دھرنوں سے لانگ مارچ تک۔۔۔ عوامی اضطراب کی ایک اور صدا

تحریر: حامد اطہر ملک

پاکستان میں مہنگائی اب محض اعداد و شمار، معاشی اشاریوں اور بجٹ کی اصطلاحات کا موضوع نہیں رہی، بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول، اشیائے خورونوش، تعلیم، علاج اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی زندگی کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے دھرنوں کے بعد 20 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی جماعت کا احتجاج ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود مسائل کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں سے نہیں، بلکہ ملک کے کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی سے ہے۔

پیٹرولیم لیوی۔۔۔ صرف پیٹرول کا مسئلہ نہیں
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص کو متاثر نہیں کرتا۔ ایندھن کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ایک زنجیر کی صورت میں پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ مسافر اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، صنعت اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور بالآخر روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے مسئلے کو صرف پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی اضافی رقم کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں۔ اس کا تعلق باورچی خانے کے بجٹ سے بھی ہے، مزدور کی اجرت سے بھی، کسان کی پیداواری لاگت سے بھی اور متوسط طبقے کی مسلسل سکڑتی ہوئی قوتِ خرید سے بھی۔
ریاست کو محصولات درکار ہوتے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی، دفاع، ترقیاتی منصوبوں، انتظامی اخراجات اور عوامی خدمات کے لیے وسائل ناگزیر ہیں۔ سوال محصولات وصول کرنے کا نہیں، بلکہ محصولات کے منصفانہ بوجھ کا ہے۔ اگر قومی خزانے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار بالواسطہ ٹیکسوں اور لیویز کا سہارا لیا جائے تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ اس شہری پر پڑتا ہے جس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہے۔
ایک مزدور اور ایک صاحبِ ثروت شخص جب ایک لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں تو دونوں سے یکساں لیوی وصول ہوتی ہے، مگر دونوں کی قوتِ برداشت یکساں نہیں ہوتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاشی پالیسی کا سوال سماجی انصاف کے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

مہنگائی اور عام آدمی
آج عام شہری کی پریشانی صرف یہ نہیں کہ چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اپنے ماہانہ بجٹ کو بار بار ترتیب دیتا ہے، لیکن بجلی یا گیس کا ایک غیر متوقع بل پوری منصوبہ بندی تہس نہس کر دیتا ہے۔
کم آمدنی والے خاندان کے لیے معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ بچوں کی فیس ادا کرے، بجلی کا بل دے، ضروری ادویات خریدے یا گھر کا راشن پورا کرے۔ جب معاشی حالات کسی خاندان کو بنیادی ضروریات میں سے انتخاب کرنے پر مجبور کر دیں تو اسے محض مہنگائی نہیں بلکہ معاشی بے بسی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اسی عوامی اضطراب کو حافظ نعیم الرحمن گزشتہ عرصے سے اپنی احتجاجی سیاست کا بنیادی موضوع بنائے ہوئے ہیں۔ بجلی کے نرخ، آئی پی پیز، پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی جیسے معاملات کو جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک کے ذریعے مسلسل اٹھایا ہے۔ دھرنوں کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔
20 مارچ کا لانگ مارچ
لانگ مارچ پاکستانی سیاست کے لیے کوئی نئی اصطلاح نہیں۔ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں مختلف مطالبات کے لیے اسلام آباد کا رخ کرتی رہی ہیں۔ لیکن ہر احتجاج کی سیاسی اور اخلاقی قوت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے مطالبات کس حد تک عوامی مسائل سے جڑے ہوئے ہیں اور احتجاج کس حد تک پرامن، آئینی اور منظم رہتا ہے۔
20 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی اصل سوال یہی ہوگا کہ کیا یہ احتجاج حکومت کو معاشی پالیسیوں، خصوصاً پیٹرولیم لیوی اور عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے بارے میں سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کر سکے گا؟
حکومت کے لیے بھی مناسب راستہ یہ نہیں کہ ہر احتجاج کو محض سیاسی دباؤ یا امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر نمٹانے کی کوشش کی جائے۔ جمہوری نظام میں احتجاج عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا ایک آئینی ذریعہ ہے۔ اگر ہزاروں لوگ اپنے معاشی مسائل کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو حکومت کو ان کے پیغام کے سیاسی پہلو کے ساتھ اس کے معاشی اسباب بھی سننے چاہئیں۔
دوسری طرف احتجاج کرنے والی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوامی مشکلات کو سیاسی قوت میں تبدیل کرتے ہوئے نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور مکمل پُرامن طرزِ عمل کو یقینی بنائے۔ احتجاج ایسا ہونا چاہیے جو مسئلے کو نمایاں کرے، عوام کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا نہ کرے۔
اصل ضرورت۔۔۔ معاشی ترجیحات کی تبدیلی
پاکستان کو اس وقت محض چند عارضی ریلیف پیکیجز کی نہیں بلکہ معاشی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو دیکھنا ہوگا کہ ریاستی اخراجات کہاں کم کیے جا سکتے ہیں، مراعات یافتہ طبقات کو حاصل غیر ضروری سہولتوں میں کہاں کمی ممکن ہے، ٹیکس نیٹ کو منصفانہ انداز میں کیسے وسیع کیا جا سکتا ہے اور کم و متوسط آمدنی والے شہریوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کیسے گھٹایا جا سکتا ہے۔
عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ معاشی بحران کی قیمت ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں ادا کرے؟
قرض لیا جائے تو بوجھ عوام پر، بجلی مہنگی ہو تو بوجھ عوام پر، عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ آئے تو بوجھ عوام پر، اور محصولات کم ہوں تو نئی لیوی بھی عوام پر۔ کسی بھی معاشی نظام میں عوام کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس حد کو مسلسل آزمانا معاشی ہی نہیں، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
20 مارچ کا لانگ مارچ حکومت اور جماعت اسلامی، دونوں کے لیے ایک امتحان ہوگا۔ جماعت اسلامی کے لیے امتحان یہ ہے کہ وہ عوامی مطالبات کو کس قدر منظم، پُرامن اور نتیجہ خیز انداز میں آگے بڑھاتی ہے، جبکہ حکومت کے لیے امتحان یہ ہے کہ وہ اسے محض سیاسی سرگرمی سمجھتی ہے یا اس کے پس منظر میں موجود عوامی اضطراب کو سنجیدگی سے سنتی ہے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مسائل کا حل تصادم کے بجائے مکالمے، دلیل اور عوامی خواہشات کے احترام سے تلاش کیا جائے۔
حکومت کو 20 مارچ کا انتظار کرنے کے بجائے اس سے پہلے ہی سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پیٹرولیم لیوی، بجلی و گیس کے نرخوں اور ضروری اشیائے زندگی کی قیمتوں میں عوام کو قابلِ محسوس ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
کیونکہ لانگ مارچ کی اصل منزل صرف اسلام آباد نہیں ہونی چاہیے۔
اس کی اصل منزل ایک ایسا پاکستان ہونا چاہیے جہاں ریاست کے معاشی فیصلوں کا پہلا پیمانہ قومی خزانہ بھرنا نہیں، بلکہ عام شہری کی زندگی کو قابلِ برداشت بنانا بھی ہو۔