نومولود بچے کے سر کے بال منڈوانا ،عقیقہ کے احکام اور ختنہ
تحقیق و تنصیف: محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
نومولود (لڑکے یا لڑکی) کے سر کے بال پیدائش کے ساتویں دن اتارنا یا منڈوانا مستحب اور مسنون ہے۔
اہم احکام اور آداب:وقت: پیدائش کے ساتویں دن بال صاف کرنا افضل ہے، اگر ساتویں دن نہ ہو سکے تو بعد میں بھی اتار سکتے ہیں، کوئی گناہ نہیں۔لڑکا اور لڑکی کا حکم: اسلامی نقطہ نظر سے نومولود لڑکے اور لڑکی دونوں کے بال اتارنے کا ایک ہی حکم ہے (البتہ بعض روایات یا آراء میں لڑکی کے بال نہ منڈوانے کا کہا گیا ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے بال اتارنا مستحب ہے)۔
صدقہ: بالوں کو اتار کر ان کے ہم وزن چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کرنا مسنون ہے۔بالوں کا حکم: اتارے ہوئے بالوں کو زمین میں دفن کر دینا بہتر ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا حصہ ہیں۔
اسلام میں عقیقہ ایک اہم اور مسنون عبادت ہے جو بچے کی پیدائش پر شکر گزاری کے طور پر کی جاتی ہے۔
عقیقہ کے حوالے سے دیگر اہم احکام اور مسنون طریقے درج ذیل ہیں:
عقیقہ کا وقت ساتواں دن: عقیقہ کرنے کا سب سے بہترین اور مسنون وقت پیدائش کا ساتواں دن ہے۔
دیگر دن: اگر ساتویں دن نہ کر سکیں تو 14ویں یا 21ویں دن کرنا بھی مستحب ہے۔ اگر تب بھی نہ ہو سکے تو زندگی میں کبھی بھی کیا جا سکتا ہے۔
دن کا حساب: جس دن بچہ پیدا ہوا ہے، اس سے اگلے ہفتے کا اس سے ایک دن پہلے والا دن ساتواں دن ہوتا ہے (مثلاً اگر بچہ جمعہ کو پیدا ہوا تو عقیقہ اگلی جمعرات کو ہوگا)۔
جانوروں کی تعداد اور شرطیں
لڑکے کے لیے: دو چھوٹے جانور (بکرا یا دنبہ)۔
لڑکی کے لیے: ایک چھوٹا جانور (بکری یا دنبی)۔
بڑے جانور میں حصہ: اگر بڑے جانور (جیسے گائے یا اونٹ) میں عقیقہ کرنا ہو تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ رکھا جائے گا۔
جانور کی صحت: عقیقہ کے جانور کی شرائط وہی ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں؛ یعنی جانور صحت مند ہو، عیب دار نہ ہو، اور عمر پوری ہو (بکرا کم از کم ایک سال کا ہو)۔
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم :عقیقہ کے گوشت کے تین برابر حصے کرنا مستحب ہے، حالانکہ یہ واجب نہیں ہے اور آپ پورا گوشت بھی گھر میں رکھ سکتے یا پکا سکتے ہیں
پہلا حصہ: اپنے گھر اور اہل خانہ کے لیے۔
دوسرا حصہ: غریبوں اور مساکین کے لیے۔
تیسرا حصہ: رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے۔
پکا کر کھلانا: عقیقہ کا گوشت کچا تقسیم کرنا بھی درست ہے اور پکا کر دعوت کی شکل میں رشتہ داروں اور غریبوں کو کھلانا بھی جائز بلکہ افضل ہے۔
دیگر مسنون اعمال (ساتویں دن)نام رکھنا: بچے کا اچھا اور بامعنی اسلامی نام تجویز کرنا۔
بال منڈوانا اور صدقہ: سر کے بال منڈوا کر ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنا۔
عقیقہ کے جانور کو ذبح کرتے وقت مخصوص دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔ اگر عقیقہ کرنے والا خود ذبح کر رہا ہو تو اپنی طرف سے نیت کرے، اور اگر کوئی اور ذبح کر رہا ہو تو بچے اور اس کے والد کا نام لے کر دعا پڑھی جاتی ہے۔ذبح کرنے سے پہلے جانور کو قبلہ رخ لٹا کر درج ذیل دعائیں پڑھی جاتی ہیں:
1. ذبح سے پہلے کی عمومی دعاسب سے پہلے یہ قرآنی دعا پڑھیں:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ۔
2. عقیقہ کی مخصوص دعااس کے بعد لڑکے یا لڑکی کے لیے مخصوص الفاظ کے ساتھ یہ دعا پڑھیں:
لڑکے (بیٹے) کے عقیقہ کے لیے:اللَّهُمَّ هَذِهِ عَقِيقَةُ [بچے کا نام] دَمُهَا بِدَمِهِ ، وَلَحْمُهَا بِلَحْمِهِ ، وَعَظْمُهَا بِعَظْمِهِ ، وَجِلْدُهَا بِجِلْدِهِ ، وَشَعْرُهَا بِشَعْرِهِ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا فِدَاءً لَهُ مِنَ النَّارِ۔(ترجمہ: اے اللہ! یہ عقیقہ ہے [بچے کا نام] کا، اس کا خون اس کے خون کے بدلے، اس کا گوشت اس کے گوشت کے بدلے، اس کی ہڈی اس کی ہڈی کے بدلے، اس کی جلد اس کی جلد کے بدلے، اور اس کے بال اس کے بالوں کے بدلے ہے۔ اے اللہ! تو اس جانور کو اس بچے کے لیے جہنم کی آگ سے فدیہ (نجات کا ذریعہ) بنا دے۔)
لڑکی (بیٹی) کے عقیقہ کے لیے:اگر لڑکی کا عقیقہ ہو تو اوپر دی گئی دعا میں ضمیریں مؤنث کی ہو جائیں گی:اللَّهُمَّ هَذِهِ عَقِيقَةُ [بچی کا نام] دَمُهَا بِدَمِهَا ، وَلَحْمُهَا بِلَحْمِهَا ، وَعَظْمُهَا بِعَظْمِهَا ، وَجِلْدُهَا بِجِلْدِهَا ، وَشَعْرُهَا بِشَعْرِهَا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا فِدَاءً لَهَا مِنَ النَّارِ۔نوٹ: جہاں بریکٹ میں [بچے/بچی کا نام] لکھا ہے، وہاں بچے کا نام اور اس کے والد کا نام اس طرح لیں، مثلاً: “عَقِيقَةُ مُحَمَّد بِنْ عِمْرَان” (عمران کے بیٹے محمد کا عقیقہ)۔
3. ذبح کرتے وقتدعا ختم کرنے کے فوراً بعد چھری چلاتے ہوئے یہ الفاظ کہیں:بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ
کیاعقیقہ کی ہڈیوں کو توڑنے یا دفن کرنے کے حوالے سے کوئی خاص حکم موجود ہے ؟
عقیقہ کے جانور کی ہڈیوں کو توڑنے اور انہیں دفن کرنے کے حوالے سے فقہاء اور علماء کے درمیان کچھ روایات اور مستحب آداب منقول ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ہڈیوں کو توڑنے کا حکم :عقیقہ کے جانور کی ہڈیاں توڑنے کے بارے میں دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ کوئی واجب حکم نہیں ہے
مستحب (نہ توڑنا): فقہاء کی ایک بڑی جماعت (بشمول فقہائے احناف اور شوافع) کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ عقیقہ کے جانور کی ہڈیوں کو جوڑوں سے الگ کیا جائے اور انہیں توڑا نہ جائے۔
حکمت: اس کے پیچھے ایک نیک فالی (اچھا شگون) چھپی ہے کہ جس طرح جانور کی ہڈیاں سلامت رکھی گئیں، اللہ تعالی اس بچے کے اعضاء اور ہڈیوں کو بھی سلامت، محفوظ اور صحت مند رکھے۔
جائز (توڑنا): مالکیہ اور دیگر بعض علماء کے نزدیک ہڈیاں توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے عام گوشت کی ہڈیاں توڑی جاتی ہیں۔
خلاصہ: اگر گوشت کاٹتے یا پکاتے وقت ہڈیاں ٹوٹ جائیں تو عقیقہ بالکل درست ہے اور کوئی گناہ یا نقصان نہیں ہوتا، کیونکہ ہڈیاں نہ توڑنا صرف ایک مستحب عمل اور نیک فالی ہے، واجب نہیں ہے۔
2. ہڈیوں کو دفن کرنے کا حکم : عقیقہ کی ہڈیوں کو دفن کرنے کے بارے میں شریعت میں کوئی خاص یا لازمی حکم موجود نہیں ہے۔عام طریقہ: عقیقہ کی ہڈیوں کو عام کھانے کی ہڈیوں کی طرح کچرے میں پھینکنا جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
ادب اور صفائی: بعض لوگ احتراماً یا صفائی کی غرض سے ہڈیوں کو زمین میں دفن کر دیتے ہیں تاکہ کتے یا دیگر جانور انہیں گندگی میں نہ گھسیٹیں، ایسا کرنا اچھائی اور صفائی کے لحاظ سے بہتر ہے، لیکن اسے دین کا لازمی حصہ یا فرض نہیں سمجھنا چاہیے۔
کیا بچے کے والدین اور دادا دادی عقیقہ کا گوشت کھا سکتے ہیں؟
جی ہاں، بچے کے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور خاندان کے دیگر تمام افراد عقیقہ کا گوشت بالکل کھا سکتے ہیں۔عوام میں یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ بچے کے ماں باپ یا دادا دادی عقیقہ کا گوشت نہیں کھا سکتے، جبکہ اسلامی شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔اہم نکات:عام گوشت کی طرح: عقیقہ کے جانور کا گوشت بھی عام قربانی کے گوشت کی طرح ہوتا ہے۔ جس طرح قربانی کا گوشت گھر کے سب افراد کھا سکتے ہیں، اسی طرح عقیقہ کا گوشت بھی سب کے لیے حلال اور جائز ہے۔
دعوت میں شرکت: والدین اور دادا دادی عقیقہ کی دعوت میں شریک ہو کر خود بھی گوشت کھا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلا سکتے ہیں۔
افضل طریقہ: بہتر یہی ہے کہ اس گوشت کا کچھ حصہ غریبوں اور رشتے داروں میں بھی تقسیم کیا جائے، لیکن اگر گھر والے خود بھی استعمال کر لیں تو عقیقہ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ختنہ مبارک ختنہ کرنا اسلام میں سنتِ ابراہیمی اور شعائرِ اسلام میں سے ایک اہم فطری عمل ہے۔ ختنہ کا مفہوم اور حکم لغوی معنی : عضو تناسل کے اگلے حصے کی زائد جلد (قلفہ) کو اتارنا ختنہ کہلاتا ہے۔ شرعی حکم : ختنہ کرنا سنتِ مؤکدہ اور شعائرِ اسلام میں داخل ہے، جو طہارت اور پاکیزگی میں مدد دیتا ہے۔ ختنہ کا مناسب وقت ختنہ کروانے کا بہترین وقت بچپن کا دور ہے۔عموماً پیدائش کے چند دنوں بعد، ساتویں دن یا جب بچہ سمجھدار ہونے لگے (تقریباً 7 سال کی عمر یا بلوغ سے پہلے) ختنہ کرانا مستحب اور مناسب ہے۔ طبی اور شرعی فوائدطہارت : زائد جلد میں پیشاب کے قطرے رکنے کا خدشہ نہیں رہتا، جس سے طہارت اور غسل میں آسانی ہوتی ہے۔ صفائی : حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق یہ عمل کئی طرح کے جراثیم اور بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔ بچے کی صحت اور تندرستی کے لیے ختنہ کے حوالے سے مناسب عمر کا انتخاب اور طبی احتیاطی تدابیر انتہائی اہم ہیں۔1۔ ختنہ کے لیے مناسب عمر کا تعینطبی اور شرعی نقطہ نظر سے ختنہ کے لیے درج ذیل اوقات سب سے بہترین مانے جاتے ہیں:پیدائش کے فوراً بعد (پہلا ہفتہ): یہ سب سے آئیڈیل وقت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر پیدائش کے پہلے سے دسویں دن کے اندر (خصوصاً اسلام میں ساتویں دن) ختنہ کرنا بہترین ہے۔ اس عمر میں بچے کی جلد نرم ہوتی ہے، خون بہنے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور زخم بہت جلد (3 سے 5 دن میں) ٹھیک ہو جاتا ہے۔پہلا سال: اگر پیدائش کے فوراً بعد نہ ہو سکے، تو پہلے چند مہینوں کے اندر ختنہ کروا لینا چاہیے۔ اس وقت بچہ زیادہ ہل جل نہیں سکتا، جس سے عمل آسان رہتا ہے۔بلوغت سے پہلے: اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو جائے، تو بچہ جب سمجھدار ہونے لگے (تقریباً 3 سے 7 سال کی عمر)، تب بھی ختنہ کروایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس عمر میں بچے کو ذہنی طور پر تیار کرنا پڑتا ہے اور زخم بھرنے میں تھوڑا زیادہ وقت لگتا ہے۔2۔ طبی احتیاطی تدابیرختنہ کے عمل کو محفوظ بنانے اور زخم کو جلد ٹھیک کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:مرحلہاہم طبی احتیاطی تدابیرعمل سے پہلے• ختنہ ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر، سرجن یا ماہرِ اطفال سے ہی کروائیں۔ روایتی حجاموں سے ختنہ کروانے سے گریز کریں تاکہ انفیکشن اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔• اگر بچے کو خون کی کوئی بیماری (جیسے ہیموفیلیا) ہو یا خاندان میں ایسا مسئلہ ہو، تو ڈاکٹر کو پہلے لازمی بتائیں۔عمل کے فوراً بعد• ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق زخم پر پٹرولیم جیلی (Vaseline) یا اینٹی بائیوٹک ٹیوب لگائیں تاکہ لنگوٹ (Diaper) زخم کے ساتھ نہ چپکے۔• بچے کو چند دنوں کے لیے ڈھیلے کپڑے یا لوز ڈائپر پہنائیں۔صفائی ستھرائی• پیشاب یا پاخانہ لگنے کی صورت میں متاثرہ حصے کو نیم گرم پانی سے نرمی سے صاف کریں اور رگڑنے سے گریز کریں۔• زخم پر بننے والے پیلے رنگ کے چھلکے (Scab) کو خود اتارنے کی کوشش نہ کریں، یہ قدرتی طور پر خود اتر جائے گا۔کب ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں؟اگر ختنہ کے بعد درج ذیل علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں:زخم سے مسلسل خون بہنا جو ہلکا دباؤ دینے سے بھی نہ رکے۔ختنہ کے 12 گھنٹے بعد تک بچے کا پیشاب نہ کرنا۔زخم کے ارد گرد شدید سرخی، سوجن یا پیپ کا آنا۔بچے کو تیز بخار ہونا یا اس کا مسلسل رونا۔ بچے کے ختنہ کے بعد درد کو کم کرنا اور اسے پرسکون رکھنا زخم کو جلد ٹھیک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ختنہ کے بعد کے چند دن (خصوصاً پہلے 24 سے 48 گھنٹے) بچے کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔درد کو کم کرنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائیں:1۔ طبی اور ادویاتی طریقے (دوا کا استعمال)درد کش ادویات (Pain Killers): ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بچے کو پیراسیٹامول (Paracetamol) یا آئیبوپروفین (Ibuprofen) کے ڈراپس یا شربت دیں۔ دوا کی خوراک (Dose) بچے کے وزن اور عمر کے مطابق ہونی چاہیے، اس لیے خود سے دوا دینے کی بجائے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کریں۔اینٹی بائیوٹک یا سن کرنے والی کریم: ڈاکٹر جو مرہم (Ointment) تجویز کریں، اسے زخم پر نرمی سے لگائیں۔ بعض اوقات ڈاکٹر ایسی کریم بھی دیتے ہیں جو درد والے حصے کو عارضی طور پر سن (Numb) کر دیتی ہے۔2۔ لنگوٹ (Diaper) اور کپڑوں کی احتیاطپٹرولیم جیلی کا استعمال: ہر بار لنگوٹ بدلتے وقت زخم کے اگلے حصے پر اور لنگوٹ کے اندرونی حصے پر پٹرولیم جیلی (Vaseline) کی مناسب مقدار لگائیں۔ اس سے زخم لنگوٹ کے کپڑے یا پلاسٹک سے نہیں چپکے گا اور رگڑ کا درد نہیں ہوگا۔ڈھیلے کپڑے اور ڈائپر: بچے کو اس کے سائز سے ایک نمبر بڑا ڈائپر پہنائیں تاکہ زخم پر دباؤ نہ پڑے۔ اگر ممکن ہو تو ابتدائی 2 سے 3 دن تک لنگوٹ کے بغیر رکھیں یا بالکل ڈھیلا پاجامہ پہنائیں۔3۔ صفائی اور نہلانے کے دوران احتیاطپانی کا نرم استعمال: ابتدائی چند دن بچے کو ٹب میں بٹھا کر نہلانے سے گریز کریں۔ اگر صفائی کرنی ہو تو نیم گرم پانی کے ہلکے چھینٹے ماریں یا گیلے نرم کپڑے سے صاف کریں۔رگڑنے سے گریز: پیشاب یا پاخانہ صاف کرتے وقت ختنہ والی جگہ کو ہرگز نہ رگڑیں، بلکہ پانی بہا کر نرمی سے خشک کریں۔4۔ بچے کو ذہنی سکون اور آرام دیناگود میں لینا اور دلاسہ: شیر خوار (چھوٹے) بچوں کو ماں کی گود اور لمس سے بہت سکون ملتا ہے۔ درد کے دوران بچے کو گود میں لیں، ہلائیں اور فیڈ (دودھ) کروائیں، اس سے ان کی توجہ درد سے ہٹتی ہے۔توجہ ہٹانا (Distraction): اگر بچہ تھوڑا بڑا ہے تو اسے اس کے پسندیدہ کھلونے، کارٹون یا کہانیوں میں مصروف رکھیں تاکہ اس کا دھیان تکلیف کی طرف نہ جائے۔ بچے کے ختنہ کا زخم عام طور پر 7 سے 10 دن کے اندر مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تاہم، زخم بھرنے کا درست دورانیہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ ختنہ کس طریقے سے کیا گیا ہے اور بچے کی عمر کیا ہے۔درج ذیل جدول سے آپ دونوں طریقوں کے ٹھیک ہونے کا دورانیہ سمجھ سکتے ہیں:ختنہ کے طریقوں کے لحاظ سے دورانیہختنہ کا طریقہزخم ٹھیک ہونے کا دورانیہاہم باتپلاسٹک رنگ / رنگ والا طریقہ (Plastibell)7 سے 12 دناس طریقے میں لگائی گئی پلاسٹک کی رنگ عام طور پر 3 سے 10 دن کے اندر خود بخود گر جاتی ہے۔ رنگ گرنے کے بعد زخم تیزی سے بھر جاتا ہے۔روایتی یا سرجیکل طریقہ (Stitches / Freehand)5 سے 8 دناس طریقے میں اگر ٹانکے لگائے گئے ہوں تو وہ عام طور پر خود ہی گھلنے والے ہوتے ہیں۔ یہ زخم رنگ والے طریقے کی نسبت ذرا جلدی خشک ہو جاتا ہے۔ٹھیک ہونے کے مراحل (ابتدائی چند دن)پہلے 2 سے 3 دن: زخم کا اگلا حصہ سرخ، سوجا ہوا نظر آ سکتا ہے، اور اس پر ہلکی سی زرد رنگ کی تہہ یا چھلکا (Scab) بن سکتا ہے۔ یہ بالکل نارمل ہے اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ زخم بھر رہا ہے۔چوتھے سے ساتویں دن: سوجن کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اگر رنگ لگی ہو تو وہ اس دوران گر جاتی ہے۔دسویں دن تک: زیادہ تر بچوں کی جلد مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے اور درد ختم ہو جاتا ہے۔زخم کو جلدی ٹھیک کرنے کے لیے کیا کریں؟ہوا لگنے دیں: اگر ممکن ہو تو بچے کو دن میں کچھ دیر کے لیے بغیر ڈائپر کے رکھیں تاکہ زخم کو ہوا لگے اور وہ جلدی خشک ہو۔چھلکا نہ اتاریں: زخم پر بننے والے پیلے چھلکے کو خود ہاتھ سے اتارنے کی کوشش ہرگز نہ کریں، ورنہ دوبارہ خون نکل سکتا ہے۔
