میثاق جمہوریت کے جھوٹ پر اکٹھے ہیں

اسلام آباد—
نائب امیر جماعت اسلامی، سیاسی قومی امور قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں آزاد جموں و کشمیر انتخابی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر میں ایک دوسرے کے بارے میں کڑوا سچ اُگل رہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے جھوٹ پر اکٹھے ہیں. مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے جمہوریت، انتخابات، ووٹ کے تقدس اور سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کی منڈی بنانے میں ہولناک کردار ادا کیا ہے. آزاد جموں و کشمیر میں عوامی احتجاج پر ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان انتہائی تکلیف دہ تصادم ہورہا ہے، عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں گِررہی ہیں، لیکن دونوں اتحادی جماعتیں کشمیر کے اندر اس انتہائی اھم اور کشمیر کاز کےلئے الارمنگ عوامی ایشو پر توجہ دینے کی بجائے سیٹوں کی بندر بانٹ، ووٹ کے تقدس کی پامالی کے شرمناک کھیل میں مصروف ہیں. جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج کمیٹی کی قیادت اور سکیورٹی فورسز دونوں کی طرف سے اندھی طاقت کے استعمال کے غرور کی وجہ سے معاملات دونوں کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں. وزیراعظم، فیلڈمارشل، قومی سیاسی قیادت اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت معاملات کو سنبھالیں اور انسانی جانوں کے ضیاع سے پیدا ہونے والی ہولناکی کا سدّباب کریں. مسئلہ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچادیا گیا ہے، شہداء کا خون بدتدبیروں کو معاف نہیں کرے گا. سکیورٹی فورسز نے کئی مرتبہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات اور معاہدے کئے جو غلط حکمتِ عملی ثابت ہوئی. اب یہ مرحلہ تھا کہ سیاسی کردار کو راستہ دیا جاتا اور صورتِ کی مزید المناک سے بچا جاسکتا تھا. اب بھی موقع ہے کہ صورتِ حال کو سنبھال کر اس کا بہتر اختتام کرلیا جائے، یہ زخموں پر مرہم کا کام کرے گا. انسانی جانیں، خواہ وہ سکیورٹی اداروں کی ہوں یا عوام کی، برابری کی بنیاد پر قیمتی ہیں. آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے انتخابات کا تقدس پامال کیا ہے اور اپنی روِش سے انڈیا کے کشمیر پر شب خون مارنے کے طرز کا ماحول پیدا کردیا ہے، جو بڑا المناک، سفاکانہ اور سیاسی خودغرضی کا بدترین کھیل اور شہداء کی قربانیوں سے غداری ہوگی.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی، ناجائز تیکسز اور مارجنز عوام کے لئے قابلِ قبول نہیں
آئی ایم ایف کو غلط بنیاد بنایا جارہا ہے. قومی محصولات میں اضافہ اُسی وقت ممکن ہے کہ جب پیداواری لاگت کم ہو اور تیل، بجلی، گیس کی قیمتیں منصفانہ اور قابلِ برداشت ہوں. 7 اگست کو حافظ نعیم الرحمن کی کال غریب، متوسط طبقات اور خواتین و نوجوانوں کی ترجمانی ہے. ملک بھر میں بیک وقت پُرامن احتجاج کے ذریعے ٹرانسپورٹرز، موٹرسائیکل، گاڑیوں والے خود شاہراہوں کو جام کردیں گے. وفاقی اور صوبائی حکومتیں جان لیں کہ عوام کے غم و غصے اور پریشانیوں کا لاوہ پھٹنے کو تیار ہے. نریندر مودی، حسینہ واجد عوامی احتجاج کے سامنے نہیں ٹھہر سکے تو فارم 47 والوں کی تو کوئی بنیاد ہی نہیں. #