پانچ اگست2019 ء کی ہولناک اور تلخ یادیں

جاوید الرحمن ترابی

پانچ اگست2019 ء کی ہولناک اور تلخ یادیں قلب و ذہن کو آج بھی چھلنی کرکے رکھ دیتی ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ نے اپنے ہی آئین کو روندتے ہوئے جنت نظیر کشمیر کو ہڑپ کر لیا اور اس کی خودمختار آئینی ریاستی حیثیت ختم کردی ، جو خود بھارت کے بانی راہنماؤں نے اسے 1947 ء سے دے رکھی تھی۔اس وقت بھارت میں مودی جیسا مکاراور گھاگ سیاستدان، وزیر اعظم تھا اور پاکستان میں سیاست اور ڈپلومیسی کی ابجد سے بھی ناواقف عمران خان کی حکومت تھی۔اس نے خالی خولی بیانات سے بھارت کی اس قبیح حرکت کا جواب دینے کی کوشش کی۔ہر چند اس نے جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت سے لڑے گا، اس کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا مگر عمران خان نے بھارت کو کشمیر ہڑپ کرنے سے روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہ کیا، الٹا اس نے کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بھارت کو کرتارپور کی راہداری کی سہولت سے نوازا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان ملک کے اندر اور باہر پاکستان کے عوام کے لئے حقیقی آزادی کے دلکش نعرے لگاتا رہا لیکن بھارت کے سفاک بھیڑیوں کو کشمیریوں کی خون آشامی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور ان کی غلامی پر اس نے مگر مچھ کے آنسو تک نہ بہائے ۔
بھارت کی تاریخ سیاہیوں سے لتھڑی پڑی ہے۔ لیکن پانچ اگست2019ء کے یوم سیاہ کی تاریکیوں نے اس کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔ بھارت ایک فاشسٹ حکومت کے زیرتسلّط ہے، جس کے تمام نظریات وہی ہیں جو آر ایس ایس جیسی دہشت گرد تنظیم کے ہیںاور آر ایس ایس کے بانیوں کے سامنے ہٹلراور مسولینی قومی ہیروکی حیثیت رکھتے ہیں،جن کے جبر واستبدادکی مثالوں سے تار یخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔بھارت کی بی جے پی کا وزیراعظم نریندرمودی ایک ’’خون پینے والی بلا‘‘کے طورپر مشہور ہے، اسے گجرات کے قصائی کانام بھی دیا گیاجہاں اس نے ہزاروں مسلمانوں کو ایک ٹرین میں زندہ جلادیاتھا۔
نریندرمودی کے فاشزم نظریئے میں آئین کی بھی کوئی حیثیت وقدروقیمت نہیں، اس نے 5اگست 2019ء کو دن کے اجالے میں بھارت کے آئین کو توڑتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ طورپرقبضہ جمالیاتھا، اور اس کیلئے نہرواورگاندھی جیسے بھارت کے اپنے تاریخی مسلّمہ بانیوں کے تشکیل کردہ آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370اور 35A کوروند ڈالااور کشمیر کی وہ خصوصی حیثیت ختم کردی جس کو انگریزسرکار بھی ختم نہیں کرسکی تھی۔اور اس نے کشمیر کو اندرونی خودمختاری دیئے رکھی۔مگر نریندرمودی نے ایک غیرآئینی وار کیا اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کیلئے ایک ایسی چال چلی جس سے بھارت کے اندر موجود دوسری خصوصی حیثیت کی حامل ریاستوں پر لرزہ طاری ہوگیااور وہ کانپ اٹھیں کہ آج کشمیرکی باری، توکل ان پر بھی غیرآئینی کلہاڑاچلادیاجائیگا۔
بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے نہ صرف اپنے آئین کو پامال کیا، بلکہ سلامتی کونسل کی نصف درجن قراردادوں کو بھی ردّی کی ٹوکری کی نذرکردیا،جن میں کشمیر کو متنازع قرار دیاگیا تھااور اس تنازع کے حل کیلئے ایک آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب کی تجویز دی گئی تھی تاکہ یو این او کی نگرانی میں کرائے جانے والے ایک ریفرنڈم میں کشمیری عوام یہ فیصلہ کرسکیںکہ وہ بھارت کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پاکستان میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ بھارت اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ اس نے سلامتی کونسل کی استصواب ِ رائے کی قراردادوں کا باب بند کردیا ہے۔
پانچ اگست 2019ء کے یوم سیاہ کے مو قع پر بھار ت نے پورے جموں و کشمیر کو ایک عقوبت خانے میں تبدیل کردیا۔عالمی میڈیا کشمیر کو ایک وسیع جیل خانے کا نام دیتا ہے۔ جہاں لاک ڈاؤن کرکے 90لاکھ کشمیری مسلمانوں کو گھروں میں بندکردیا گیاہے۔بھارت کا یہ ظالمانہ اقدام اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے عالمی چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جس میں ہرشہری کو نقل وحرکت کی آزادی دی گئی، اظہارِ رائے کی آزادی دی گئی ہے، اجتماع کی آزادی دی گئی ہے، مذہبی عبادات کو بجالانے کی آزادی دی گئی ہے اور بیرونی دنیا سے رابطہ برقرار رکھنے کی آزادی دی گئی ہے۔ بھارت نے 5اگست کے ایک اوچھے وار سے ان تمام شہری حقوق کاقتل عام کرڈالا،اس نے لینڈلائن،موبائل فون اور وائی فائی کی انٹرنیٹ سروسز معطل کررکھی ہیں،جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری اپنی ابتلاء سے کسی کو آگاہ بھی نہیں کرسکتے۔
کشمیر کے ہسپتالوں پر،کشمیرکی مساجد پر، کشمیرکے اسکولوں، کالجوں، بازاروں اورکھیت کھلیانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر گلی میں ایک بھارتی پہرے دار جدیدترین اسلحہ لہرائے کھڑاہے۔کوئی آٹھ سال کا بچہ بھی گھر سے باہر قدم رکھے یا 80سالہ بوڑھا کہیں سے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرنے باہر نکلے تو انہیں گولیوں سے بھون کر رکھ دیا جاتا ہے۔ انکی میتّیں اٹھانے اور انکی تجہیز و تکفین کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔بھارتی فوج اب تک 30 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کوسرچ اپریشن کے بہانے گھروں سے اٹھاکر لاپتہ کرچکی ہے۔کسی کو معلوم نہیں کہ انکی تقدیر کا فیصلہ کیا ہوا۔ کیا انہیں شہید کردیا گیا یا وہ کسی سیف ہائو س میں ٹارچر کا نشانہ بن رہے ہیں یا وہ بھارتی جیلوں میں گلنے سڑنے کیلئے چھوڑدیئے گئے ہیں۔
1947ء میں ریڈ کلف ایوارڈ کی ملی بھگت اور ہندومہاراجے سے غیرتحریری ،غیراعلانیہ ،خودساختہ معاہدے کی مدد سے جموں و کشمیر پر جابرانہ فوجی تسلط قائم کرنے کے بعد آج بھارت مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرچکاہے،لیکن اس بندربانٹ کے باوجود کشمیر ی عوام بھارت کے جابرانہ اور فاشسٹ تسلط کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ہرروز سری نگر اور نواحی قصبوں میں نوجوان کشمیریوں کی دو تین لاشیں گرتی ہیں، یہ نوجوان گھس بیٹھئے یا درانداز نہیں ہوتے۔ انہیں پاکستان یا کسی اور بیرونی ریاست کی پشت پناہی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ نوجوان برہان وانی کے جہادی جذبوں سے سرشار ہیں اور برہان مظفروانی وہ نوجوان تھا جو کشمیر کا حقیقی فرزند تھا اور جس نے حریت کا درس سید علی گیلانی، سید شبیر شاہ اور یاسین ملک جیسے جانبازوں اور آزادی کے پروانوں سے حاصل کیا تھا۔ شہید وانی کے جسم سے ٹپکنے والے خون کے ہرقطرے سے یہی صدا بلند ہوئی کہ کشمیر بنے گا پاکستان!! کشمیر کے چناروں سے ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔ پانچ اگست کے سیاہ ترین اقدام سے بھارت کشمیر کی بند گلی میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ پانچ اگست کا یوم سیاہ بلاشبہ اس کا یوم حساب بن کر رہے گا۔اوراہل کشمیر کو ضرور آزادی نصیب ہوگی