پاکستان میں عدالتی نفاذ Judicial Enforcement کیوں کمزور ہے؟

تحریر : محمد اجمل خان. سینئر جرنلسٹ پاکستان میں عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یعنی Judicial Enforcement کا نظام شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔ اس کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:
انتظامی اور ادارتی خرابیاں (Administrative Hurdles)
پولیس پر انحصار : عدالتیں اپنے فیصلوں (جیسے جائیداد کا قبضہ دلوانا یا گرفتاری) پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پولیس پر انحصار کرتی ہیں، جو اکثر سیاسی دباؤ یا رشوت کی وجہ سے تعاون نہیں کرتی۔
مخصوص فورس کی عدم موجودگی : پاکستان میں عدالتی فیصلوں کو زبردستی نافذ کرنے کے لیے عدالتوں کے پاس اپنی کوئی آزاد “انفورسمنٹ فورس” (Enforcement Force) موجود نہیں ہے۔
قانونی اور طویل عدالتی عمل (Legal Loopholes & Delays)
حکمِ امتناعی (Stay Orders) : ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف دوسری عدالت سے آسانی سے اسٹے آرڈر مل جاتا ہے، جس سے عمل درآمد کا عمل سالوں کے لیے رک جاتا ہے۔
اپیل در اپیل کا نظام : دیوانی (Civil) مقدمات میں فیصلوں کے بعد بھی نظرثانی اور اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس سے حتمی نفاذ التوا کا شکار رہتا ہے۔
کرپشن اور وسائل کی کمی (Corruption & Lack of Resources)
عدالتی عملے (باہمی عملہ) کی کرپشن : نچلی عدالتوں کا عملہ (جیسے ناظر یا بیلف) اکثر رشوت لے کر وارنٹ یا عدالتی احکامات کی تعمیل میں تاخیر کرتا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی کمی : انفورسمنٹ برانچز کے پاس جدید ٹیکنالوجی، فنڈز اور گاڑیوں کی شدید کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بروقت کارروائی نہیں کر پاتیں۔
ریاستی اداروں کا کمزور کنٹرول (Weak State Control)
سیاسی اور بااثر شخصیات کا دباؤ : معاشرے کے طاقتور اور بااثر افراد اکثر عدالتی فیصلوں کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں اور ریاست ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔
توہینِ عدالت کے قانون کا کمزور نفاذ : عام شہریوں یا نچلے سرکاری افسران پر توہینِ عدالت (Contempt of Court) کا قانون اس سختی سے نافذ نہیں ہوتا جو فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکے۔
پاکستان بمقابلہ بھارت: عدالتی فیصلوں کے نفاذ کا تقابلی مطالعہ
پاکستان اور بھارت دونوں کا دیوانی اور فوجداری ڈھانچہ برطانوی نوآبادیاتی نظام (جیسے ضابطہ دیوانی 1908ء) سے ماخوذ ہے، لیکن پچھلی چند دہائیوں میں عدالتی فیصلوں کے نفاذ (Judicial Enforcement) کے معاملے میں دونوں ممالک کے سفر میں واضح فرق آیا ہے۔ جہاں پاکستان کا نفاذِ نظام تاحال شدید سیاسی، انتظامی اور آئینی عدم استحکام کا شکار ہے، وہیں بھارت نے ٹیکنالوجی اور قانون سازی کے ذریعے اپنے نفاذ کے عمل کو نسبتاً بہتر اور جدید بنانے کی کوشش کی ہے۔
دونوں ممالک میں فیصلوں پر عمل درآمد کے نظام کا ایک جامع تقابلی جائزہ درج ذیل اہم نکات کے تحت پیش ہے: 1۔ فیصلوں کے نفاذ کی رفتار اور ٹیکنالوجی کا استعمال (Digitization)
بھارت : بھارت نے E-Courts Project اور National Judicial Data Grid (NJDG) کے ذریعے عدالتی نظام کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز کیا ہے۔ اب فیصلوں کی کاپیاں، سمن اور عمل درآمد (Execution) کے احکامات آن لائن ٹریک ہوتے ہیں، جس سے نچلے عملے کی کرپشن اور دانستہ تاخیر میں کمی آئی ہے۔
پاکستان : پاکستان میں ضلعی اور نچلی عدالتوں (جہاں دیوانی فیصلوں کا نفاذ ہونا ہوتا ہے) میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل سست ہے۔ ریکارڈ اب بھی مینوئل (کاغذی) ہے، جس کی وجہ سے نفاذ کا عمل (Execution Petition) سالوں لٹکا رہتا ہے۔
2۔ متبادل نظامِ انصاف اور تجارتی تنازعات کا نفاذ (Commercial Enforcement)
بھارت : بھارت نے کمرشل تنازعات کے فوری فیصلوں اور ان کے نفاذ کے لیے Commercial Courts Act, 2015 متعارف کروایا۔ اس کے علاوہ بھارت کا آربرٹیشن نظام (Arbitration & Conciliation Act, 1996) بہت مضبوط ہے، جس کی وجہ سے کاروباری فیصلوں کا نفاذ تیزی سے ہوتا ہے۔
پاکستان : پاکستان نے بھی ADR Act 2017 پاس کیا ہے، لیکن تجارتی فیصلوں کے نفاذ کے لیے مخصوص اور فعال کمرشل عدالتوں کی شدید کمی ہے۔ غیر ملکی یا ملکی تجارتی فیصلوں کو نافذ کروانے کے لیے دیوانی عدالتوں کے روایتی اور طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
3۔ اسٹے آرڈر کلچر اور اپیلوں کا نظام (Stay Orders & Appeals)
پاکستان بمقابلہ بھارت: قانون کی سطح پر دونوں ممالک میں ضابطہ دیوانی 1908ء (CPC) کے تحت فیصلوں کے خلاف اپیل اور نظرثانی کا حق حاصل ہے۔ تاہم، پاکستان میں اسٹے آرڈر (Stay Orders) کا کلچر زیادہ گہرا ہے۔ ایک نچلی عدالت کے فیصلے کے نفاذ کو روکنے کے لیے ہائی کورٹ یا ضلعی عدالت سے اسٹے حاصل کرنا پاکستان میں نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اصل ڈگری ہولڈر (جس کے حق میں فیصلہ آیا ہو) سالوں تک پھل پانے سے محروم رہتا ہے۔
4۔ انتظامیہ اور پولیس کا تعاون (Executive Cooperation)
بھارت : بھارت میں عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے انتظامیہ اور پولیس زیادہ تر پابند دکھائی دیتی ہے۔ عدالتیں نفاذ نہ کرنے پر اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہیں روکنے یا انہیں براہِ راست جوابدہ بنانے میں سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان : پاکستان میں انتظامیہ (خصوصاً پولیس) سیاسی دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ جائیدادوں کے قبضے چھڑوانے یا گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد بھی پولیس اکثر “امن و امان کی صورتحال” کا بہانہ بنا کر یا سیاسی اثر و رسوخ کے باعث عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے گریز کرتی ہے۔
تقابلی جائزہ (ایک نظر میں)
| خصوصیت / پہلو | پاکستان 🇵🇰 | بھارت 🇮🇳 |
|—|—|—|
| بنیادی قانون | کوڈ آف سول پروسیجر (CPC) 1908ء | کوڈ آف سول پروسیجر (CPC) 1908ء |
| ڈیجیٹلائزیشن | محدود اور سست رفتار (ابتدائی مراحل) | وسیع پیمانے پر (e-Courts اور NJDG نیٹ ورک) |
| تجارتی فیصلوں کا نفاذ | روایتی دیوانی طریقہ کار کی وجہ سے طویل التوا | کمرشل کورٹس ایکٹ 2015ء کے تحت تیز رفتار |
| حکمِ امتناعی (Stay Orders) | انتہائی زیادہ، نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ | عدالتیں اب اسٹے آرڈرز پر سخت وقت کی پابندیاں لگاتی ہیں |
| سیاسی مداخلت کا اثر | نچلی سطح پر نفاذ کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کا غلبہ | نسبتاً کم، ریاستی بیوروکریسی عدالتی احکامات پر عمل کی پابند |
خلاصہ
مجموعی طور پر، پاکستان اور بھارت دونوں میں زیرِ التوا مقدمات (Backlog) کا بڑا مسئلہ موجود ہے۔ تاہم، بھارت نے قانونی اصلاحات، مضبوط متبادل نظامِ انصاف (ADR) اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اپنے عدالتی فیصلوں کے نفاذ کی شرح اور رفتار کو پاکستان کے مقابلے میں بہتر بنا لیا ہے۔ پاکستان کا نظام اب بھی انتظامی خامیوں اور اسٹے آرڈر کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان میں دیوانی (Civil)، فوجداری (Criminal) اور نیب (NAB) کے قوانین کے نفاذ میں گہرے تنزلی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان مسائل کو سمجھنے کے لیے ہم تینوں شعبوں کے مسائل، ان پر بھارت کے قابو پانے کے طریقے اور پاکستانی ججز کی بے بسی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
1. دیوانی، فوجداری اور نیب قوانین کے انفورسمنٹ کے مسائل
دیوانی قوانین (Civil Laws) : دیوانی مقدمات میں سب سے بڑا مسئلہ فیصلے کے بعد نفاذ (Execution of Decree) کا ہے۔ پاکستان میں جائیداد کا فیصلہ تو ہو جاتا ہے، لیکن قبضہ لینے کے لیے ایک نیا مقدمہ (Execution Petition) دائر کرنا پڑتا ہے جو مزید 5 سے 10 سال لے لیتا ہے۔
فوجداری نظام (Criminal System) : ہمارا فوجداری نظام کمزور تفتیش (Investigation) پر کھڑا ہے۔ پولیس روایتی طریقوں پر انحصار کرتی ہے، فرانزک شواہد کا فقدان ہوتا ہے اور گواہوں کو تحفظ (Witness Protection) حاصل نہیں ہوتا، جس سے مجرم آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔
نیب قوانین (NAB Laws) : نیب کے قوانین مسلسل سیاسی فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔ بار بار ہونے والی ترامیم (جیسے حال ہی میں وفاقی آئینی عدالت [Federal Constitutional Court] کے دائرہ اختیار سے متعلق 2026ء کی قانونی تبدیلیاں) نے احتساب کے نظام کو شدید غیر یقینی اور متنازع بنا دیا ہے۔
2. بھارت نے ان مسائل پر کیسے قابو پایا؟
بھارت نے برطانوی دور کے قوانین کو جمود کا شکار رکھنے کے بجائے ان میں تین بڑی اصلاحات کیں:
عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن: بھارت نے E-Courts Project اور نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ (NJDG) بنا کر سمن جاری کرنے سے لے کر فیصلوں کے نفاذ تک کا عمل آن لائن کر دیا۔ اس سے نچلے عملے کی کرپشن اور کاغذی ہیر پھیر ختم ہو گئی۔
کمرشل کورٹس ایکٹ 2015ء : تجارتی اور دیوانی تنازعات کو عام عدالتوں سے نکال کر مخصوص کمرشل عدالتوں کے حوالے کیا گیا۔ قانوناً لازم کیا گیا کہ کمرشل مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ کے اندر ہو اور اس میں طویل اسٹے آرڈرز پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
قوانین کی مکمل تبدیلی (Overhauling): بھارت نے پرانے تعزیراتِ ہند (IPC) اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کو جدید دور کی ضرورتوں کے مطابق تبدیل کیا اور فرانزک سائنس کے استعمال کو لازمی قرار دیا۔ متبادل نظامِ انصاف (Mediation and Arbitration)کو لازمی بنا کر عدالتوں کا بوجھ کم کیا گیا۔
3. پاکستانی ججز ان مسائل کا سامنا کیوں نہ کر سکے؟
پاکستانی ججز ذاتی طور پر کتنے ہی باصلاحیت یا دیانت دار کیوں نہ ہوں، وہ ایک ایسے ڈھانچے میں بندھے ہیں جو انہیں آزادانہ کام نہیں کرنے دیتا:
سیاسی مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ: پاکستان میں عدلیہ کو طویل عرصے سے سیاسی انجینئرنگ اور طاقتور حلقوں کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ ججز اکثر آئینی بحرانوں اور بڑے سیاسی مقدمات میں الجھے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نچلی عدالتوں کی کارکردگی اور انفورسمنٹ جیسے بنیادی عوامی مسائل پر توجہ نہیں دے پاتے۔
انتظامیہ (پاور آف پرس) پر انحصار: جج فیصلہ تو دے سکتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کروانے والی طاقت (پلیس اور بیوروکریسی) عدلیہ کے ماتحت نہیں بلکہ حکومتِ وقت کے ماتحت ہوتی ہے۔ جب پولیس سیاسی دباؤ کی وجہ سے عدالتی حکم ماننے سے انکار کرتی ہے، تو ججز بے بس ہو جاتے ہیں۔
آئینی اور سیکیورٹی عدم استحکام: پاکستان میں بار بار آئینی ترامیم (جیسے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم) اور ججز کے تقرر و اختیارات کے تنازعات نے عدلیہ کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔ ججوں کو انتظامی اصلاحات لانے کے لیے جس تسلسل اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ملک کے سیاسی ماحول میں میسر نہیں رہا۔
ممکنہ حل (Way Forward)
1. انفورسمنٹ فورس کا قیام: عدالتوں کے پاس اپنی مخصوص سیکیورٹی فورس ہونی چاہیے جو پولیس پر انحصار کیے بغیر عدالتی احکامات نافذ کروا سکے۔
2. اسٹے آرڈر کی حد بندی: قانون میں ترمیم کر کے دیوانی مقدمات میں اسٹے آرڈر کی مدت زیادہ سے زیادہ 15 سے 30 دن مقرر کی جائے، جس کے بعد وہ خود بخود ختم ہو جائے۔
3. مکمل ڈیجیٹلائزیشن: سمن بھیجنے اور جائیدادوں کے ریکارڈ کو مکمل ڈیجیٹل کر کے بائیومیٹرک نظام سے جوڑا جائے تاکہ بیلف یا نچلے عملے کی رشوت ستانی کا خاتمہ ہو سکے۔