تحریر: محمد محسن اقبال
ہر سال یکم اکتوبر چین کے لیے ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل دن ہوتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جب 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا اور جدید چینی تاریخ کے ایک نئے اور غیر معمولی باب کا آغاز ہوا۔ آج ستتر برس بعد ایک ایسے ملک کا، جو کبھی غربت، جنگ اور تباہ حالی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، دنیا کی بڑی معیشتوں اور بااثر طاقتوں میں شمار ہونا جدید عہد کی ان داستانوں میں شامل ہے جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
چین کا عروج تاہم محض اس کی وسیع آبادی، قدرتی وسائل یا جغرافیائی وسعت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ شنگھائی کی بلند و بالا عمارتوں، شین ژین کی صنعتوں، ملک کے طول و عرض میں دوڑتی برق رفتار ریل گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز پیش رفت کے پیچھے ایک ایسا پہلو بھی موجود ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے، مگر اس کی اہمیت کسی طور کم نہیں۔ یہ ایک ایسا سیاسی و انتظامی نظام ہے جس نے عہدیداروں کے انتخاب، تربیت، تجربے اور کارکردگی کے مسلسل جائزے پر خاص توجہ دی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ سوال جنم لیتا ہے: چین میں ایک عام سیاسی کارکن قومی قیادت کی بلند ترین سطح تک کیسے پہنچتا ہے؟
اس کا جواب اس عام تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کہ چین کا ہر خواہش مند رہنما پہلے کوئی ’’سول سروس امتحان‘‘ پاس کرتا ہے اور پھر تیس برس تک ایک طے شدہ سیڑھی پر قدم بہ قدم اوپر چڑھتا رہتا ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ طویل، پیچیدہ اور کئی جہتوں پر مشتمل ہے۔ کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کے اپنے باقاعدہ مراحل ہیں۔ امیدواروں کی سفارش کی جاتی ہے، ان کے بارے میں تحقیقات ہوتی ہیں اور پارٹی کی تنظیموں کے ذریعے منظوری دی جاتی ہے۔ جو افراد قبول کر لیے جائیں، وہ عموماً مستقل رکن بننے سے قبل ایک آزمائشی مرحلے سے گزرتے ہیں۔ دوسری طرف سول سروس کا امتحان حکومت میں ملازمت کے لیے بھرتی کا ایک الگ طریقۂ کار ہے۔
چینی نظام کی اصل امتیازی خصوصیت کسی ایک امتحان میں نہیں بلکہ تجربے کے مسلسل جمع ہونے میں مضمر ہے۔ عہدیدار مختلف انتظامی سطحوں پر خدمات انجام دیتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو اس بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کہ وہ پالیسیوں کو کس حد تک نافذ کر سکتے ہیں، اداروں کو کس طرح چلا سکتے ہیں اور عملی نتائج کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔ چین کے کیڈر نظام پر ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر معاشی کارکردگی عہدیداروں کی ترقی میں ایک اہم عنصر رہی ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ معیارِ کارکردگی کا دائرہ وسیع ہوا ہے، جس میں سماجی بہبود، غربت میں کمی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر پالیسی اہداف بھی شامل ہو گئے ہیں۔
یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چین میں سیاسی ترقی عموماً ملک گیر عوامی انتخابات جیتنے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ عہدیداروں کا انتخاب اور ان کی ترقی ایک درجہ بہ درجہ پارٹی-ریاستی نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ ان کے کیریئر کا انحصار اعلیٰ حکام کے جائزوں، تنظیمی ضروریات، سیاسی ترجیحات اور عملی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ تاہم علمی تحقیق اس تصور سے بھی محتاط رہنے کی تلقین کرتی ہے کہ چینی نظام کو ایک مکمل اور بے عیب میرٹ کریسی سمجھ لیا جائے۔ سیاسی وفاداری، ادارہ جاتی روابط اور مختلف دھڑوں کے باہمی تعلقات بھی بعض اوقات ترقی کے عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود طویل المدت انتظامی تجربے پر دیا جانے والا زور قابلِ توجہ ہے۔ کسی عہدیدار سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پہلے کسی مقامی علاقے میں اپنی صلاحیت اور انتظامی اہلیت ثابت کرے، تب اسے اس سے بڑی ذمہ داری سونپی جائے۔ معاشی ترقی، روزگار، غربت کا خاتمہ، عوامی انتظام و انصرام، سماجی استحکام اور ماحولیاتی اہداف سب کارکردگی کے جائزے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ چین نے بتدریج یہ حقیقت بھی تسلیم کی ہے کہ تیز رفتار معاشی ترقی ہی اچھی حکمرانی کا واحد پیمانہ نہیں ہو سکتی۔ عالمی بینک نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ کارکردگی کے پیمانوں میں سماجی، ماحولیاتی اور جدتِ طرازی کے نتائج کو شامل کیا گیا ہے۔
شی جن پنگ کا سیاسی سفر اس تدریجی عروج کی ایک نمایاں مثال پیش کرتا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت تک پہنچنے سے پہلے انہوں نے کئی برس مقامی اور صوبائی سطح کی ذمہ داریاں ادا کیں، جن میں فوجیان اور ژے جیانگ بھی شامل ہیں۔ 2007ء میں شنگھائی کے پارٹی سیکریٹری چن لیانگ یو کو ایک بڑے بدعنوانی اسکینڈل کے پس منظر میں عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد شی جن پنگ کو شنگھائی کی قیادت سونپی گئی۔ اگرچہ وہاں ان کا قیام مختصر رہا، لیکن اس تقرری نے انہیں چین کے اہم ترین سیاسی اور معاشی مراکز میں سے ایک کی قیادت کے براہِ راست تجربے سے روشناس کرایا۔ اسی سال کے اواخر میں وہ کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی میں شامل ہوئے، اور یوں قومی قیادت کی بلند ترین سطح تک ان کی رسائی کا آغاز ہوا۔
چینی ماڈل کا ایک اور اہم پہلو مسلسل تعلیم اور تربیت ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں کو صرف ان تجربات کے سہارے نہیں چھوڑ دیا جاتا جو وہ صوبائی یا مقامی عہدوں پر حاصل کرتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا مرکزی پارٹی اسکول، جو اب نیشنل اکیڈمی آف گورننس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، اعلیٰ اور درمیانی سطح کے عہدیداروں کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم ادارہ ہے۔ یہاں سیاسی نظریات، حکمرانی، قومی حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ چینی حکومت نے 2025ء میں پارٹی اسکولوں سے متعلق ضوابط میں بھی نظرِ ثانی کی، جس میں پارٹی ارکان اور عہدیداروں کی تربیت میں ان کے کردار کی دوبارہ توثیق کی گئی۔
لہٰذا چین کی کامیابی کو اس سادہ دعوے تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے صرف اس لیے ترقی کی کہ اس کے پاس ماہرینِ انتظامیہ کے انتخاب کا ایک بے عیب نظام موجود تھا۔ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ چین کی ترقی معاشی اصلاحات، وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری، صنعتی پالیسی، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، بین الاقوامی تجارت، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ایک منظم ریاستی مشینری کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہے۔ عہدیداروں کے انتخاب، تربیت اور انتظام کا نظام اس وسیع تر قومی تبدیلی کا ایک اہم جزو ضرور رہا ہے، مگر پوری داستان نہیں۔
اس نظام کے بارے میں سنجیدہ مباحث بھی موجود ہیں۔ محققین نے اس کی بعض کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ عہدیدار کارکردگی کے اشاریوں میں ردوبدل کریں یا قابلِ پیمائش اہداف پر ضرورت سے زیادہ توجہ مرکوز کر دیں۔ مثال کے طور پر بعض اوقات ماحولیاتی اہداف اور روایتی معاشی ترقی کی ترجیحات کے درمیان کشمکش بھی پیدا ہوئی ہے۔
اس کے باوجود اس تجربے میں ایک ایسا سبق پوشیدہ ہے جس پر سیاسی نظاموں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر غور کیا جانا چاہیے۔ قومیں صرف اس لیے طاقتور نہیں بنتیں کہ ان کے پاس آئین، ادارے یا بلند بانگ منصوبے موجود ہوتے ہیں۔ ادارے اس وقت مؤثر بنتے ہیں جب باصلاحیت افراد کو ذمہ داری کے منصب سونپے جائیں، جب کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے، جب تجربے کو اہمیت دی جائے اور جب عوامی انتظام و انصرام کو ایک سنجیدہ اور باوقار پیشہ سمجھا جائے۔
1949ء کے بعد چین کا غیر معمولی سفر دراصل مسلسل قومی جدوجہد کی داستان ہے۔ اس تجربے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ جب کوئی ریاست طویل المدت قومی اہداف کے حصول کے لیے مؤثر ادارے تشکیل دیتی ہے اور برسوں کے انتظامی تجربے اور تربیت کے ذریعے قیادت کی ایک مسلسل کھیپ تیار کرتی ہے تو اس کے نتائج کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے ضروری نہیں کہ وہ چین کے سیاسی ماڈل کی نقل کریں؛ وہ اس تجربے کا مطالعہ کرکے اپنے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق اپنے نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
ہر قوم کے سامنے بنیادی سوال بہرحال ایک ہی رہتا ہے: کیا اقتدار اور اختیار کے منصب وفاداری اور تعلقات کے صلے کے طور پر تقسیم کیے جا رہے ہیں، یا انہیں ایسی ذمہ داریاں سمجھا جا رہا ہے جن کے لیے علم، تجربہ، دیانت اور ثابت شدہ کارکردگی ضروری ہے؟
چین کا عروج دنیا کے سامنے یہ سوال اس شدت سے رکھ چکا ہے کہ اب اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
