جب تحریکیں افراد نہیں، کردار پیدا کرتی تھیں

امیرالعظیمؒ: جب تحریکیں افراد نہیں، کردار پیدا کرتی تھیں
باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری

کچھ خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں، ایک پورے عہد کے رخصت ہونے کا اعلان ہوتی ہیں۔ امیرالعظیمؒ کی وفات کی خبر بھی میرے لیے ایسی ہی خبر تھی۔ ایک ایسا شخص دنیا سے رخصت ہوا جس نے اپنی زندگی اقتدار، شہرت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریے اور ایک نسل کی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ ایسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ان کے جانے کے بعد صرف ایک کرسی خالی نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے برسوں تک پُر کرنا آسان نہیں ہوتا۔

میری ان سے آخری ملاقات چند ماہ قبل ہوئی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی رہائش گاہ پر معروف صحافی، دانشور اور مصنف الطاف حسن قریشی کی کتاب “میرے مولانا” کی تقریبِ رونمائی تھی۔ انجینئر کامران قریشی ،خواجہ سعد رفیق، حافظ نعیم الرحمن، لیاقت بلوچ، احسان اللہ وقاص، شکیل ترابی، سلیم منصور خالد اور دیگر ممتاز شخصیات موجود تھیں۔ میں نے امیرالعظیمؒ کو برسوں سے پڑھا اور سنا تھا، لیکن پہلی مرتبہ روبرو بیٹھنے کا موقع ملا۔ چند لمحوں کی گفتگو نے یہ احساس دلایا کہ بعض لوگ واقعی کتابوں سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔

انہوں نے نماز کا ایسا خوبصورت فلسفہ بیان کیا جو آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے تو گویا اپنی تمام انا، تکبر اور خواہشات کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر رکوع میں جھکتا ہے اور جب دل کو مزید قرب چاہیے تو سجدے میں گر جاتا ہے۔ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اسی لمحے ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ایک مومن دن میں کئی مرتبہ اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے، اسی لیے نماز صرف عبادت نہیں بلکہ کردار سازی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ الفاظ کسی مقرر کے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے تھے جس نے اپنی پوری زندگی اسی فکر کو جیا۔

امیرالعظیمؒ کا اصل تعارف یہ نہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے رہنما تھے یا اسلامی جمعیت طلبہ کے قائد رہے۔ ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ “افراد سازی” کے معمار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ قومیں جلسوں سے نہیں بنتیں، قومیں کردار سے بنتی ہیں۔ انتخابات حکومتیں بنا سکتے ہیں، مگر تہذیب اور تاریخ صرف تربیت یافتہ انسان بناتے ہیں۔

آج کی نسل شاید اس دور کا تصور بھی نہ کر سکے جب پاکستان کی جامعات صرف ڈگریاں دینے کی جگہ نہیں بلکہ فکری مکالمے کے مراکز ہوتی تھیں۔ ہر نظریے کے لوگ موجود تھے، اختلاف بھی تھا، مناظرے بھی ہوتے تھے، مگر ہر جماعت اپنے کارکن کو پڑھاتی بھی تھی، سوچنا بھی سکھاتی تھی اور دلیل سے بات کرنا بھی سکھاتی تھی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کی تنظیم نہیں تھی بلکہ اس کا لٹریچر تھا۔ ایک رفیق بنتا تھا تو اس کے ہاتھ میں صرف جھنڈا نہیں دیا جاتا تھا بلکہ کتاب بھی دی جاتی تھی۔ وہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو پڑھتا تھا، علامہ اقبالؒ کو سمجھتا تھا، تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں سے واقف ہوتا تھا، قرآن کے درس میں بیٹھتا تھا، پھر میدانِ عمل میں قدم رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس تنظیم نے صرف کارکن نہیں بلکہ مقرر، مصنف، استاد، وکیل، صحافی اور سیاست دان پیدا کیے۔

امیرالعظیمؒ اسی روایت کے امین تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر فکر ختم ہو جائے تو تنظیم صرف ہجوم بن جاتی ہے، اور اگر کردار ختم ہو جائے تو سیاست صرف اقتدار کی جنگ رہ جاتی ہے۔

میری اپنی سیاسی وابستگی پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ عوامی مقبولیت اپنی جگہ ایک نعمت ہے، مگر کوئی بھی تحریک اس وقت تک دیرپا نہیں ہو سکتی جب تک اس کے کارکنوں کی فکری اور نظریاتی تربیت نہ ہو۔ میں نے مختلف مواقع پر یہ گزارش بھی کی کہ جس طرح اسلامی جمعیت طلبہ اپنے کارکن کو مطالعے، نظم اور کردار کی تربیت دیتی تھی، اسی طرح نئی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے کارکنوں کے لیے علمی اور فکری لٹریچر تیار کرنا چاہیے۔ کارکن صرف نعرہ لگانے والا نہیں بلکہ سوچنے والا بھی ہونا چاہیے۔

یہ بات میں کسی جماعت کی تعریف یا تنقید کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ امیرالعظیمؒ کی زندگی سے سیکھے ہوئے سبق کے طور پر عرض کر رہا ہوں۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ مضبوط تحریکیں پہلے انسان بناتی ہیں، پھر سیاست کرتی ہیں۔

جنرل ضیاء الحق کا دور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک پیچیدہ باب ہے۔ اس دور میں طلبہ سیاست، مذہبی جماعتوں اور سیاسی قوتوں کے تعلقات پر مختلف آراء موجود رہیں۔ مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امیرالعظیمؒ نے ہر دور میں اپنے کارکنوں کی تربیت کو اولین ترجیح دی۔ وہ نوجوانوں کو صرف احتجاج نہیں بلکہ برداشت، نظم، مطالعہ اور اخلاق بھی سکھاتے تھے۔ یہی ان کی اصل میراث ہے۔

چند روز قبل جب ان کی وفات کی خبر آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ پاکستان ایک ایسے معلم سے محروم ہو گیا ہے جو خاموشی سے نسلیں تیار کر رہا تھا۔ شاید اسی لیے ان کی وفات پر صرف جماعت اسلامی کے کارکن ہی غمزدہ نہیں تھے بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ بھی انہیں احترام سے یاد کر رہے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہی احساس تھا کہ نظریات کا اختلاف اپنی جگہ، مگر کردار کا احترام سب پر لازم ہے۔

مجھے جاوید ہاشمی بھی اسی روایت کے آدمی دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ انہوں نے بھی زمانۂ طالب علمی میں جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ ایسی شخصیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصولوں پر کھڑے رہنے کی قیمت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔

آج ہماری سیاست میں شور بہت ہے، مگر مطالعہ کم ہے۔ جلسے بہت ہیں، مگر تربیتی نشستیں کم ہیں۔ سوشل میڈیا بہت ہے، مگر کتاب کم ہے۔ نعرے بہت ہیں، مگر فکر کم ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف امیرالعظیمؒ کی پوری زندگی اشارہ کرتی ہے۔ وہ کہتے نہیں تھے، اپنی زندگی سے سکھاتے تھے کہ اگر کارکن کا ذہن اور کردار مضبوط ہو جائے تو تحریکیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔

ہمیں امیرالعظیمؒ کو صرف ایک جماعت کے رہنما کے طور پر یاد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک ایسے معلم کے طور پر یاد رکھنا چاہیے جس نے نوجوانوں کو بتایا کہ سیاست عبادت بھی بن سکتی ہے، اگر اس کی بنیاد دیانت، علم اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس پر ہو۔

اللہ تعالیٰ امیرالعظیمؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ لیکن ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت صرف دعائے مغفرت نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم اپنی سیاسی، سماجی اور تعلیمی زندگی میں دوبارہ مطالعے، کردار سازی، فکری تربیت اور نظریاتی دیانت کی روایت کو زندہ کریں۔

افراد مر جاتے ہیں، مگر وہ فکر کبھی نہیں مرتی جو انسانوں کے اندر سچائی، اخلاص اور کردار کی شمع روشن کر دے۔ امیرالعظیمؒ بھی اسی روشن روایت کا نام تھے۔ ان کا جسم مٹی کے سپرد ہو گیا، لیکن ان کی فکر، ان کی تربیت اور ان کی دی ہوئی روشنی ابھی بہت دیر تک پاکستان کی فکری فضا میں محسوس کی جاتی رہے گی۔