مزید صوبوں کا قیام بڑی پارٹیوں کا انتخابی نعرہ رہا ہے

این اے 168 سے امیدوار احمد عمران باجوہ کا بیان

سندھ ،پنجاب یا دیگر صوبوں میں سے مزید نئے صوبوں کی تخلیق کی جائے تو بڑی خاندانی پارٹیوں کو زبردست دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ بڑی پارٹیوں نے موجودہ صوبوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں علاقائی سیاست دانوں، زمین داروں، قبائلی سرداروں اور برادریوں کے چوہدریوں سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے جو اپنے روایتی اثر و رسوخ، تعصبات اور دائو پیچ سے الیکشن جیت جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پارٹیوں نے وزارتوں، ترقیاتی فنڈز اور دیگر مفادات کے ذریعے اتحادی بنا رکھا ہے۔ نئے صوبوں کی صورت میں یہ تعلق (Configuration) ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ یہ لوگ نئے صوبوں کی قیادت کی اُمید میں آزادانہ فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر نئے نوجوان چہرے جو عوامی مسائل کا حقیقی ادراک رکھتے ہوں وہ بھی اُبھر کر نئے صوبوں میں رونمائی کر سکتے ہیں۔ یوں روایتی، خاندانی سیاسی گروہوں کے اثر و رسوخ اور سودا باز حیثیت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

N.F.C ایوارڈ آئینی ترامیم، بجٹ سازی و منظوری، وزیراعظم کے انتخاب جیسے مرحلوں میں من مانیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ افسوس کہ بڑی سیاسی پارٹیاں قومی پارٹیوں کی دعوے داری کے ساتھ ساتھ لسانی اور علاقائی تعصبات کے ہتھیاروں سے لیس عوام دوست تجویز کی مخالفت پر اُتر آئی ہیں۔ حالانکہ مخالف صوبوں میں مزید صوبوں کا قیام بڑی پارٹیوں کا انتخابی نعرہ رہا ہے، لیکن اب اس سے برگشتہ ہو گئی ہیں اور ناچار سندھ، پنجاب، پختون، بلوچ، کلچر بارے موہوم خدشات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ مجوزہ تقسیم محض انتظامی ہو گی جس سے صوبوں کے بھولے بسرے اور نظرانداز علاقے خوش حال ہوں گے۔ یہ خوش حالیاں یقیناً علاقائی ثقافتوں اور لسانی اداروں کے فروغ کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ آپ عوام کی سوچوں سرگرمیوں کو محدود کر کے ثقافتوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے، بلکہ عوام نئے مواقع کی تلاش میں ،نئے آفاق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں تو وہ ثقافتوں کے فروغ کا باعث بھی بنتے ہیں