حویلی کا الیکشن: یہ پارٹیوں کا نہیں، عوام کے مینڈیٹ کا سوال ہے

باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری

آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 17 حویلی کہوٹہ کا انتخاب اب محض ایک انتخابی حلقے کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ سوال بن چکا ہے کہ کیا آزاد کشمیر میں بھی ووٹر کا فیصلہ وہی ہوگا جو پولنگ اسٹیشن کے اندر عوام نے دیا، یا پھر کاغذوں، فارموں اور طاقت کے استعمال سے اس فیصلے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز نے فارم 24 میں مبینہ ٹمپرنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے اور الیکشن کمیشن نے اسے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 13 اگست کو مظفرآباد میں اجلاس طلب کیا ہے۔
یہ ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اصل فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ ثبوت، ریکارڈ اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ چوہدری محسن عزیز کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران کے نتائج موجود ہیں جن کے مطابق انہیں تقریباً 8600 ووٹوں کی برتری حاصل تھی، جبکہ ریٹرننگ افسر کے نتائج اس سے مختلف ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ثابت نہ ہوئے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔
اب گیند الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہے۔
لیکن حویلی کے اس معاملے کو صرف مسلم لیگ (ن) بمقابلہ پیپلز پارٹی سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ میرے پاس حویلی ہی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی گفتگو پہنچی ہے۔ اس نے جو باتیں بتائیں، ان میں سے بعض دعوے آزادانہ طور پر ثابت شدہ نہیں، اس لیے انہیں حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ تاہم ان خدشات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ حویلی میں گجر برادری کی ایک بڑی آبادی موجود ہے اور راٹھور برادری بھی ایک اہم سیاسی و سماجی قوت ہے۔ اس کے مطابق انتخابی سیاست میں برادری، انتظامی اثرورسوخ اور سیاسی طاقت کا امتزاج نتائج پر اثرانداز ہونے کی شکایات کو جنم دیتا ہے۔
میری نظر میں اصل سوال برادری کا نہیں، برادری کے ووٹ کے احترام کا ہے۔
اگر کسی گجر نے ووٹ دیا ہے تو وہ صرف گجر کا ووٹ نہیں، پاکستان کے ایک شہری کا ووٹ ہے۔ اگر کسی راٹھور نے ووٹ دیا ہے تو وہ بھی پاکستان کے ایک شہری کا ووٹ ہے۔ کشمیری، پنجابی، پٹھان، گجر، راٹھور، سید، مغل یا کوئی بھی دوسری شناخت—جمہوریت میں سب کی حیثیت برابر ہے۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی ماحول میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ گجر امیدواروں اور گجر ووٹ کے حوالے سے شکایات کئی مقامات سے سامنے آئیں۔ اگر واقعی کسی حلقے میں کسی امیدوار کو صرف اس لیے نقصان پہنچایا گیا کہ وہ گجر تھا، تو یہ صرف ایک امیدوار کی شکست نہیں؛ یہ جمہوری اصول کی شکست ہے۔
اور میں یہ بات بحیثیت پاک کشمیر گجر فورم کے چیئرمین پوری ذمہ داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں جہاں گجر امیدواروں کے انتخابی نتائج پر سنجیدہ اعتراضات ہیں، وہاں بلا امتیاز دوبارہ گنتی، فارم 45، فارم 47 اور فارم 24 کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ خصوصاً مظفرآباد سمیت ان حلقوں میں جہاں امیدواروں نے باقاعدہ اعتراضات اٹھائے ہیں، الیکشن کمیشن کو شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں۔
یہ مطالبہ کسی جماعت کے حق میں نہیں۔ یہ مطالبہ ووٹ کے حق میں ہے۔
حویلی میں چوہدری محسن عزیز نے جو سیاسی چیلنج دیا ہے، وہ بھی قابلِ غور ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کہا ہے کہ دوبارہ گنتی کرا لی جائے؛ اگر وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ثابت نہ ہوئے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔
تو پھر سوال بہت سادہ ہے:
دوبارہ گنتی سے ڈرنا کیوں؟
اگر نتیجہ درست ہے تو دوبارہ گنتی کے بعد وہی نتیجہ سامنے آئے گا۔ اگر نتیجہ غلط ہے تو غلطی درست ہو جائے گی۔ اور اگر کسی جگہ دھاندلی ہوئی ہے تو عوام کا مینڈیٹ واپس مل جائے گا۔
جمہوریت میں اس سے بہتر راستہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
میں یہاں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔ حویلی کے نوجوان نے مجھ سے کہا کہ وہاں انتظامی طاقت، پولیس، سیاسی اثرورسوخ اور ریاستی مشینری کے استعمال کے بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ یہ الزام اگر لگایا گیا ہے تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیے۔ کسی وزیراعظم یا بڑے سیاسی عہدیدار کے خلاف الزام ہو تو اس کا جواب بھی قانون کے ذریعے ہی آنا چاہیے، سیاسی دباؤ سے نہیں۔
اسی طرح الیکشن کمیشن کے کسی رکن یا کسی ادارے کے کسی عہدیدار کے بارے میں رشوت یا اقرباپروری کے الزامات لگانا انتہائی سنگین بات ہے۔ میرے پاس ان الزامات کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، اس لیے میں انہیں حقیقت نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے اور متعلقہ ادارے تحقیقات کریں۔ الیکشن کمیشن کی ساکھ ہی انتخابات کی ساکھ ہے۔
ہم نے پاکستان میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد فارم 45، فارم 47 اور انتخابی نتائج کے تنازعات پر طویل بحث دیکھی ہے۔ اگر آزاد کشمیر بھی اسی راستے پر چل پڑا تو یہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ عوام پہلے ہی سیاسی نظام سے مایوس ہیں۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے ملک جس سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی کشمکش سے گزر رہا ہے، اس میں مزید متنازع انتخابات قوم کو کہاں لے جائیں گے؟
مجھے سب سے زیادہ خوشی ایک بات سے ہوئی۔
حویلی سے چوہدری محسن عزیز کی آواز میں ایک جملہ ابھر کر سامنے آیا:
ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔
خدا کی قسم، ایسے وقت میں جب راولاکوٹ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سیاسی کشیدگی نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں کشمیر کے دل میں پاکستان سے محبت کی آواز کمزور تو نہیں پڑ رہی، حویلی سے یہ آواز امید کی کرن بن کر سامنے آئی۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ لیکن کشمیر صرف جغرافیہ نہیں، یہ جذبات کا نام بھی ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو نسلوں سے زندہ رکھا ہے۔ اس لیے اگر وہاں کا نوجوان یہ کہتا ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے تو ہمیں اس آواز کو سننا چاہیے، دبانا نہیں چاہیے۔
اور گجروں کو بھی اب ایک بات سمجھنی ہوگی۔
کوئی سیاسی جماعت آپ کو جگہ دے تو ٹھیک، نہ دے تو اپنی جگہ خود بنائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر گجر تحریک انصاف میں شامل ہو جائے، یا مسلم لیگ (ن) میں جائے، یا پیپلز پارٹی کا حصہ بنے۔ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ گجر اپنے سیاسی شعور، اپنے ووٹ اور اپنی اجتماعی طاقت کو پہچانیں۔
اگر کسی پارٹی کو گجر ووٹ چاہیے تو گجر نمائندگی بھی دینی ہوگی۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ الیکشن کے دن گجر ووٹ مانگا جائے اور ٹکٹ دیتے وقت گجر کو بھلا دیا جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ گجر امیدوار عوام میں مقبول ہو اور پھر سیاسی حساب کتاب کے ذریعے اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔
حویلی کے موجودہ تنازع میں بھی اصل حل یہی ہے کہ فارم 45 سامنے لائے جائیں، فارم 24 اور دیگر متعلقہ انتخابی ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لیا جائے، ضرورت پڑنے پر دوبارہ گنتی کی جائے اور جو نتیجہ قانون کے مطابق نکلے اسے تسلیم کیا جائے۔
اگر چوہدری محسن عزیز جیتے ہیں تو انہیں اسمبلی میں آنا چاہیے۔ اگر فیصل راٹھور جیتے ہیں تو ان کا مینڈیٹ محفوظ رہنا چاہیے۔ کسی کی ذات، برادری یا جماعت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست میں کسی کی شکست کو ’’دھاندلی‘‘ اور اپنی کامیابی کو ’’عوامی مینڈیٹ‘‘ کہنا آسان ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آدمی اپنے دعوے کو ثبوت سے ثابت کرے۔ حویلی میں یہی ہونا چاہیے۔
میں پاک کشمیر گجر فورم کی طرف سے واضح مطالبہ کرتا ہوں کہ جہاں جہاں گجر امیدواروں نے انتخابی نتائج پر سنجیدہ اور دستاویزی اعتراضات اٹھائے ہیں، وہاں شفاف تحقیقات اور ضرورت کے مطابق دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ مظفرآباد سمیت کسی بھی حلقے میں شکایت ہو تو اسے صرف اس لیے نظرانداز نہ کیا جائے کہ امیدوار کسی مخصوص برادری سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ جنگ گجر بمقابلہ راٹھور نہیں۔
یہ مسلم لیگ بمقابلہ پیپلز پارٹی بھی نہیں۔
یہ ووٹ بمقابلہ طاقت کا امتحان ہے۔
اگر عوام کا ووٹ طاقتور ہے تو اسے کاغذ پر بھی طاقتور نظر آنا چاہیے۔ اگر فارم 45 کچھ کہتے ہیں اور نتیجہ کچھ اور، تو سوال ضرور اٹھے گا۔ اگر فارم 45، فارم 24 اور حتمی نتیجہ ایک ہی بات کہتے ہیں تو پھر اعتراض کرنے والے کو بھی فیصلہ قبول کرنا ہوگا۔
حویلی کو ایک مثال بنائیے۔
ایسی مثال جس میں جیتنے والا بھی مطمئن ہو اور ہارنے والا بھی کہہ سکے کہ مجھے انصاف ملا۔
اور الیکشن کمیشن کو بھی یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ 13 اگست کی سماعت محض ایک امیدوار کی درخواست نہیں، آزاد کشمیر کے انتخابی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے۔
آج حویلی پوچھ رہی ہے:
میرا ووٹ کہاں گیا؟
اس سوال کا جواب کسی تقریر، کسی پریس کانفرنس، کسی برادری یا کسی جماعت کو نہیں دینا۔
اس سوال کا جواب بیلٹ، فارم اور قانون کو دینا ہے۔
اور اگر جواب صاف ہے تو دوبارہ گنتی سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔
حویلی کے پہاڑوں سے اٹھنے والی یہ آواز بہت دور تک جانی چاہیے:
ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے—اور پاکستان میں ہر ووٹ بھی ہمارا ہے۔