تحریر: حامد اطہر ملک
پاکستان میں مہنگائی کی بحث جب بھی ہوتی ہے تو بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس کے بنیادی موضوعات بن جاتی ہیں۔ بالخصوص پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والے فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے ذریعے پوری معیشت تک منتقل ہوتے ہیں۔
اسی پس منظر میں جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کے طور پر ’’سپر لانگ مارچ‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ 20 ستمبر کو کراچی سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ٹرین مارچ روانہ ہوا۔ اعلان کردہ پروگرام کے مطابق ٹرین مارچ 21 ستمبر کو ملتان پہنچے گا، جہاں سے 22 ستمبر کو قافلہ سڑک کے راستے لاہور اور پھر 23 ستمبر کو جی ٹی روڈ سے اسلام آباد کی طرف بڑھے گا۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف تقریباً 35 روز تک دھرنا بھی جاری رہا۔
اس احتجاج کا مرکزی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا مؤقف ہے کہ اس تحریک کا مقصد کسی جماعت کے لیے سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ پیٹرولیم لیوی سے متاثر ہونے والے عوام کا مقدمہ پیش کرنا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اعداد و شمار بھی اہم ہیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے تقریباً 1.676 ٹریلین روپے کی آمدن کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہی حقیقت اس مسئلے کا دوسرا رخ بھی سامنے لاتی ہے: حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی محصولات کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جبکہ جماعت اسلامی اسے صارفین پر براہِ راست مالی بوجھ قرار دے کر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ستمبر کے دوران دستیاب قیمتوں کے ڈھانچے میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر رپورٹ کی گئی، جبکہ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی سمیت دیگر اجزا بھی قیمت کا حصہ ہیں۔ 16 ستمبر کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو اس وقت محدود مالی گنجائش، بجٹ خسارے اور بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کا سامنا ہے۔ موجودہ وفاقی بجٹ بھی سخت مالی اہداف کے ماحول میں ترتیب دیا گیا ہے۔ لہٰذا پیٹرولیم لیوی میں بڑی کمی یا اس کے خاتمے کی صورت میں حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ تقریباً 1.676 ٹریلین روپے کے بجٹ ہدف میں پیدا ہونے والی کمی کو کن متبادل ذرائع سے پورا کیا جائے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی ٹیم نے لیوی کے خاتمے کی صورت میں حکومتی ٹیم کے سامنے مالی توازن کو قائم رکھنے کے لیے قابل عمل تجاویز بھی رکھی ہیں ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج کے ساتھ معاشی متبادل کی بحث اہم ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی کرتی ہے تو اسے اپنے غیر ترقیاتی اور غیر ضروری اخراجات میں کمی، سرکاری اداروں کے نقصانات پر قابو پانے، ٹیکس نیٹ میں وسعت، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ایسے شعبوں سے مؤثر محصولات حاصل کرنے جیسے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا جہاں ٹیکس وصولی کی گنجائش موجود ہے۔ دوسری جانب کسی بھی متبادل تجویز کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کتنی ہوگی اور وہ پیٹرولیم لیوی سے ہونے والی آمدن کا کتنا حصہ حقیقتاً پورا کر سکے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔ 3 ستمبر کو دونوں جانب سے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تھا تاکہ پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے امکانات پر تجاویز مرتب کی جا سکیں۔ بعد میں مذاکرات کے مزید ادوار بھی ہوئے، مگر احتجاجی تحریک جاری رہی۔
سپر لانگ مارچ کو اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کراچی سے ریل کے ذریعے شروع ہونے والا سفر ملتان پہنچ کر روڈ مارچ میں تبدیل ہونا اور پھر لاہور سے جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی طرف بڑھنا احتجاج کو ملک کے مختلف حصوں سے جوڑنے کی حکمت عملی ہے۔ اس کے سیاسی اثرات اپنی جگہ، لیکن اس تحریک نے ایک اہم معاشی سوال کو قومی سطح پر نمایاں ضرور کر دیا ہے: ریاست اپنے مالی وسائل اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان توازن کیسے قائم کرے؟
پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپ پر ادا کیے جانے والے چند اضافی روپوں تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، زرعی پیداوار کی لاگت متاثر ہوتی ہے، صنعت کی ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایندھن پر ٹیکس اور لیوی کی پالیسی کا جائزہ محض ریونیو کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ اس کے مجموعی معاشی اور سماجی اثرات کو سامنے رکھ کر لیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی خزانے کو چلانے کے لیے محصولات ناگزیر ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ محصولات کہاں سے اور کس اصول کے تحت وصول کیے جائیں؟ کیا نسبتاً آسانی سے وصول ہونے والے بالواسطہ محصولات پر زیادہ انحصار برقرار رکھا جائے، یا محصولات کا بوجھ ایسی بنیادوں پر منتقل کیا جائے جہاں ادائیگی کی صلاحیت زیادہ ہے؟ یہی وہ بنیادی پالیسی بحث ہے جس کا قابلِ عمل جواب حکومت، سیاسی جماعتوں اور معاشی ماہرین کو مل کر تلاش کرنا ہوگا۔
کراچی سے اسلام آباد تک جاری سپر لانگ مارچ بالآخر کس سیاسی نتیجے تک پہنچتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ البتہ پیٹرولیم لیوی پر جاری بحث حکومت کے سامنے ایک واضح پالیسی چیلنج رکھتی ہے: عوام کو قابلِ محسوس ریلیف بھی دیا جائے اور قومی مالیاتی توازن بھی برقرار رکھا جائے۔
اس مسئلے کا دیرپا حل محض ایک ٹیکس لگانے یا ختم کرنے میں نہیں، بلکہ ایسے منصفانہ، شفاف اور پائیدار مالیاتی نظام کی تشکیل میں ہے جس میں قومی خزانے کی ضرورت بھی پوری ہو اور عام شہری پر بوجھ بھی اس کی برداشت سے باہر نہ ہو۔
