شفا ہسپتال نہیں، عمران خان کی رہائی چاہیے
تحریر: انجینیئر افتخار چودھری
نہ وزارتوں کو لات مارنی ہے، نہ سندھ کی تقسیم ہونی ہے، نہ صوبہ ہزارہ بننا ہے، نہ سرائیکی صوبہ وجود میں آنا ہے۔ میرے خیال میں گزشتہ چند دنوں میں جو کچھ ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ جن لوگوں نے حالات کو سمجھا، جنہوں نے مجبوریوں کو پڑھا اور جنہوں نے اپنی بات منوانی تھی، انہوں نے اپنی بات منوا لی۔
اب پاکستان کے سب سے بڑے عسکری منصب پر فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب فائز ہیں۔ یہ بھی ہماری سیاست کا ایک نیا باب ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس پورے کھیل میں عوام کو کیا ملا؟ غریب کو کیا ملا؟ وہ شخص جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے، اسے کیا ملا؟ وہ نوجوان جو روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے، اس کے ہاتھ میں کیا آیا؟
دنیا عقل رکھتی ہے، صاحب!
آپ یہ سمجھیں کہ جو کچھ پردے کے پیچھے ہوتا ہے، اسے عوام نہیں دیکھتے تو یہ خوش فہمی ہے۔ عوام سب دیکھتے ہیں، بس ہر شخص بول نہیں سکتا۔
آج سندھ اسمبلی میں فریال تالپور صاحبہ تقریر کر رہی تھیں۔ انداز ایسا تھا جیسے وہ مادرِ ملت ہوں اور سندھ کی حفاظت کی آخری دیوار بھی وہی ہوں۔ نعرہ تھا:
“مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈسوں!”
بھئی، سندھ آپ کا ہے، سندھ کسی نے آپ سے چھیننے کی بات کب کی؟ مگر سیاست میں کبھی کبھی ایسے نعرے بھی لگتے ہیں جن کا مقصد اصل سوال سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سندھ تقسیم ہوگا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہوگا یا نہیں؟
سوال یہ ہے کہ 8 فروری کو عوام نے جسے ووٹ دیا، اس کے ساتھ کیا ہوا؟
اور یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے اپنی ایک پرانی بات یاد آتی ہے۔
میں نے کہا تھا:
“8 فروری کے بعد کیا ہوگا؟”
پھر خود ہی جواب دیا تھا:
“9 فروری ہوگا!”
اور 9 فروری نے ہمیں بتا دیا کہ اصل کھیل کیا ہے۔
ہم پاکستانی عجیب لوگ ہیں۔ ہم تحریکیں چلاتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، جیلیں بھرتے ہیں، پھر آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ منزل کہیں اور تھی۔
میں چند روز پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد پریس کلب سے واپس آ رہا تھا۔ راستے میں تحریکوں کی تاریخ پر بات شروع ہوئی۔ میں نے کہا، یار! ہماری تاریخ میں بار بار ہمارے ساتھ بڑا دھوکا ہوا ہے۔
وہ کہنے لگا، آپ وکلا تحریک کی بات کر رہے ہیں؟
میں نے کہا، صرف وکلا تحریک کی نہیں، میں تو پوری تاریخ کی بات کر رہا ہوں۔
تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کو دیکھ لیں۔
لوگ سڑکوں پر نکلے۔ قربانیاں دیں۔ ان کے سامنے ایک نظام کا خواب تھا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا؟ بھٹو صاحب کا خاتمہ ہوا، مارشل لا آیا اور اقتدار ایک نئے بندوبست کے ہاتھ میں چلا گیا۔
عوام نے نظام مانگا تھا، انہیں نظام نہیں ملا۔
اور یہی ہماری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ تحریک کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے اور اختتام کسی دوسرے مقام پر۔
آج پھر ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔
لوگوں کو کبھی سندھ کی تقسیم کا خوف دکھایا جا رہا ہے، کبھی صوبہ بنانے کا خواب، کبھی وزارتوں کی بات، کبھی اقتدار کی کشمکش۔ لیکن عام آدمی ان سب بحثوں سے زیادہ سادہ سوال پوچھ رہا ہے:
“مجھے روٹی کب ملے گی؟”
میرے بھائیو!
میری دعا ہے کہ پاکستان کے غریب کو دو وقت کی روٹی مل جائے۔ اس سے بڑی اس وقت میری کوئی خواہش نہیں۔
جس گھر میں چولہا نہ جل رہا ہو، وہاں صوبہ ہزارہ، سرائیکی صوبہ، سندھ کی تقسیم اور وزارتوں کی بحثیں بہت دور کی باتیں لگتی ہیں۔
لیکن آج کا اصل موضوع ایک اور ہے۔
عمران خان کی رہائی۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہونا چاہیے۔
ہم نے یہ نہیں کہنا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نکال کر صرف شفا ہسپتال پہنچا دیا جائے۔
ہمیں یہ کہنا ہے:
عمران خان کو رہا کرو۔
آج اگر مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کیا جائے تو میں پوچھتا ہوں: کیوں؟
اگر وہ بیمار ہیں تو علاج ان کا حق ہے۔ اگر انہیں طبی سہولت درکار ہے تو انہیں بہترین علاج ملنا چاہیے۔ لیکن اگر ہماری پوری جدوجہد صرف اتنی رہ گئی کہ ایک قیدی کو ایک جیل سے نکال کر دوسرے مقام تک پہنچا دیا جائے تو پھر ہم نے اپنے مقصد کو بہت چھوٹا کر لیا ہے۔
یہاں ایک خدشہ بھی ذہن میں آتا ہے۔
یہ لوگ سیاست کے بڑے ماہر ہیں۔ ممکن ہے کل کوئی اعلان ہو:
“جی، شفا ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ تو مان لیا گیا۔”
اور پھر اڈیالہ جیل کے سامنے اسلام آباد کی حدود میں شفا ہسپتال کی کوئی چھوٹی سی سہولت بنا دی جائے اور کہا جائے:
“لیجیے صاحب، ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔”
قانونی زبان میں شاید کہا جائے کہ شفا ہسپتال تو شفا ہسپتال ہے، مقام کہاں لکھا تھا؟
عوام پھر دیکھتے رہ جائیں گے کہ ہم نے کیا مانگا تھا اور ہمیں کیا ملا۔
اس لیے میری نظر میں اصل مطالبہ بہت سادہ اور دو ٹوک ہونا چاہیے:
عمران خان کو رہا کیا جائے۔
شفا ہسپتال جانا ہے تو آزاد انسان کی حیثیت سے جائیں۔ علاج کروانا ہے تو آزاد شہری کی حیثیت سے کروائیں۔ اپنے بچوں سے ملنا ہے تو آزاد ہو کر ملیں۔ اپنی سیاسی جدوجہد کرنی ہے تو آزاد انسان کی حیثیت سے کریں۔
قید سے ہسپتال، ہسپتال سے دوبارہ قید—یہ مسئلے کا حل نہیں۔
ہم نے اگر بیس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے تو انہیں کسی مخصوص ہسپتال کے گیٹ پر کھڑا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک واضح مطالبے کے لیے کھڑا کرنا ہوگا۔
قیدی کو سہولت نہیں، قیدی کو آزادی چاہیے۔
یہ فرق سمجھنا ہوگا۔
اور یہ صرف عمران خان کا مسئلہ بھی نہیں۔ یہ اس ملک کے سیاسی مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ایک مقبول سیاسی رہنما کو عوامی سیاست سے دور رکھا جائے، اگر انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سوالات کا جواب نہ دیا جائے، اگر سیاسی مخالفین کو قید رکھا جائے، تو پھر ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
میں کسی ادارے سے لڑائی نہیں چاہتا۔ میں کسی ریاستی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں چاہتا۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ پاکستان میں آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کی بالادستی ہو۔
جن لوگوں نے سیاست کے نام پر بہت کچھ حاصل کر لیا، وہ شاید مزید حاصل کر لیں گے۔ وزارتیں بھی مل جائیں گی، عہدے بھی، مراعات بھی۔
مگر غریب آدمی؟
وہ آج بھی آٹے، بجلی، گیس اور روزگار کے بل کے نیچے دبا ہوا ہے۔
اس لیے میرے نزدیک اس وقت سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سیاسی دھوکے کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
نہ ہمیں مصنوعی نعروں میں الجھائیں، نہ نئے صوبوں کی ہڈی پھینک کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹائیں، نہ ہسپتال منتقلی کو رہائی کا متبادل بنائیں۔
ہمیں صاف بات کرنی چاہیے۔
عمران خان کو رہا کیا جائے۔
اور اگر حکومت یا فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی سے ملک میں کوئی قیامت آ جائے گی تو پھر عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ مگر کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک قید رکھ کر یہ سمجھنا کہ اس کی آواز ختم ہو جائے گی، شاید تاریخ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوگی۔
تحریکیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
نعرے بدلتے رہتے ہیں۔
حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔
وزارتیں ملتی ہیں اور چھن جاتی ہیں۔
صوبے بنتے ہیں اور بحثیں ختم ہو جاتی ہیں۔
مگر عوام کی یادداشت میں وہی واقعات رہ جاتے ہیں جن میں انہیں دھوکا دیا گیا ہو۔
اس لیے اس مرتبہ دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔
اگر عمران خان بیمار ہیں تو انہیں بہترین علاج دیں۔
اگر ہسپتال لے جانا ہے تو لے جائیں۔
مگر اصل مسئلہ نہ بھولیں۔
شفا ہسپتال نہیں، عمران خان کی رہائی چاہیے۔
اور آخر میں پھر وہی دعا جو ایک بوڑھا پاکستانی اپنے ملک کے لیے کر سکتا ہے:
اللہ پاکستان کے غریب کو دو وقت کی عزت کی روٹی دے، نوجوان کو روزگار دے، اس ملک کو سیاسی استحکام دے، قانون کی حکمرانی دے اور ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جن پر آنے والی نسلیں شرمندہ نہ ہوں۔
کیونکہ آخرکار سوال یہی ہے:
ہم نے تحریکیں کس لیے چلائیں تھیں—اقتدار کی تبدیلی کے لیے، یا پاکستان میں انصاف، آئین اور عوام کی حکمرانی کے لیے؟
