پاکستان کا آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسا معاشی سفر

تحریر: محمد محسن اقبال
پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک مستقل اور افسوس ناک باب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر اس کا بار بار انحصار ہے۔ ہر نئے پروگرام کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے آسودگی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے، دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کا ایک اور موقع میسر آتا ہے۔ لیکن جب ایک معاہدے کے بعد دوسرا معاہدہ سامنے آتا ہے تو ایک بنیادی سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے؛ آخر پاکستان کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے بار بار بیرونی امداد کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟
یہ مسئلہ محض قرضوں کے بوجھ تک محدود نہیں۔ اس کی جڑیں ان ساختی کمزوریوں میں پیوست ہیں جنہوں نے قرض لینے کو معاشی نظم و نسق کا تقریباً معمول بنا دیا ہے۔ پاکستان کے سامنے اصل چیلنج صرف ایک اور قرض حاصل کرنا یا مالی معاونت کی اگلی قسط وصول کرنا نہیں، بلکہ اس معاشی نظام کی اصلاح ہے جو بار بار اسے بیرونی سہارے کا محتاج بنا دیتا ہے۔
پاکستان کی صورتِ حال اس اعتبار سے بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے مسلسل رجوع کرنے کے باوجود ہم اس پر انحصار سے مستقل نجات حاصل نہیں کر سکے۔ محدود برآمدات، محصولات کی کمزور وصولی، مسلسل مالیاتی خسارے، توانائی کی بلند قیمتیں اور سرمایہ کاری کی ناکافی سطح نے مل کر ایک ایسا چکر پیدا کر دیا ہے جس سے نکلنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ جب بھی زرمبادلہ کی قلت شدت اختیار کرتی ہے، حکومت بیرونی مدد کی طرف دیکھنے لگتی ہے؛ اور جب فوری دباؤ میں کچھ کمی آتی ہے تو بنیادی اصلاحات کی ضرورت اور اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یوں وقتی استحکام تو حاصل ہو جاتا ہے، مگر دیرپا حل کی منزل بدستور دور رہتی ہے۔
اکتوبر 2026 میں آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور لچک و پائیداری سہولت کے جائزوں کے حوالے سے پاکستان اور فنڈ کے عملے کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ رقم مختصر مدت میں معاشی استحکام کو تقویت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن محض اس معاونت سے اس امر کی ضمانت نہیں ملتی کہ پاکستان کو آئندہ کسی نئے پروگرام کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس مہلت اور گنجائش سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں جو ہمیں میسر آئی ہے۔
معاشی استحکام ضروری ہے، مگر اسے معاشی تبدیلی کا ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مہنگائی کو قابو میں رکھنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا یقیناً اہم کامیابیاں ہیں۔ تاہم ان کے ثمرات اسی وقت پائیدار ہو سکتے ہیں جب پاکستان اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور بیرونی دنیا سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے قابل ہو۔ ایک مضبوط معیشت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی ترقی کے اخراجات اپنی پیداواری سرگرمیوں سے پورے کرے، نہ کہ بار بار بیرونی امداد کی محتاج رہے۔
ٹیکس نظام کی اصلاح اس سفر کا پہلا اور ناگزیر قدم ہے۔ ایک منصفانہ اور مؤثر مالیاتی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک تنخواہ دار طبقے اور باقاعدہ دستاویزی کاروباروں پر غیر متناسب بوجھ ڈالا جاتا رہے، جبکہ معیشت کے بڑے حصے سے اس کی استعداد کے مطابق محصولات وصول نہ کیے جائیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، چھوٹ اور استثنا کو معقول بنانا، اور ڈیجیٹل نگرانی و شفاف انتظامی طریقوں کے ذریعے وصولی کے نظام کو جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زراعت، جائیداد اور خوردہ تجارت کے شعبوں کو بھی اپنی معاشی استعداد اور قانون کے مطابق منصفانہ حصہ ادا کرنا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں کو بھی محصولات جمع کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔ پائیدار سرکاری مالیات کا تقاضا وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کا سلسلہ۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی اسی قدر ناگزیر ہیں۔ گردشی قرضہ، بجلی چوری، ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور کمزور وصولیاں سرکاری خزانے پر مسلسل بوجھ ڈالنے کے ساتھ صنعتی مسابقت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کارکردگی اور انتظامی نظم و نسق میں بہتری کے بغیر محض بجلی کے نرخ بار بار بڑھانا کسی دیرپا حل کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانا، نقصانات کم کرنا اور جہاں افادیت میں اضافہ ممکن ہو وہاں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ توانائی کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو مالی اعتبار سے پائیدار ہو، مگر ملکی پیداوار کو اس قدر مہنگا نہ کر دے کہ صنعت و تجارت کی ترقی ہی دشوار ہو جائے۔
تاہم، پاکستان کی معاشی خودمختاری کا سب سے بڑا امتحان بیرونی دنیا سے زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے۔ حکومت کے ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک میں 2029 تک اشیائے تجارت کی برآمدات تقریباً 63 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہدف اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب پالیسیوں میں تسلسل ہو، توانائی کی قیمتیں مسابقتی سطح پر ہوں، کاروباری اداروں کو مالی وسائل تک رسائی حاصل ہو، جدید ٹیکنالوجی میسر آئے اور تجارت کے طریقۂ کار کو مؤثر بنایا جائے۔ پاکستان کو روایتی برآمدات پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اعلیٰ قدر کی حامل ٹیکسٹائل مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات اور زرعی اجناس کی پراسیسنگ جیسے شعبوں کو ترقی دینا ہوگی۔ برآمدات میں تنوع محض معاشی ترقی کی حکمت عملی نہیں، بلکہ بیرونی قرضوں کی ضرورت کم کرنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کے تسلسل پر اعتماد حاصل نہ ہو۔ جب ٹیکس قوانین، ضوابط اور معاشی ترجیحات غیر متوقع انداز میں بدلتی رہیں تو سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ سرکاری اداروں کو پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت چلانا ہوگا، جبکہ جہاں مناسب ہو وہاں تنظیمِ نو یا نجکاری کے راستے اختیار کرنے چاہییں۔ سرکاری اخراجات کا رخ ایسے پیداواری منصوبوں کی طرف ہونا چاہیے جو قومی دولت میں اضافہ کریں، نہ کہ ان ناکارہیوں کو برقرار رکھنے پر جو پہلے ہی محدود قومی وسائل کو نگل رہی ہیں۔ چنانچہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اداروں کی ساکھ اور اعتبار بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنی مالی مراعات۔
تاہم اصلاحات کی کوئی بھی حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کے سماجی اثرات کو نظرانداز کیا جاتا رہے۔ مالیاتی نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ معاشی اصلاحات کی قیمت معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات سے وصول کی جائے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور غیر مؤثر سبسڈی کے خاتمے سے حاصل ہونے والے وسائل صحت، تعلیم، فنی تربیت اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے پر صرف ہونے چاہییں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی معاشی ترقی کا ایک عظیم محرک بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو ایسی تعلیم، مہارتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں جو انہیں مسابقت کی جدید دنیا میں کامیابی کے قابل بنا سکیں۔ ایسا معاشی استحکام جو عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہ لا سکے، عوام کا وہ اعتماد حاصل نہیں کر سکتا جو مشکل فیصلوں کو دیرپا بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کو اس طرح مکمل کرنے کا عزم کہ پاکستان کو دوبارہ کسی نئے پروگرام کی ضرورت نہ پڑے، یقیناً قابلِ تحسین ہے اور اس کے لیے سنجیدہ قومی عزم درکار ہے۔ لیکن کسی پروگرام سے نکلنے کی تاریخ مقرر کر دینا، اس سے نکلنے کی مکمل حکمت عملی نہیں ہوتا۔ مالیاتی نظم و ضبط، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ادارہ جاتی بہتری ایسی بنیادیں ہیں جنہیں سیاسی تبدیلیوں اور قیادت کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قلیل مدتی سیاسی مصلحتوں کو طویل مدتی معاشی استحکام پر فوقیت دینے کی روش ترک کر دی جائے۔
دوسرے مقروض ممالک کے تجربات بھی ہمارے لیے اہم اسباق رکھتے ہیں۔ ارجنٹائن پر آئی ایم ایف کے قرضوں کا بھاری بوجھ، یوکرین کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی مالی ضروریات، اور جمہوریہ کانگو کی گہری غربت اور بدامنی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ قرضوں کے بحران کی وجوہات اور نتائج ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتے۔ معاشی ڈھانچہ، طرزِ حکمرانی، تنازعات اور بیرونی دھچکے، سب اس صورتِ حال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کو عالمی تجربات سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اصلاحات کا راستہ اپنی قومی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق متعین کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف نہ تو پاکستان کا کوئی مستقل دشمن ہے اور نہ ہی وہ بہتر معاشی نظم و نسق کا متبادل بن سکتا ہے۔ اس کی مالی معاونت ملک کو وقتی مہلت اور مشکلات سے نکلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس موقع سے دانش مندی کے ساتھ فائدہ اٹھانے کی ذمہ داری ہماری اپنی قیادت اور قومی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ بار بار قرض لینے کا سلسلہ اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب ان بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ کیا جائے جو ہمیں ہر مرتبہ بیرونی امداد کے دروازے پر لے جاتی ہیں۔
بالآخر پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ نہ تو کسی نئے معاہدے پر دستخط ہوں گے اور نہ ہی مالی معاونت کی کسی نئی قسط کی آمد۔ اصل کامیابی اس معیشت کی تشکیل میں مضمر ہے جو مسابقتی برآمدات، منصفانہ ٹیکس نظام، پیداواری سرمایہ کاری اور محتاط سرکاری مالیاتی نظم کے ذریعے اپنے واجبات ادا کرنے کے قابل ہو۔ پاکستان کو صرف قرضوں کے موجودہ بوجھ سے نجات حاصل نہیں کرنی، بلکہ ان معاشی عادات اور پالیسیوں کو بھی بدلنا ہے جو بار بار اسے اسی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔
عارضی ریلیف مذاکرات کی میز پر حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن حقیقی اور پائیدار معاشی خودمختاری اپنے ہی وطن میں تعمیر کرنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے جرات، مستقل مزاجی اور ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ درکار ہے جنہیں ہم طویل عرصے سے مؤخر کرتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان کو اگر بار بار کی محتاجی کی جگہ حقیقی معاشی خودمختاری حاصل کرنی ہے تو اسے اسی دشوار مگر ناگزیر راستے پر قدم بڑھانا ہوگا۔
کیونکہ قوموں کی حقیقی آزادی صرف سیاسی خودمختاری سے مکمل نہیں ہوتی؛ اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے معاشی فیصلے خود کرنے، اپنے وسائل سے اپنی ضروریات پوری کرنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے دوسروں کی مالی دستِ نگر ہونے سے نجات حاصل کر لیتی ہیں۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف پاکستان کو اب پوری قومی سنجیدگی، یکسوئی اور عزم کے ساتھ سفر کرنا ہوگا۔