پنجاب لیبر کوڈ کی منظوری کے بعد اب اس کے نوٹیفکیشن کی تیاری

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمٰن سواتی نے کہا ہے کہ پنجاب لیبر کوڈ کی منظوری کے بعد اب اس کے نوٹیفکیشن کی تیاری مزدوروں اور ٹریڈ یونین تحریک کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ قانون میں ورکرز اور ٹریڈ یونین کی تعریف، اجتماعی سوداکاری (Collective Bargaining) اور اجتماعی سوداکار ایجنٹ (CBA) کے کردار و اختیارات سے متعلق ابہام محنت کشوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب لیبر کوڈ کے خلاف صوبے کی مختلف ٹریڈ یونینز اور مزدور فیڈریشنوں نے مشترکہ جدوجہد کے لیے اینٹی پنجاب لیبر کوڈ موومنٹ قائم کی تھی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے حکومت کو قانون کے ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ کیا گیا اور مزدوروں کے حقوق، ٹریڈ یونین کی آزادی اور اجتماعی سوداکاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا۔
شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ مزدور تنظیموں کے تحفظات کے باوجود پنجاب لیبر کوڈ اسمبلی سے منظور ہوا، تاہم نیشنل لیبر فیڈریشن نے اپنے اعتراضات متعلقہ فورمز پر اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ فیڈرل ٹرائی پارٹائٹ کنسلٹیشن کمیٹی (FTCC) میں تحفظات پیش کیے گئے، پنجاب حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا اور محکمہ محنت کے حکام سے ملاقاتوں میں قانون کی خامیوں اور ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے سے ڈائریکٹر جنرل پنجاب لیبر کی جانب سے مختلف مزدور فیڈریشنوں کے نمائندوں کو انفرادی طور پر مدعو کرکے مجوزہ نوٹیفکیشن کے حوالے سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اینٹی پنجاب لیبر کوڈ موومنٹ میں شامل بعض تنظیموں کے نمائندے مشترکہ مشاورت اور متفقہ لائحۂ عمل کے بغیر انفرادی حیثیت میں حکومتی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصولی طور پر حکومت کی جانب سے کسی بھی تنظیم کو دعوت ملنے پر اسے مشترکہ فورم کو اعتماد میں لے کر تمام متعلقہ تنظیموں کی مشاورت سے متفقہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ انفرادی رابطوں اور الگ الگ مذاکرات سے مزدوروں کی اجتماعی آواز کمزور ہوتی ہے اور مشترکہ جدوجہد کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔
شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن بامعنی مذاکرات اور مشاورت کے خلاف نہیں، تاہم مزدوروں کے مستقبل سے متعلق اہم قانون سازی میں اجتماعی فیصلے اور نمائندہ تنظیموں کی مؤثر شرکت ناگزیر ہے۔
انہوں نے پنجاب لیبر کوڈ کے حوالے سے بنیادی قانونی اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ورکرز اور ٹریڈ یونین کی تعریف، اجتماعی سوداکاری کے طریقۂ کار اور سی بی اے کے کردار و اختیارات کو واضح کرنا ضروری ہے۔ اگر ان معاملات میں ابہام برقرار رہا تو مزدوروں کی تنظیم سازی، اجتماعی نمائندگی اور آجر کے ساتھ مذاکرات کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے پنجاب لیبر کوڈ کے حوالے سے اپنے تحفظات وفاقی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی پیش کیے ہیں۔ جنیوا میں بین الاقوامی محنت کانفرنس (ILC) کے دوران پاکستانی ورکرز نمائندوں شمس الرحمٰن سواتی اور چوہدری سعد محمد کی کوششوں سے ورکرز گروپ نے پاکستان کے سرکاری وفد کے سربراہ کے سامنے اس قانون کے حوالے سے احتجاج اور تحفظات کا اظہار کیا اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت اجاگر کی۔
شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک پہلے ہی غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ، ٹھیکیداری نظام، یونین سازی میں مشکلات اور اجتماعی سوداکاری کے محدود ہوتے مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں مزدور تنظیموں کے اتحاد کو نقصان پہنچانا پوری مزدور تحریک کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
نیشنل لیبر فیڈریشن کے مطالبات
شمس الرحمٰن سواتی نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ:
پنجاب لیبر کوڈ کے نوٹیفکیشن سے قبل تمام متعلقہ ٹریڈ یونینز اور مزدور فیڈریشنوں سے باضابطہ اور بامعنی مشاورت کی جائے۔
ورکرز اور ٹریڈ یونین کی تعریف، اجتماعی سوداکاری اور سی بی اے کے کردار و اختیارات سے متعلق قانونی ابہام دور کیا جائے۔
مزدور تنظیموں کی تجاویز کی روشنی میں قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں۔
ٹریڈ یونین کی آزادی، اجتماعی سوداکاری اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کے لیے واضح قانونی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
مزدور تنظیموں کے مشترکہ فورم کو مشاورت اور مذاکرات میں مؤثر نمائندگی دی جائے اور انفرادی رابطوں کو اجتماعی مشاورت کا متبادل نہ بنایا جائے۔
آخر میں شمس الرحمٰن سواتی نے تمام مزدور فیڈریشنوں، ٹریڈ یونینز اور مزدور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اینٹی پنجاب لیبر کوڈ موومنٹ کے مشترکہ پلیٹ فارم کو مضبوط بنائیں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متفقہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی اصل طاقت ان کے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد میں ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان محنت کشوں کے حقوق، ٹریڈ یونین کی آزادی اور اجتماعی سوداکاری کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔