میت بھی اب مہنگی ہو گئی
تحریر: انجینئر افتخار چودھری
ملائشیا سے اسلم چوہان نے فون پر ایک ایسا مسئلہ بیان کیا جس نے دل کو بے چین کر دیا۔ وہ برسوں سے ملائشیا میں مقیم پاکستانیوں کے حالات دیکھ رہے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کے دکھ کو قریب سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کی ملائشیا کے لیے پروازوں کی بندش نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے صرف سفری مشکلات ہی پیدا نہیں کیں بلکہ ایک ایسا انسانی مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے جس کا تعلق انسان کی زندگی کے بعد کی آخری منزل سے ہے۔
بیرون ملک رہنے والا پاکستانی اپنے وطن سے ہزاروں میل دور روزگار کی تلاش میں زندگی گزار دیتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، گھر والوں کو رقم بھیجتا ہے، ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اور ہر خوشی اور غم کے موقع پر پاکستان سے جڑا رہتا ہے۔ لیکن جب خدانخواستہ کسی پاکستانی کا انتقال ہو جائے تو اس کے خاندان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ میت کو پاکستان لایا جائے، اپنے شہر، اپنے گاؤں اور اپنے آبائی قبرستان میں دفن کیا جائے۔
یہ خواہش صرف جذباتی نہیں، ہمارے معاشرے میں ایک گہری دینی، ثقافتی اور خاندانی روایت بھی ہے۔
مگر آج صورت حال یہ ہے کہ میت کو پاکستان لانا بھی ایک ایسا مالی بوجھ بنتا جا رہا ہے جسے عام پاکستانی خاندان برداشت نہیں کر سکتا۔
اسلم چوہان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی کی میت ملائشیا سے لاہور منتقل کرنے کے لیے تقریباً گیارہ ہزار رنگٹ خرچ ہوئے۔ یہ رقم کسی بڑے کاروباری شخص کے لیے شاید قابل برداشت ہو، لیکن ملائشیا میں محنت مزدوری کرنے والے ایک عام پاکستانی کے لیے یہ رقم بہت بڑا بوجھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو پاکستانی ساری زندگی پردیس میں اپنے خاندان کے لیے خون پسینہ ایک کرتا رہا، اگر وہ وہیں مر جائے تو کیا اس کے اہل خانہ اس کی میت بھی اپنے وطن نہیں لا سکتے؟
یہاں اصل سوال صرف پی آئی اے کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پی آئی اے محض ایک عام کمرشل ایئرلائن نہیں رہی۔ اس ادارے کی ایک قومی حیثیت بھی ہے۔ ماضی میں جب پی آئی اے کو عام کاروباری اصولوں کے تحت چلانے یا نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بات ہوئی تو یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ کیا صرف منافعث اور خسارے کی بنیاد پر قومی ایئرلائن کا کردار متعین کیا جا سکتا ہے؟
پی آئی اے کئی ایسے روٹس پر بھی پروازیں چلاتی رہی ہے جو شاید ہر وقت تجارتی اعتبار سے سب سے زیادہ منافع بخش نہ ہوں، لیکن ان کی قومی، سفارتی، دفاعی، معاشرتی اور اسٹریٹجک اہمیت اپنی جگہ موجود ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پاکستانیوں سے رابطہ قائم رکھنا بھی ریاستی ضرورت ہے۔
نجکاری یا انتظامی تبدیلی کا مقصد اگر یہ ہے کہ پی آئی اے کو اس کے منافع بخش پہلو سے فائدہ اٹھایا جائے، اس کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جائے تو اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ادارے کے منافع کا فائدہ تو نئے انتظامی ڈھانچے یا نجی فریق کو زیادہ سے زیادہ دیا جائے اور وہ ذمہ داریاں جو ایک قومی ایئرلائن کے حصے میں آتی تھیں، ریاست کے کندھوں پر چھوڑ دی جائیں تو پھر سوال ضرور اٹھے گا۔
کیا قومی ادارے کا مطلب صرف اس کا منافع ہے؟
کیا اس کی ذمہ داریاں کوئی معنی نہیں رکھتیں؟
اگر پی آئی اے کے منافع بخش روٹس اور اثاثوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے تو پھر ان روٹس اور خدمات کے بارے میں بھی واضح پالیسی ہونی چاہیے جن کی تجارتی اہمیت کم لیکن قومی یا انسانی اہمیت زیادہ ہے۔
ملائشیا میں مقیم پاکستانیوں کا مسئلہ اسی بڑے سوال کا حصہ ہے۔
ہم حکومت سے یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر غیر منافع بخش پرواز ہمیشہ جاری رکھی جائے، لیکن یہ ضرور پوچھ رہے ہیں کہ اگر کسی روٹ کو تجارتی بنیاد پر بند کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی اور قومی ضروریات کا متبادل کیا ہے؟
خاص طور پر میتوں کی وطن واپسی کے لیے حکومت کو فوری اور مستقل پالیسی بنانی چاہیے۔
میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ ملائشیا سمیت ان اہم ممالک کے لیے فضائی رابطے کا ایسا نظام بنایا جائے جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اگر پی آئی اے ہر روٹ پر پرواز نہیں چلا سکتی تو دوسری بین الاقوامی ایئرلائنز کے ساتھ خصوصی معاہدے کیے جائیں تاکہ میت کی منتقلی کم سے کم اخراجات میں ممکن ہو سکے۔
اس کے ساتھ بیرون ملک وفات پانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک باقاعدہ “میت منتقلی فنڈ” قائم کیا جائے۔ پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو واضح اختیار دیا جائے کہ وہ ایسے معاملات میں فوری انتظامی اور مالی مدد فراہم کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح کے موجودہ نظام کو بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ میت کی منتقلی کے اخراجات میں رعایت کے لیے ایئرلائنز سے مستقل بنیادوں پر معاہدے کیے جائیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بیرون ملک پاکستانی صرف زرمبادلہ بھیجنے والے افراد نہیں۔ وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کا ملک کے ساتھ رشتہ صرف بینک اکاؤنٹ اور ترسیلات زر تک محدود نہیں۔ ان کے دکھ، ان کی مشکلات اور ان کی آخری خواہشات بھی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔
اسلم چوہان کی آواز دراصل ملائشیا میں موجود ہزاروں پاکستانیوں کی آواز ہے۔ آج ایک خاندان گیارہ ہزار رنگٹ جمع کرکے اپنے پیارے کی میت پاکستان لانے پر مجبور ہوا ہے، کل یہ آزمائش کسی اور خاندان پر آ سکتی ہے۔
ریاستیں صرف اس وقت نہیں پہچانی جاتیں جب وہ اپنے شہریوں کو روزگار یا سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ریاست کی اصل آزمائش اس وقت بھی ہوتی ہے جب اس کا شہری سب سے کمزور حالت میں ہو۔
ایک پاکستانی جب پردیس میں زندگی گزار رہا ہو تو وہ پاکستان کا سفیر ہے، اور جب خدانخواستہ اس کا انتقال ہو جائے تو کم از کم اتنا حق ضرور رکھتا ہے کہ اس کے خاندان کو اس کی میت وطن لانے کے لیے مالی اذیت میں نہ ڈالا جائے۔
پی آئی اے کو اگر نئے ہاتھوں میں دیا گیا ہے تو اس کے منافع کا حساب ضرور رکھا جائے، لیکن اس کے قومی اور انسانی کردار کو بھی فراموش نہ کیا جائے۔ منافع کسی ادارے کی کامیابی کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے، مگر قومی ذمہ داری کا متبادل نہیں۔
حکومت سے میری اپیل ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک پرواز کی بندش نہ سمجھا جائے۔ ملائشیا کے پاکستانیوں کے لیے فوری حل نکالا جائے، میتوں کی منتقلی کے لیے خصوصی رعایت اور فنڈ کا نظام بنایا جائے اور اوورسیز پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ وطن سے دور ضرور ہیں، مگر ریاست کی ذمہ داریوں سے باہر نہیں۔
آخر میں صرف اتنا:
جو پاکستانی اپنی زندگی کا بہترین حصہ پردیس میں گزار کر وطن کو زرمبادلہ بھیجتا ہے، اسے کم از کم اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے اتنا بے سہارا نہ چھوڑا جائے کہ اس کی میت بھی اس کے خاندان کے لیے ایک ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بن جائے
