حج کیا تھا لہذا وہ را کا ایجنٹ نہیں ہے”۔ یا “فلاں تو ہمیں لاکھوں کا چندہ دیا ہے, بڑا نیک ہے”. ان چکر بازوں سے پوچھیے کہ کیا ہم موبائل سے کھیلتے اپنے بیٹے کا بتا سکتے ہیں کہ اس کے نادیدہ روابط کہاں کہاں ہیں، قبلہ گاہی، بے تکے اور جذباتی جملوں کے کلہاڑے اس شاخ پر مت چلائیے جس پر آپ خود بیٹھے ہیں۔ ریاست سے گزارش ہے کہ وہ کشمیر میں وقت پر آزادانہ انتخابات کرائے اور اقتدار حقدار کے حوالے کر دے۔ ورنہ۔۔۔۔۔اس ورنہ کے بعد کوزے میں میرا پورا دریا بند ہے. نہ سمجھیں تو تحریر کا اگرتلہ والا حصہ پھر پڑھ کر تاریخ کو اباؤٹ ٹرن کہیں اور اسے اگرتلہ والی شورش زدہ ریاست تری پورہ جانے کا “حکم” دیجیے کہ وہ وہاں جا کرخود کو دہرائے۔ حکم سے میری مراد ریاست خوب جانتی ہے۔