خصوصی تحریر و تجزیہ
عبدالمتین اخونزادہ
ڈائریکٹر
قرآن اکیڈمی
حکومت بلوچستان
21 ویں صدی میں اب سائنسی و فکری بیانیے کی تشکیل و تعبیر نو پروپیگنڈہ اور جبر و زبردستی سے ممکن نہیں رہا ہے، پاکستان کو 70 سالوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ نقصان غیر واضح اور مبہم بیانیہ نے پہنچایا ہے, اندرونی معاملات میں کمزور گورننس و کارکردگی اور معاشرتی ترقی و خوشحالی کے لئے درست پیش رفت نہ کرنا سب سے بڑا المیہ ہے علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ کے خطبات تشکیل و الہیات اسلامیہ اور علامہ کی پہلی کتاب و مقالہ,, علم الاقتصاد،،
کو کلی طور پر
نظر انداز کر دیا گیا
اور یوں لمحوں کے اندر متعین اہداف و مقاصد اور ارمانوں و آرزوؤں کا خون کرتے ہوئے ہم بحیثیت معاشرہ اور قوم رخ و سمت کے تعین کے بغیر زندگی و سماجیات اور ریاست و حکومت تشکیل دینے میں الجھ جاتے ہیں اور آج 21 ویں صدی میں پاکستان پر حکمرانی کرنے والی اشرافیہ و عوام ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہے، جب معاشروں اور ریاستوں میں طوفان بپا ہو اور دنیا ایران امریکہ عالمی جنگ کی ہولناکیوں اور معاشی و سماجی عدم توازن و نقصانات سے بچنے کے لئے تگ و دو کر رہی ہے جبکہ عالمی انسانی و معاشی ترقی و خوشحالی کو بریک لگ چکے ہیں،غربت و تنگ دامانی اور انسانوں کے لئے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے غیرت و حمیت سستے داموں نیلام کرنا پڑتی ہے، سال نو کے نیک لمحات اور ساعات میں بھی خوشحالی اور ترقی کوسوں دور ہے، بنیادی خوراک و ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہیں اور اس پر مستزاد حکومتی و انتظامی پالیسیاں ہیں جو عوام الناس کی تقدیر و قسمت بدلنے کے بجائے موت و غربت کی کشمکش میں قوم کو مبتلا کر چکی ہے، ریاست کے فریم ورک میں سماجی انصاف و ترقی کے لئے کوئی عزم و استقلال باقی نہیں رہا ہے، سیاسی جماعتوں و تحریکوں میں شریک قائدین و کارکنان اور ہمدردوں و ووٹروں میں مجموعی طور پر عدم اطمینان و سکون غارت گری کی سامانیوں میں بھرپور طریقے سے ملیامیٹ ہو چکی ہے ، ریاستی پالیسی و قوت کی بنیاد آہنی پنجوں کی گرفت میں ہے. قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں سے جنرل یحیٰی خان اور جنرل ایوب خان تک قومی زندگی کی تشکیل و تعمیر نو ممکن نہیں ہو سکا، عالمی استعماری طاقتوں اور اندرونی صلاحیتیں ناپید ہونے کے باعث 1947ء سے 1970ء تک کا عرصہ گزر گیا اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے کچھ نہ ہو سکا بلکہ اسلام کے نام پر اچھے یا برے اثرات و نتائج مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور ثقافتی طور پر نئی قوم و ملت کی تشکیل و تعبیر نو کا منزل و دانش سر نہ ہو سکا بلکہ اسلامی نظریہ حیات کے تشکیل و تعبیر نو کی سب سے توانا فکری آواز ڈاکٹر محمد اسد کو ملک بدر کیا گیا ،مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمتة اللہ علیہ جیل و قید اور جرمانے و پھانسی کے پھندے کے شکار رہے، پاکستان میں ابھی مسلکوں اور فرقوں کی انتہا پسندی عروج حاصل نہیں کر پائی تھی کہ ریاست و حکومت کے اشرافیہ و خفیہ ہاتھوں نے مذہب بیزاری اور مذہب گردی سپلائی کرنے کا فیصلہ سازی اور کارخانہ سازی ایجاد کرنے کا فیصلہ کیا، یوں لمحوں میں 1920 ء سے 1970 ء تک کی محنت شاقہ اور نظریاتی و فکری سلیقہ مندی کو سنجیدگی سے غارت گری کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،
یہ وہ دور تھا جب معاشروں اور ریاستوں میں طوفان نظریات جدید بپا تھا اور بالآخر کمیونیزم و فکری مکالمے نے خطے کو تہ تیغ و سناں کرنے کے لئے افغانستان کی جفاکش قوم اور ملت اسلامیہ کو جنگوں میں دھکیل کر کتابوں کے دور سے ٹینکوں کے دور میں داخل کرنے کی ٹھانی، کاش افغانستان میں ٹینکوں و بارود کی بجائے ٹیکنالوجی اور اکنامک گروتھ در آتا تو آج فساد و فتنہ گری کے بجائے امن و آشتی کا دور دورہ ہوتا خطے و علاقے کا امن و آشتی اور ترقی و خوشحالی ساتھ ساتھ جوڑا ہوا ہے، ہندوستان کی مٹی و دانش سے بے پروائی اختیار کرنے کے بعد پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ میں پہلی بار اہم سوالات کے جوابات فراہم نہ کرنے کی قیمت ہمیں نظریات و افکار کی دنیا میں ارتقاء و فکری مکالمے سے دور ہو چکے تھے، یوں 19 ویں صدی کے معروف نظریات و افکار نے تخلیق و تدبیر کی نئی جہتیں قائم کیں اور عورت و مرد اور نوجوانوں و بزرگوں کی سیرت و کردار سازی میں انتہائی جوہری تبدیلیاں رونما ہوئیں، 20 ویں صدی عیسوی میں برطانیہ و فرانس کے انقلابات اور سوویت یونین و امریکہ کی ضرورت و احساس نے سلطانہ شاہی اور رواداری و دانش کو سنجیدگی سے ایڈریس کرنے کے بجائے قوت و طاقت سے چھید چھید کر دیا ، یوں علمی و فکری مکالمے و آبرو مندی کے رحجانات پنپنے کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے انسان کی تکریم و تعظیم غائب ہو گئی اور اس پورے عرصے میں تہذیب وتمدن اور علم و ادب میں فعالیت اور وژن کے در آنے کے بجائے بارود و فکری افلاس کا سامنا کرنا پڑا،
پاکستانی ریاست اور
عوام بھی انہی نظریاتی و جغرافیائی اعتبار کے حامل مسائل و مباحث میں الجھی رہی،
1970 ء سے
2000ء تک اسی بنیادی نظریاتی کشمکش میں مبتلا ہو کر ہم دونوں اطراف یعنی مذہبی اور سیاسی لحاظ سے خوار ہوتے رہے حالانکہ ایک لمحہ سوچا جائے کہ اسی دورانیہ میں ترکی و ایران اپنی افکار و عوام دونوں کو اس سنگین نوعیت کے نظریات جدیدہ و فکری یلغاروں سے بچائے رکھنے میں کامیاب ہوئے،
اگرچہ ان دونوں ممالک میں اس وقت مذہبی ذہنیت یعنی اپنے رویوں و روایات سے جڑی قیادتوں کی حکمرانی و جانشینی ہے مگر افغانستان و پاکستان اس بنیادی و جوہری تبدیلیوں کے دور میں اپنے آپ کو جنگ و جدل اور انسانوں کے توہین آمیز رویوں و روایات سے محفوظ نہیں رکھ سکے .
2001ء سے 2025 ء کی
دو ڈھائی دہائیوں میں برطانیہ و امریکہ نیٹو افواج کے ساتھ دوبارہ توانائی و ترقی لوٹنے کی غرض سے بتکرار افغانستان و پاکستان کی قسمت و دانش مندی سے کھیلنے کے لئے چڑھ دوڑے، یوں ضیاء الحق کی کارستانیاں ابھی تک انتظار علاج و تشخیص کی محتاج تھیں کہ ریاست و حکومت کی اشرافیہ کے ایک اور چشم و چراغ مرد جناب جنرل پرویز مشرف عوام الناس کی تقدیر و قسمت سے کھیلنے اور تاریخ میں عوامی رائے و دانش کو بلڈوز کرنے آستین چڑھائے موجود ہوتے ہیں،
تف افسوس کہ
پاکستانی ریاست و فوج اور سیاست و حکومت کوئی بھی شخص آمریت و فکری بے عزتی کا انعقاد نہیں روک سکا،
یوں لمحوں میں خطا کرنے والے صدیوں نہ ہوں تو سالوں و عشروں ضرور ندامت و شرمندگی کا سامنا کرتے ہیں.
لمحہ موجود میں
سیاسی و عسکری قیادت کے اشتراک سے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہورہی ہے کہ ہمارے لیڈران کرام نے اقوام عالم کو ایک بڑے مشکل ترین لمحات جنگ میں امن و رواداری کا درس دیا ہے یوں مفکر مشرق علامہ محمد اقبال ے طہران کو مشرق کا جنیوا کہا تھا اب عملاً اسلام آباد سفارتی مہارت کا مرکز بنتا جا رہا ہے –
آج جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق پر چڑھ دوڑنے والی ریاست و اشرافیہ دونوں ان سب دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی اصلاح و ترامیم کئے بغیر اور ایک مشترکہ منصفانہ پالیسی سازی کے مراحل سنجیدگی سے ایڈریس کرنے اور نئے زمانے کے بدلتے ہوئے رحجانات و ترجیحات اور پسندیدہ سماجیات و فکری آبرو مندی کے بغیر کیسے ممکن ہے کہ میڈیا کی جادوئی قوت و ریاست کی طاقت سے کام لے کر انصاف و ترقی کے تمام ارمانوں و آرزوؤں کے برعکس برابر تواتر سے غلطیاں در غلطیاں کرتے ہوئے معاشی و معاشرتی ترقی و خوشحالی اور فرائض و اختیارات کے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کامیاب ہو سکے،
کرونا وائرس کی ہولناکیوں اور ایران امریکہ کشیدگی کے نتیجے میں معاشی و سماجی افراتفری کے بعد عیدالاضحی کی مبارک خوشیوں اور محرم الحرام کی عبادات و الہیات اسلامیہ کی تشکیل و تعبیر نو کی قوت و توانائی سے روشنی حاصل کرنے اور نئے زمانے میں عرصہ دراز سے جمہوری و فلاحی ریاست کے فریم ورک کی ازسرنو تعمیر و تعبیر نو کے لئے نئے پیراڈایم میں عمرانی و سماجی شعور اور فکری و سائنسی بیانیے کی تشکیل و تکمیل ہدف قرار دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ مظلوموں کی آہیں بھرنے کے لئے توانائی رکھتی ہو یا نوجوانوں و خواتین اور بچیوں و بزرگوں کے لئے اطمینان و سکون اور خوشی و مسرت کے لمحات ایجاد کرنے کی صلاحیت و ظرفیت اور استعداد و توان پیدا کرنے کی تخلیق و تدبیر کر سکیں،
قرآن اکیڈمی حکومت بلوچستان کے پورے پروجیکٹ کے طور پر ایڈریس کرنے اور اس سے مستفید ہونے کے بطور حوالہ مصر کے معروف مصنف و دانش ور شیخ محمد غزالی مصری کی کتاب جسے مولانا عنایت اللہ سبحانی نے ترجمہ فرمایا ہے:اسلامی عقیدہ میں وہ ان نازک تاروں کو علم و ادب اور تہذیب و فکر کی دنیا میں چھیڑتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
ذرا دیکھ،
اس کو جو کچھ
ہو رہا ہے،ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
جن حالات میں علم الکلام کی نشوونما ہوئی ہے،ان حالات نے اس علم کے مزاج و طبیعت پر بہت گہرے اور برے اثرات چھوڑے ہیں،سیاسی پنجہ آزمائیوں،گروہی عصبیتوں اور حریفانہ کشاکشوں نے مختلف اسلامی مسائل پر ہونے والے مناظروں میں عداوت و منافرت،طعن و تشنیع،طنز و تعریض اور تنقیص و توہین کا ایسا مہلک زہر گھول دیا ہے کہ باوجود یہ کہ ان پر کتنی صدیاں بیت گئیں مگر ان کے تلخ نتائج آج تک ہم بھگت رہے ہیں،حریفانہ کشمکش اور کھلم کھلا عداوت کی شورشوں میں حج حقیقت کی جستجو بڑی دشوار ہوتی ہے اور آگر حقیقت تک رسائی ہو بھی جائے تو اسے تسلیم کرلینا اور بھی کھٹن ہوتا ہے. ”
(اسلامی عقیدہ، صفحہ نمبر 13 مقدمہ)
