تحریر:محمد محسن اقبال
انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں خاندان کے نظم و نسق کا ایک ایسا انتظام ودیعت فرما دیا تھا جس کے ذریعے وہ اپنے عہد کی ضروریات کے مطابق زندگی کا سفر جاری رکھ سکے۔ وقت گزرتا گیا تو یہ دائرۂ کار وسیع ہوتا چلا گیا؛ خاندان نے آگے بڑھتے بڑھتے بالآخر ریاست کی دہلیز پر قدم رکھا۔ موجودہ خاندانی نظام میں، جب تک دادا حیات ہوں، انہیں خاندان کا سربراہ تسلیم کیا جاتا ہے اور گھر کے اہم معاملات میں ان کی اجازت اور رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ تاہم روزمرہ امور کی عملی انجام دہی کے لیے وہ خاندان کے مختلف افراد کو بعض ذمہ داریاں اور اختیارات سونپ دیتے ہیں، تاکہ ہر شخص اپنے سپرد کیے گئے کام کے لیے جواب دہ ہو۔
جب یہی نظم و نسق وسیع ہو کر ریاست کے انتظام تک پہنچا تو مختلف ادوار کے تجربات اور بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں انتظامی ڈھانچے تشکیل پاتے گئے اور ریاستی امور اسی مناسبت سے چلائے جانے لگے۔ موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر اس نظام میں مزید ترامیم کی گنجائش پیدا ہوئی اور یوں پاکستان ڈیفنس فورسز ترمیمی بل 2026 پارلیمان سے منظور کیا گیا، تاکہ ریاست کے دفاعی امور اپنے متعلقہ دائرۂ اختیار میں پیشہ ورانہ انداز سے انجام پاتے رہیں۔
اس قانون کے ذریعے ستائیسویں آئینی ترمیم کی بعض دفعات کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے زیرِ قیادت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف بھی سنبھالتا ہے۔ اسے مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کی حیثیت حاصل ہوگی۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق امور میں وزیراعظم کا بنیادی عسکری مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ مسلح افواج کی عملی کمان اور کنٹرول سنبھالیں گے، تاہم وفاقی حکومت کے سامنے جواب دہ رہیں گے۔ انہیں مختلف النوع دفاعی شعبوں کے باہمی انضمام، آپریشنل ہم آہنگی، مشترکہ اور تینوں افواج کے درمیان رابطہ و تعاون، تنظیم، تربیت، انتظام، جنگی تیاری اور دیگر متعلقہ امور کے وسیع اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
اسی طرح افرادی قوت سے متعلق وسیع اختیارات بھی انہیں تفویض کیے گئے ہیں۔ وہ مسلح افواج کے قوانین کے تابع اہلکاروں کو ریٹائر، فارغ یا ملازمت سے سبکدوش کر سکتے ہیں، استعفیٰ منظور یا مسترد کر سکتے ہیں، کسی اہلکار کو ملازمت میں برقرار رکھ سکتے ہیں یا عمر اور مدتِ ملازمت کی مقررہ حدود میں نرمی کر سکتے ہیں۔ البتہ آرٹیکل 243 کے تحت مقرر ہونے والے سروس چیفس اس اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق ترامیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق منصب کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب متعارف کرایا گیا ہے۔ ان اقدامات کو 27 نومبر 2025 سے مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
یہ دفعات عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے اس رجحان سے کسی حد تک ہم آہنگ ہیں جس کے تحت مشترکہ عسکری کمان اور ایک اعلیٰ سطحی عسکری مشیر کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف، چیف آف دی ڈیفنس فورس، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور اسی نوعیت کے عہدے قائم کیے ہیں تاکہ تینوں افواج کے درمیان باہمی ربط و تعاون کو فروغ دیا جا سکے، ادارہ جاتی تقسیم کم ہو اور عسکری معاملات میں ایک مرکزی مقام سے مشاورت فراہم ہو۔ جدید کثیرالجہتی جنگی تقاضوں نے اس ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
امریکہ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اعلیٰ ترین رینک رکھنے والے افسر اور صدر، نیشنل سکیورٹی کونسل اور سیکریٹری دفاع کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ تاہم گولڈ واٹر نکولز اصلاحات اور ٹائٹل 10 کی قانونی دفعات کے تحت انہیں مسلح افواج یا دیگر جوائنٹ چیفس پر عملی آپریشنل کمان حاصل نہیں۔ کمان کا سلسلہ صدر سے سیکریٹری دفاع اور پھر جنگی کمانڈروں تک جاتا ہے۔ ان کا کردار بنیادی طور پر مشاورتی نوعیت کا ہے، جس میں مشاورت، منصوبہ بندی، مشترکہ عسکری نظریے کی تشکیل اور رابطہ کاری شامل ہیں۔ اس نظام کا مقصد سویلین بالادستی برقرار رکھتے ہوئے آپریشنل سطح پر افواج کو ایک حد تک ادارہ جاتی خودمختاری فراہم کرنا ہے۔
بھارت میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف تینوں افواج سے متعلق امور میں وزیر دفاع کے بنیادی عسکری مشیر، چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے مستقل چیئرمین، محکمہ عسکری امور کے سربراہ اور نیوکلیئر کمانڈ اتھارٹی کے عسکری مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں مشترکہ آپریشنز، رسد، تربیت، دفاعی خریداری کی ترجیحات اور تھیٹر کمانڈز کی تشکیل میں ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہے۔ تاہم وہ سروس چیفس پر براہِ راست آپریشنل کمان نہیں رکھتے، کیونکہ ہر سروس چیف اپنی متعلقہ فوج کی کمان برقرار رکھتا ہے۔ اس منصب کا بنیادی مقصد تینوں افواج کے درمیان انضمام اور اشتراک کو بڑھانا ہے، نہ کہ آپریشنل امور میں کسی ایک سروس کو دوسری پر فوقیت دینا۔
برطانیہ میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف مسلح افواج کے پیشہ ورانہ سربراہ اور وزیراعظم و سیکریٹری آف اسٹیٹ فار ڈیفنس کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ تاریخی طور پر اس منصب کا مرکز مشاورت اور حکمتِ عملی رہا، تاہم حالیہ اصلاحات نے اس کے اختیارات کو مزید تقویت دی ہے۔ اب چیف سروس چیفس کی کمان کرتے ہیں اور ایک ملٹری اسٹریٹیجک ہیڈکوارٹر کی سربراہی بھی کرتے ہیں، جو عسکری قوت کی تشکیل، جنگی منصوبہ بندی اور مربوط فوجی قوت کی تیاری جیسے امور کا ذمہ دار ہے۔ اس کے باوجود یہ منصب مضبوط وزارتی اور سویلین نگرانی کے تحت کام کرتا ہے اور ڈیفنس کونسل اس نظام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور دولتِ مشترکہ کے بعض دیگر ممالک کے ماڈلز میں بھی عموماً چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف یا چیف آف دی ڈیفنس فورس کو مسلح افواج پر کمان کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں، تاہم یہ اختیارات حکومت یا متعلقہ وزیر کی ہدایات اور بالآخر سویلین یا تاجِ برطانیہ کی بالادستی کے تابع رہتے ہیں۔ ان نظاموں میں آپریشنز اور انتظامی امور دونوں کے لیے متحدہ کمان پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ پارلیمانی نگرانی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل رہتی ہے۔
یوں عالمی منظرنامہ اس امر کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے کہ جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر بہتر باہمی انضمام، مؤثر مشاورت اور مربوط فیصلہ سازی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ عسکری منصب ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کا قانون بھی مشترکہ عسکری نظام، مرکزی ہیڈکوارٹر، مختلف النوع دفاعی شعبوں کے باہمی رابطے اور ایک مرکزی عسکری مشاورتی کردار جیسے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے اور اس اعتبار سے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
تاہم پاکستانی ماڈل چند اہم پہلوؤں سے منفرد بھی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب بیک وقت حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ہونا ایک نسبتاً غیر معمولی انتظام ہے۔ بیشتر ممالک میں یا تو ایک علیحدہ افسر کو یہ منصب دیا جاتا ہے، جس کا تعلق مختلف سروسز سے باری باری ہو سکتا ہے، یا مشترکہ عسکری سربراہ کو کسی ایک سروس کی روزمرہ کمان سے الگ رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں دونوں ذمہ داریوں کا یکجا ہونا ایک ایسا مرکزی عسکری نقطۂ عروج تشکیل دیتا ہے جو امریکہ، بھارت اور برطانیہ کے سابقہ مشاورتی یا زیادہ متوازن ماڈلز کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ آرمی مرکزیت رکھتا ہے۔
مزید برآں، تمام سروسز پر براہِ راست آپریشنل کمان و کنٹرول کے ساتھ ساتھ ریٹائرمنٹ، سبکدوشی، ملازمت میں برقرار رکھنے اور مدتِ ملازمت یا عمر کی حدود میں تبدیلی جیسے وسیع افرادی اختیارات کا ایک ہی منصب میں مرتکز ہونا امریکی اور بھارتی نظاموں کے نسبت کہیں زیادہ وسیع دائرۂ اختیار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ماڈل دولتِ مشترکہ کے ان نسبتاً مضبوط کمانڈ نظاموں اور برطانیہ کی حالیہ اصلاحات سے قربت ضرور رکھتا ہے، تاہم افرادی قوت سے متعلق اختیارات کے اعتبار سے ایک ہی افسر کے تحت اس کی وسعت اسے ایک غیر معمولی جامع انتظام بناتی ہے۔
سویلین اور عسکری توازن کے تناظر میں دیکھا جائے تو جمہوری نظام عموماً ایسے مناصب کو مضبوط سویلین بالادستی، پارلیمانی نگرانی اور واضح قانونی حدود کے تابع رکھتے ہیں، تاکہ کوئی ایک عسکری منصب تقرریوں یا آپریشنل معاملات پر غیر معمولی غلبہ حاصل نہ کر سکے۔ پاکستان کے آئینی اور قانونی ڈھانچے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے کمانڈر کی حیثیت سے خاصے وسیع قانونی اختیارات دیے گئے ہیں، تاہم وفاقی حکومت کو قواعد وضع کرنے کا اختیار بدستور حاصل ہے۔
مختصراً، یہ قانون مشترکہ عسکری کمان کے قیام، اعلیٰ سطحی مربوط و مشاورتی منصب اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق فیصلہ سازی کو مؤثر بنانے کے ان مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے جنہیں دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی اپنا چکے ہیں۔ تاہم ایک ہی وقت میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف کی ذمہ داریوں کا امتزاج، اور اس منصب میں وسیع آپریشنل و افرادی اختیارات کا ارتکاز، اسے دیگر کئی عالمی ماڈلز سے نمایاں طور پر مختلف بنا دیتا ہے۔
آخرکار اس انتظام کی موزونیت کا فیصلہ ان ترجیحات کی بنیاد پر ہوگا جنہیں ریاست مقدم رکھتی ہے؛ ایک طرف تینوں افواج کے درمیان زیادہ مضبوط اشتراک، تیز تر فیصلہ سازی اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ مربوط کمان؛ اور دوسری طرف ادارہ جاتی توازن، تمام سروسز کی مساوی حیثیت اور مضبوط سویلین و پارلیمانی نگرانی۔ ریاستی نظم کی اصل آزمائش یہی ہے کہ اختیار اور احتساب، کمان اور توازن، قوت اور ذمہ داری—سب ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ رہیں کہ قومی دفاع مضبوط بھی ہو اور جمہوری اداروں کی بنیاد بھی مستحکم رہے۔
