تحریر: انجینیئر افتخار چودھری
“دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن، بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے”
کچھ سفر راستوں پر نہیں ہوتے، کچھ سفر انسان اپنے اندر کرتا ہے۔ ایسے سفر میں گاڑی منزل کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے، مگر ذہن پیچھے رہ جانے والے برسوں، بچھڑے ہوئے لوگوں اور بیتے ہوئے لمحوں کی طرف لوٹتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایک ایسا ہی سفر نصیب ہوا۔ پھلہ کی طرف روانگی تھی اور ساتھ ظفر بیگ صاحب اور انجینیئر جہانگیر مغل تھے۔ ایک گاڑی، پہاڑی راستے اور تین مسافر، مگر راستے میں کھلنے والی یادوں کی دنیا بہت وسیع تھی۔
فیض آباد سے بھارہ کہو، سترہ میل، چھتر، بڑوھا، رکھالہ اور گمبھیر سے گزرتے ہوئے پھلہ کی طرف سفر جاری رہا۔ پہاڑوں کی سڑکیں، چیڑ کے درخت، چھوٹے بڑے نالے، دور تک پھیلی ہوئی وادیاں اور کہیں کہیں پرانے گھروں کی جھلکیاں انسان کو شہر کی مصروف زندگی سے بہت دور لے جاتی ہیں۔
بڑوھا پہنچے تو راجہ زمرد صاحب نے محبت سے استقبال کیا۔ دیہات کی یہ خوبی آج بھی زندہ ہے کہ مہمان کے آنے کو محض ایک آمد نہیں سمجھا جاتا، اسے تعلق کی تجدید سمجھا جاتا ہے۔
جمعے کی نماز گمبھیر میں ادا کرنے کا ارادہ تھا۔ راستے میں رکھالہ کی طرف سڑک زیرِ تعمیر نظر آئی۔ کہیں مشینیں کام کر رہی تھیں اور کہیں پہاڑی راستہ اپنی پرانی صورت میں موجود تھا۔ آخرکار جامع مسجد گمبھیر پہنچے۔ وضو کے لیے گئے تو وہاں موجود لوگوں نے جس محبت اور احترام سے بزرگوں کا خیال رکھا، وہ منظر دیر تک ذہن میں رہا۔ کسی کو سہارا دے دیا، کسی کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنا دی، کسی نے ہاتھ بڑھا کر مدد کر دی۔غور حبیب صاحب نے میرے کہنے پہ بتایا کہ نہ تو عمران خان کے پہلے یہاں پہ کوئی کام ہوا اور نہ عمران خان کے بعد کوئی کام ہو مجھے اچھا لگا تحریک انصاف اللہ کے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں رہتی ہیں اور میں علی اصغر خان اور سردار رجب اور سردار ساجد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں
یہ چھوٹے چھوٹے کام بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر معاشرے کی اصل خوبصورتی انہی میں چھپی ہوتی ہے۔ بزرگوں کا احترام صرف تقریروں سے نہیں، ایسے ہی چھوٹے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
مسجد کے مہمان خانے میں چشتی صاحب، خورشید عباسی صاحب اور محمد نواز خان المعروف ماموں نواز نے میزبانی کی۔ ماموں نواز کی مہمان نوازی کا چرچا پہلے بھی سن رکھا تھا، مگر وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ بعض لوگوں کے لیے مہمان نوازی کوئی رسم نہیں بلکہ مزاج ہوتی ہے۔ خورشید عباسی صاحب اپنی سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے بھی علاقے میں معروف ہیں۔
راستے میں مسعود عباسی صاحب کے کنڈ بٹل والے شاپنگ کمپلیکس پر بھی مختصر قیام ہوا۔ سفر چھوٹا تھا، مگر ملاقاتیں بہت تھیں۔ یہی تو پہاڑی علاقوں کے سفر کا حسن ہے کہ منزل سے زیادہ راستے میں ملنے والے لوگ یاد رہ جاتے ہیں۔
ظفر بیگ صاحب سے تعلق آج کا نہیں۔ یہ رشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے خاندانوں کے درمیان تعلقات نئی نسل سے نہیں بلکہ بزرگوں کے زمانے سے چلے آ رہے ہیں۔ میرے مرحوم چچا چودھری شفیع صاحب اور چچا صورت بیگ کے درمیان 1946ء سے قائم تعلق نے کئی نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ ایسے رشتے وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے، بلکہ اگر انہیں محبت سے نبھایا جائے تو مزید مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔
اس سفر میں سعودی عرب کی یادیں بھی بار بار گفتگو کا حصہ بنیں۔ زندگی کے چالیس برس وہاں گزرے۔ وہ صرف روزگار کا زمانہ نہیں تھا بلکہ زندگی کا ایک پورا باب تھا۔ پردیس میں بننے والی دوستیوں، وہاں کے تجربات اور ہزارہ کی یادوں نے اس سفر میں عجیب امتزاج پیدا کر دیا تھا۔ گاڑی پہاڑوں پر چل رہی تھی اور باتیں کبھی حجاز تک پہنچ جاتیں، کبھی پھلہ کی کسی گلی میں واپس آ جاتیں۔
اسی سفر میں محمد زکی صاحب کی اہلیہ کے انتقال پر دعائے مغفرت کے لیے بھی حاضری ہوئی۔ ان کا انتقال دو روز پہلے ہوا تھا اور جنازے میں شرکت ممکن نہ ہو سکی تھی۔ راجہ خطیب الرحمان صاحب نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور کھانے کا بھی انتظام کیا۔
موت کے موقع پر کسی کے گھر پہنچ جانا شاید دنیا کا سب سے بڑا انسانی فرض تو نہ ہو، مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ غم میں انسان اکیلا نہیں۔ خوشی میں شریک ہونا آسان ہے، اصل تعلق کا امتحان غم کے وقت ہوتا ہے۔
وہاں سے سردار گوہر حبیب خان آف پھلہ کو اطلاع دی گئی تو وہ خود لینے آ گئے۔ راستے میں مرحوم پرویز عباسی صاحب جدہ والے کے بھتیجے سر ایاز عباسی اور ان کے صاحبزادے روحیل کلیم بھی مل گئے۔ یوں قافلہ بڑھتا گیا اور پھلہ کی طرف سفر مزید خوشگوار ہو گیا۔
پھلہ پہنچے تو ڈیڈی نعیم خان، گوہر حبیب خان، طاہر حبیب خان، جو حویلیاں کے تحصیل نائب ناظم رہ چکے ہیں، اور معتسم افضل خان سمیت کئی احباب نے محبت سے استقبال کیا۔ چائے اور تواضع کا اہتمام ہوا۔ مگر اس ملاقات میں اصل چیز کھانا پینا نہیں تھا؛ اصل چیز وہ اپنائیت تھی جو ہر چہرے پر دکھائی دے رہی تھی۔
مجھے پھلہ کے لوگوں کی ایک بات ہمیشہ اچھی لگتی ہے۔ یہاں مختلف خاندان، مختلف مزاج اور مختلف گھروں کے لوگ ایک گلدستے کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ ہر پھول کا رنگ الگ ہے، خوشبو الگ ہے، مگر گلدستہ ایک ہی ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر تعلقات کی ڈور ابھی ٹوٹی نہیں۔
اور پھر طاہر حبیب صاحب کا وہ قدیم مکان بھی دیکھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ تقریباً چار سو سال پرانا ہے۔ پرانے طرزِ تعمیر کا یہ مکان اپنی ڈیوڑھی، کشادہ صحن اور قدیم ساخت کے باعث کسی کتاب کا ورق محسوس ہوتا ہے۔ اس کے صحن میں ریئس بَلہ افضل خان صاحب اور بنارس خان کی قبریں بھی موجود ہیں۔
ایسے مکان صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتے، یہ خاندانوں کی تاریخ اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں۔ دیواریں خاموش ہوتی ہیں مگر ان کے اندر کئی نسلوں کی آوازیں ہوتی ہیں۔ اس صحن میں موجود قبریں بھی اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ آج کے لوگ دراصل کل کے لوگوں کی محنت، محبت اور قربانیوں کا تسلسل ہیں۔
ہم اکثر وراثت کو زمین، مکان اور جائیداد تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ اصل وراثت تو کردار، تعلق، بزرگوں کا احترام اور ایک دوسرے کے کام آنے کی روایت ہے۔ انسان اپنے بزرگوں سے صرف نام نہیں لیتا، وہ ان سے زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی لیتا ہے۔
پھلہ کی یہی بات دل کو چھوتی ہے کہ چائے صرف چائے نہیں ہوتی۔ مہمان کو جلدی رخصت کرنے کے بجائے بٹھایا جاتا ہے، بات کی جاتی ہے، پرانے واقعات یاد کیے جاتے ہیں اور نئی نسل کو بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔ جس معاشرے میں نوجوان اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ہنس سکیں، سوال کر سکیں اور ان کی بات سن سکیں، وہاں تہذیب ابھی زندہ ہوتی ہے۔
واپسی کا وقت آیا تو سردار گوہر حبیب خان، رستم خان اور کئی نوجوان برج تک الوداع کہنے آئے۔ یہ منظر بھی یاد رہ جانے والا تھا۔ کوئی بڑی تقریب نہیں، کوئی رسمی اعلان نہیں، بس لوگ محبت سے ساتھ چل رہے تھے۔ یہی تعلق کی اصل پہچان ہے۔
راستے میں گمگول میٹ شاپ پر سردار عطیع الرحمان سے ملنے کا ارادہ تھا، مگر وہ موجود نہ تھے اور دکان کا بیشتر سامان بھی فروخت ہو چکا تھا۔ پہاٹہ پہنچے تو تحریکِ انصاف کے کارکن امجد علی عباسی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے محبت سے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ وعدہ کیا کہ اگلی بار ضرور حاضری ہوگی۔
یہ دعوتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی آدمی جانتا ہے کہ شاید فوراً جانا ممکن نہ ہو، مگر دعوت قبول کرتے ہوئے دل میں ایک رشتہ ضرور قائم ہو جاتا ہے۔ تعلقات بھی شاید ایسے ہی چلتے ہیں؛ ملاقات سے، یاد سے اور ایک دوسرے کے دروازے کھلے رکھنے سے۔
سفر کے دوران ایک دلچسپ بات بھی ہوئی۔ عرب معاشرے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ظفر بیگ صاحب نے بتایا کہ وہاں بعض خاندانوں میں بزرگ اور نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف رہتے ہیں۔ دادا اپنے پوتے سے ہنسی مذاق کرتا ہے، نوجوان بزرگوں سے بے تکلف گفتگو کرتے ہیں، مگر احترام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
بات بظاہر معمولی تھی، مگر اس نے مجھے اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو دولت سے زیادہ ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی ایک کپ چائے، کبھی چند لمحوں کی گفتگو، کبھی کسی کا ہاتھ تھام لینا، کبھی صرف اتنا کہنا کہ “آپ بیٹھیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں”—یہ سب زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔
مختار صاحب، ارشاد صاحب، چودھری خوائداد صاحب اور ایسے کتنے ہی بزرگ یاد آتے رہے جن کے ساتھ ہمارے خاندانوں کے تعلقات رہے۔ کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی نسبتیں ختم نہیں ہوتیں۔ ان کے نام خاندانوں کی گفتگو میں باقی رہتے ہیں اور نئی نسل کو بتاتے ہیں کہ ہمارے رشتے کہاں سے شروع ہوئے تھے۔
آخرکار ہم واپس گھر پہنچے۔ سفر ختم ہو چکا تھا، مگر ذہن ابھی بھی ان پہاڑی راستوں میں بھٹک رہا تھا۔ فیض آباد سے بھارہ کہو، سترہ میل، چھتر، بڑوھا، رکھالہ، گمبھیر، پھلہ، روپڑ، کوہالہ، درکوٹ اور مکھنیال تک پھیلا ہوا یہ راستہ شاید نقشے پر چند مقامات کا نام ہو، مگر ہمارے لیے یہ یادوں کی ایک پوری دنیا بن گیا۔ان راستوں کی ابہا سعودی عرب میں موجود حاجی شاہد صاحب ہمیشہ ہی کرتے تھے اور جسے میں نے جے این این کی پروگرام میں اجاگر بھی کیا تھا
زندگی کی دوڑ میں ہم بہت کچھ حاصل کرنے کے لیے بھاگتے رہتے ہیں۔ کبھی دولت، کبھی عہدہ، کبھی شہرت۔ مگر کسی مرحلے پر دل کہتا ہے کہ ذرا رک کر ان لوگوں کو بھی دیکھو جنہوں نے تمہیں تمہاری پہچان دی۔ ان راستوں کو دیکھو جہاں تمہارے بزرگ چلے تھے۔ ان گھروں کو دیکھو جن کے صحن میں آج بھی پرانی قبریں خاموشی سے تاریخ سناتی ہیں۔ ان لوگوں کے پاس بیٹھو جو تمہیں کسی عہدے یا فائدے کے بغیر صرف اپنے پن کی وجہ سے یاد رکھتے ہیں۔
گاڑی گھر پہنچ جاتی ہے، مگر دل کبھی کبھی وہیں رہ جاتا ہے جہاں کسی نے محبت سے کہا ہو:
“بیٹھیں، چائے پی کر جائیے۔”
اور شاید یہی سفر کی سب سے بڑی کمائی ہے کہ انسان منزل سے واپس آ کر بھی اپنے اندر کچھ راستے ساتھ لے آتا ہے۔ کچھ راستے یادوں کے ہوتے ہیں، کچھ رشتوں کے، اور کچھ ان لوگوں کے جن سے مل کر دل دوبارہ کہتا ہے:
چلیں، ایک دن پھر اسی طرف چلتے ہیں
