لیاقت بلوچ سے خواجہ سعد رفیق ن کی ملاقات–حافظ محمد ادریسؒ کی وفات پر تعزیت کی

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے منصورہ میں ملاقات کی اور حافظ محمد ادریسؒ کی وفات پر تعزیت کی؛ سابق وفاقی وزیر، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور پاکستان ڈائیلاگ فورم کے کنوینئر فواد چوہدری، مُنیر احمد خان نے بھی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ لیاقت بلوچ نے سندھ کے حیدرآباد، کراچی دو روزہ دورہ کے بعد منصورہ میں سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سُپرمارچ ملتان میں مؤخر ہوا، پورے ملک میں پٹرولیم لیوی بھتہ کے خاتمہ کی جدوجہد کے کارکن تازہ دم ہوکر ملتان سے اسلام آباد سُپرمارچ کےلئے تیار ہیں اور حافظ نعیم الرحمن کی کال کے منتظر ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی پٹرولیم لیوی بھتہ کے خاتمہ کی تحریک کے دو بنیادی اُصول طے کرلئے گئے کہ عوامی مسائل کے حل اور ریلیف کےلئے پُرامن سیاسی، جمہوری، آئینی، قانونی مزاحمت کریں گے اور احتجاج جاری رکھتے ہوئے حکومت سے مذاکرات بھی کریں گے۔ اسلام آباد سُپرمارچ ملتان میں مؤخر ہوا، اب یہ وزیراعظم میاں شہباز شریف پر ہے کہ وہ ملک واپسی پر وقت ضائع کئے بغیر حافظ نعیم الرحمن سے مذاکرات کریں، پٹرولیم لیوی ختم کریں، عوام کو ریلیف دیں، معاشی پہیہ چلنے دیں، تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور ملک استحکام حاصل کرے۔ حکومت ٹال مٹول، لیت و لعل اور وقت کا ضیاع صرف اسلام آباد سُپرمارچ کا ہی نہیں ناکام نظام کے خاتمہ اور ہائبرڈ نظام کی ناکام حکومت کے خاتمہ کی ملک گیر تحریک کا نقطہ آغاز ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے دورہ سندھ سے واپسی پر کہا کہ ملک کا اصل گھمبیر بحران نظام کی ناکامی ہے۔ آئین سے بالادست نظام ریاستی اداروں، جمہوریت، عدلیہ اور آئین کےلئے جان لیوا بن گیا ہے۔ سندھ پر پی پی پی کے اسٹیبلشمنٹ اور وڈیروں سے گٹھ جوڑ کے ذریعے قبضہ نے جمہوریت کو غرق کردیا ہے، شہری حقوق پامال اور بااختیار بلدیاتی نظام چھین لیا گیا ہے۔ ناہلی، کرپشن، بدانتظامی سندھ کے عوام کےلئے تباہی بن گئی ہے۔ ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں اور مال ہڑپ کرلیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، کِسان ہاری زبوں حالی کا شکار ہے ۔پورے ملک کی سیاست سے زرداری، شریف خاندان کی سیاست کا سُورج غروب ہورہا ہے۔ عوام پاکستان کے باوقار استحکام، آئینی، جمہوری بااعتماد انتخابات، بااختیار بلدیاتی نظام کا راج چاہتے ہیں۔ عوام، نوجوان ماضی کے تمام تجربات کرچکے، اب جماعتِ اسلامی ہی مضطرب عوام کےلئے بہترین چوائس ہے۔ ملکی استحکام کےلئے گُڈگورننس اور گُڈگورننس کےلئے جمہوری، آئینی، اہلیت، امانت و دیانت پر مبنی نظام ناگزیر ہے۔