محترمہ فاطمہ جناح (1893-1967)

میا ں منیر احمد
محترمہ فاطمہ جناح (1893-1967)
31 جولائی 2026 محترمہ فاطمہ جناح کا133 واں یوم پیدائش ہے‘ جو اسلام آباد اور راولپنڈی کی حد تک تو خاموشی سے گزر گیا‘ کسی سیاسی جماعت‘ حتی کہ مسلم لیگ کے کسی بھی دھڑے کے دفتر میں آج کے مسلم لیگی ”راہنماؤں“ کی طرح ان کے یوم پیدائش پر کیک نہیں کاٹا گیا‘ ہوسکتا ہے کہ آج کے مسلم لیگی راہنماؤں کو خوف ہو کہ کہیں ایوب خان ”حیات“ تو نہیں؟ محترمہ فاطمہ جناح کے لیے ایک جمہوری وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی نے2003 کو اپنی وزارت عظمی کے دور میں فاطمہ جناح کے سال کے طور پر منایا تھا‘ بعد میں آنے والے کسیوزیر اعظم کو یہ توفیق نہیں ہوسکی‘ ان کے بعد چند ماہ کے لیے چوہدری شجاعت حسین عبوری وزیر اعظم بنے‘ ان کے بعد شوکت عزیز‘ پھر یوسف رضا گیلانی‘ ان کے بعد راجا پرویز اشرف‘ ان کے بعد نواز شریف‘ پھر شاہد خاقان عباسی‘ پھر عمران خان‘ ان کے بعد شہباز شریف اور اب پھر شہباز شریف ہی ملک کے وزیر اعظم ہیں‘ ان کے دور میں تو فاطمہ جناح کے کسی یوم وفات یا یوم پیدائش پر ان کی صدارت میں کوئی تقریب نہیں ہوئی‘ شہباز شریف مسلم لیگی راہنماء ہیں‘ راولپنڈی میں ایک لیگی خاندان کے سپوت جناب ڈاکٹر جمال ناصر‘ جو مسیحا نہیں ایک رو شن چراغ ہیں–
بہت سی باتوں کے گواہ ہیں کہ ان کے والدین محترم نثار احمد اور ان کی اہلیہ محترمہ‘ جرائت مندی کے ساتھ‘ آمریت کے خلاف کھڑے ہوئے اور محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں ان کے پولنگ ایجنٹ تھے‘ ان سے گزارش ہے کہ وہ فاطمہ جناح کے لیے کوئی فورم تشکیل دیں‘ بہت سالوں پہلے مس جناح کے ایک سابق محافظ میر ظفر اللہ خان جمالی نے اعلان کیا تھا ”جمہوریت کے لیے ایک صلیبی کے طور پر بانی پاکستان کی چھوٹی بہن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے، ہم انہیں 2003 کو محترمہ فاطمہ جناح کے سال کے طور پر منا کر یاد رکھیں گے” تب وہ پاکستان کے وزیر اعظم تھے‘ غالباً اسی سال کسی نے انکشاف کیا تھا مادر ملت کو قتل کیا گیا تھا‘ انکشاف کرنے والی شخصیت سابق اٹارنی جنرل اور 1941 سے 1944 تک قائداعظم کے اعزازی سیکرٹری شریف الدین پیرزادہ تھی جنہوں نے اسلام آباد میں تقریب میں کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مس فاطمہ جناح 1967 میں قدرتی موت نہیں مری تھیں بلکہ شاید ان کے کسی بندے نے قتل کیا تھا‘ جناب پیرزادہ اس وقت وزیراعظم جمالی کے سینئر مشیر تھے اور جمالی ہی وہ وزیر اعظم تھے جنہوں نے2003 کوفاطمہ جناح کا سال قرار دیا تھا‘ اس وقت بھی بہت کچھ لکھا گیا کہ ‘مس جناح کی موت کی حقیقت مسٹر پیرزادہ کے دعوے کی مناسب چھان بین کے بعد معلوم کی جائے مگر یہ کام نہ ہوسکا“مس جناح کی موت کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے ایک پرانی کیم ڈائری سے ایک اقتباس ہے کہ ”جناح کی بہن کی عادت تھی کہ وہ اپنے بیڈروم کا دروازہ بند کر کے گھر کی ملازمہ کے لیے صبح کے وقت چابیاں دروازے کے نیچے رکھ کر اندر داخل ہو کر ان کے پاس جاتی تھیں۔ المناک دن کوئی چابی نہیں تھی اور دروازہ بند رہا، کسی نے اندر جانے کی ہمت نہ کی۔ جب ”ایم اے ایچ کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے فاطمہ کو مردہ پایا۔ شبہ ظاہر کیا گیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا! اس کی گردن پر گلا گھونٹنے کے نشانات تھے۔ جب ان کی موت واقع ہوئی اس وقت ملک میں ایوب خان کی حکومت تھی محترمہ فاطمہ جناح جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی امیدوار بھی رہیں‘’ لیکن ان کی موت کا تعلق ایوب حکومت کے ساتھ کبھی بھی نہیں بیان کیا گیا‘ ایک سابق سفارت کار قطب الدین عزیز نے بھی جناب پیرزادہ کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا‘”انہوں نے کہیں بولا یا لکھاکہ فاطمہ جناح کا انتقال 9 جولائی 1967 کی صبح ہوا اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ صبح 9 بجے کے قریب موہٹہ پیلس پہنچے۔ دیکھا کہ فاطمہ جناح کی گردن پر سرخ نشان تھا لیکن کٹ یا خون بہنے کے نشانات نہیں تھے”۔ ضمیر نیازی اپنی کتاب پریس ان چینز میں کہتے ہیں، ”1964 کے اہم صدارتی انتخابات کے دوران جب مس فاطمہ جناح نے ایوب خان کو مشترکہ اپوزیشن پارٹیوں کے امیدوار کے طور پر چیلنج کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو انتخابی مہم کی سرکاری کوریج کا جھکاؤ اس وقت کی حکومت کے حق میں تھا”
آج بھی ان کا یوم پیدائش خاموشی کے ساتھ گزر گیا‘ ان کی وفات کو ایک عرصہ گزر گیا ہے‘’اب وقت آگیا ہے کہ قوم پختگی کی اس سطح کو حاصل کرے جس کے ذریعے وہ کچھ حقائق سے ہم آہنگ ہو اور اپنی (مس جناح) کی زندگی سے متعلق کچھ جواب طلب سوالات کو حل کرنے کی کوشش ہوسکے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ”اصل سچائی کیا ہے؟ اور دوسری بات بات وہ نسل جو اس وقت جوان تھی‘ اور تعلیم یافتہ بھی‘ ہالات سے واقف بھی تھی‘ اگر اس نسل کے لوگ آج حیات ہیں تو ضرور کچھ لکھیں جو سچ بھی ہو تاکہ پاکستان کے لوگ ”غم، صدمے اور خوف“ کا شکار ہوئے بغیر اپنی حقیقی تاریخ سے واقف ہوں