سیاسی “بھڑکیں” اور عملی بانجھ پن: گرجنے والے بادلوں کا المیہ

باعثِ افتخار: انجینئر افتخار چوہدری
گرجنے والے بادل ہمیشہ برستے نہیں۔ یہ صرف ایک محاورہ نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ہماری سیاست میں آج کل کارکردگی سے زیادہ “بھڑکوں” کا دور ہے۔ کوئی ہاتھ کاٹنے کی بات کرتا ہے، کوئی آنکھیں نکالنے کی دھمکیاں دیتا ہے، کوئی مخالفین کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کرتا ہے۔ مگر جب قوم اپنے مسائل کا حساب مانگتی ہے تو ان بھڑکوں کے پیچھے عملی کارکردگی کا دامن خالی نظر آتا ہے۔
قوم نے بڑے بڑے دعوے سنے کہ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کریں گے، پاکستان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یہ نعرے سن کر عوام نے بھی امید باندھی تھی کہ شاید اب قومی مفاد سب سے مقدم ہوگا۔ مگر وقت نے ایک مختلف تصویر دکھائی۔
مودی کے خلاف بھڑکیں تو بہت لگائی گئیں، مگر قوم آج بھی پوچھتی ہے کہ عملی میدان میں وہ جرات کہاں نظر آئی؟ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈالنے کے دعوے کرنے والوں نے اپنی تمام تر سیاسی طاقت اپنے ہی مخالفین پر صرف کر دی۔ سیاسی کشیدگی کے دوران عمران خان کی آنکھ کو نقصان پہنچنے کی خبریں آئیں، جبکہ بشریٰ بی بی بھی مقدمات، گرفتاریوں اور قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتی رہیں۔ اگر یہی ساری توانائی اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال ہونی تھی تو پھر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے کے دعووں کا حاصل کیا تھا؟
یہ کسی ایک شخصیت کا مقدمہ نہیں، بلکہ سیاسی رویوں کا سوال ہے۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قومی مفادات کا دفاع ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف آج کو دیکھ کر نہیں بنتیں بلکہ وہ رہنما انہیں آگے لے جاتے ہیں جو آنے والی صدیوں کے تقاضوں کو بھی سمجھتے ہیں۔ Choudhary Rahmat Ali ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ روایت ہے کہ بزمِ شبلی میں انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے مستقبل کا الگ بندوبست نہ کیا تو ایک وقت آئے گا جب ان کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی، ان کے آبی وسائل بھی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوں گے، اور کشمیر کا مسئلہ ان کی بقا کا بنیادی سوال بن جائے گا۔ اس زمانے میں جب اکثر سیاسی رہنما ہندو مسلم اتحاد کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ آنے والی نسلوں کے خطرات کو محسوس کر رہے تھے۔
شاید اسی تناظر میں Imran Khan نے جناح کنونشن سینٹر میں اپنے ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ چوہدری رحمت علی ایک سو سال بعد کے حالات کو بھی اپنی نگاہ میں رکھ کر سوچتے تھے۔ آج کشمیر، پانی اور قومی سلامتی کے مسائل کو دیکھ کر یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ دوراندیش قیادت صرف آج نہیں بلکہ آنے والے کل کی بھی فکر کرتی ہے۔
لیکن افسوس کہ ہماری سیاست قومی سلامتی، معیشت، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل سے زیادہ سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ مہنگائی کیوں ختم نہیں ہوئی؟ بجلی اور گیس کے بل کیوں کم نہیں ہوئے؟ نوجوان روزگار سے محروم کیوں ہیں؟ کسان کیوں پریشان ہے؟ صنعت کیوں زوال پذیر ہے؟ سرمایہ کار کیوں خوفزدہ ہے؟ ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
قوم اب تقریروں سے متاثر نہیں ہوتی۔ اسے نتائج چاہییں۔ اسے ایسی حکومت چاہیے جو ملک کو معاشی بحران سے نکالے، خارجہ پالیسی کو مضبوط کرے، اداروں کو مستحکم بنائے اور عوام کو ریلیف دے۔
اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، لیکن کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ تاریخ نہ شور کو یاد رکھتی ہے، نہ دھمکیوں کو، نہ بھڑکوں کو۔ تاریخ صرف یہ لکھتی ہے کہ اقتدار ملنے پر کس نے قوم کی خدمت کی اور کس نے اپنے مخالفین سے حساب چکانے میں وقت ضائع کیا۔
اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست کو نفرت اور انتقام کے راستے سے نکال کر برداشت، مکالمے اور قومی خدمت کی طرف لایا جائے۔ ہاتھ کاٹنے کی نہیں، ہاتھ ملانے کی سیاست کیجیے۔ آنکھیں نکالنے کی نہیں، عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے کی ہمت پیدا کیجیے۔
قوم کو اب مظہر شاہ کی بھڑکیں نہیں چاہییں۔ قوم کو ایسی قیادت چاہیے جو مودی کے خلاف صرف بھڑکیں نہ لگائے بلکہ قومی مفادات کا عملی تحفظ کرے، اپنے ہی شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے، اور پاکستان کو قائداعظمؒ، چوہدری رحمت علی اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق ایک مضبوط، خوددار اور باوقار ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ تاریخ کا فیصلہ نعروں پر نہیں، کردار پر ہوتا ہے؛ اور قوم کا اعتماد تقریروں سے نہیں، عمل سے حاصل کیا جاتا ہے۔