نظام کی ناکامی، احساسِ زیاں اور سوالِ پاکستان

انعام مورگانائیٹ

حیرت انگیز بات نہیں کہ جس نظام کا حصہ موصوف خود برسوں تک رہے، ایک صحافی سے وزارتِ اعلیٰ تک کا سفر طے کیا، داخلہ، خارجہ اور کھیل جیسے اہم ترین شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں، بلکہ حالیہ عرصے میں عالمی سفارت کاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، آج وہی شخص پورے نظام کو ناکام قرار دے رہا ہے۔

مان لیتے ہیں کہ نظام ناکام ہوچکا ہے، مگر پھر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اسے اس مقام تک پہنچانے والوں میں صرف مخالفین شامل نہیں۔ وہ تمام لوگ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو برسوں اس نظام کے اہم ستون، فیصلہ ساز اور فائدہ اٹھانے والے رہے۔

ناکامی کی ذمہ داری اجتماعی ہوتی ہے۔ اس کا تمام بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈال دینا نہ انصاف ہے اور نہ دیانت داری۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ خود احتسابی بھی لازم ہے۔ نظام کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتے وقت کرداروں کی فہرست مکمل ہونی چاہیے، ادھوری نہیں۔

چلیے، اب احساسِ زیاں تو ہوگیا؛ مگر سوال یہ ہے کہ اس بیماری کا علاج کیا ہے اور یہ علاج کون کرے گا؟ کیا وہی لوگ جو خود اس بیماری کا سبب، حصہ اور برسوں اس کے سب سے بڑے مستفید رہے؟

خدارا! پہلے ایک منصفانہ، قابلِ عمل اور پائیدار نظام بنائیے، پھر اسے آئین و قانون کے مطابق چلنے بھی دیجیے۔ ہر چند سال بعد چہرے بدلنے، جماعتیں توڑنے، نئی جماعتیں بنانے اور سیاسی انجینئرنگ کرنے سے کوئی ملک ترقی نہیں کرتا۔

حالات دیکھ کر اب تو تقسیمِ ہند کے مقصد پر بھی دل میں سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہاں بھی وہی طبقاتی نظام، وہی موروثی سیاست، وہی ناانصافی، وہی استحصال اور وہی طاقت ور کے لیے الگ قانون قائم رہنا تھا تو پھر ہم نے ایک الگ مملکت کس مقصد کے لیے حاصل کی تھی؟

کیا پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ نسل در نسل چند سیاسی خاندانوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مذہب کو کاروبار بنانے والوں کی پرورش ہوتی رہے؟ کیا قومی وسائل صرف زرداریوں، شریفوں، فضل الرحمٰنوں اور دیگر سیاسی خانوادوں کی اگلی نسلوں کے کاروبار اور اقتدار کے لیے وقف ہیں؟

اس پاکستان کا کیا ہوا جس کے لیے نعرہ بلند کیا گیا تھا:

پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الٰہ الا اللہ، محمد رسول اللہ ﷺ

کیا سود پر قائم معیشت، بدعنوانی میں ڈوبا معاشرہ، کمزوروں کا استحصال، معصوم بچیوں کے ساتھ ظلم، طاقت ور مجرموں کا تحفظ اور فراڈ کرنے والوں کی سیاسی کامیابی ہی تصورِ پاکستان تھا؟

جہاں جتنا بڑا فریب کار ہو، وہ اتنا ہی کامیاب سیاست دان سمجھا جائے؛ جہاں مذہبی شخصیات دین کی خدمت کے بجائے مذہب کو سیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں؛ جہاں انصاف خریدنا پڑے اور قانون کمزور کے لیے زنجیر مگر طاقت ور کے لیے کھلونا بن جائے—وہ معاشرہ اسلامی فلاحی ریاست کیسے کہلا سکتا ہے؟

اگر واقعی پاکستان کو بدلنا ہے تو ابتدا اپنے آپ سے کرنا ہوگی۔ افراد کو بھی بدلنا ہوگا، اداروں کو بھی اور حکمرانی کے طریقے کو بھی۔ محض اسلامی نعروں کے بجائے اسلام کے اصول نافذ کرنا ہوں گے: عدل، امانت، دیانت، مساوات، جواب دہی، انسانی حرمت اور کمزور طبقات کی کفالت۔

ہمیں مذہب کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی ریاست نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق چلنے والی فلاحی ریاست چاہیے۔ ایسی ریاست جہاں حکمران قوم کے مالک نہیں بلکہ خادم ہوں، قومی خزانہ امانت ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور اقتدار خاندانی وراثت نہ بنے۔

پاکستان کسی خاندان، جماعت، جاگیردار، سرمایہ دار یا مذہبی پیشوا کی ذاتی جاگیر نہیں۔ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی امانت ہے۔

ہمیں ایک حقیقی مسلمان معاشرہ چاہیے؛ ایسا پاکستان جو عدل، اخلاق، علم، خدمت اور انسانی احترام کی علامت ہو۔ ہمیں اس خواب کی تعبیر چاہیے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں۔

پاکستان کو سیاسی خاندانوں کا کاروباری بازار نہیں، ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بننا ہوگا۔