جماعتِ اسلامی کے کارکنان یکسُو، یک جان اور پُرعزم ہیں۔

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلّی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر کوئی بھی بیرونی حملہ قابلِ قبول نہیں، حرمین شریفین کا تقدّس اور تحفظ مِلّتِ اسلامیہ کا مشترکہ مؤقف ہے۔ جنگ مسائل کا حل نہیں، تنازعات کا حل مذاکرات ہی ہیں۔ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سفارتی بنیادوں پر سعودی عرب، یمن تنازعہ کے حل کےلئے پیش کش اچھا اقدام تھا لیکن سعودی قیادت اور حوثیوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ حقیقت میں تنہا ایران ہی نہیں پاکستان، ترکیہ، قطر اور ایران مل کر تنازعہ کے سفارتی حل کےلئے مشترکہ کوششیں کریں تو یقیناً مثبت نتائج سامنے آئین گے۔ مصر کے شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کی جنگ کے خاتمہ کےلئے علماء کی عالمی کمیٹی کی ثالثی کے ذریعے جنگ کے خاتمہ کی تجویز اچھی تجویز ہے، عالمِ اسلام کے اکابر علماء کرام بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں، سعودی عرب اور یمن سے بھی اِس تجویز کی حمایت ہو تو معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اِن حالات میں ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دفاعی، صنعتی تعاون کا معاہدہ بھی اچھی پیش رفت ہوگی، فیلڈ مارشل عاصم مُنیر کا دورہ ایران خطہ میں جنگ کے سدّباب اور حالات کو معمول پر لانے کی ازسرِنو کوشش خوش آئند ہے۔ امریکہ اب اسرائیل و صیہونیت کے نرغے سے آزادی حاصل کرکے دُنیا کو معاشی تباہی سے بچائے۔
لیاقت بلوچ نے سینئر صحافی عمار مسعود کے پوڈکاسٹ پروگرام میں کہا کہ جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم لیوی فی لٹر ناجائز بھتہ کے خاتمہ کےلئے عوامی احتجاج جاری ہے، 23 اکتوبر بروز جمعہ اسلام آباد سُپرمارچ کےلئے تیسرے مرحلہ کا آغاز ہوجائے گا، ملک بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر پُرامن احتجاج اور عوامی جذبات کی ترجمانی کےلئے احتجاجی کیمپ اور محضرناموں پر دستخط کرائے جائیں گے۔ ملک بھر کی مساجد میں علماء کرام معاشی بحران، سُودی نظام کے خاتمہ اور پیداواری لاگت کے ناقابلِ برداشت بوجھ سے دم توڑتی معیشت، زراعت، صنعت، تجارت، گھریلو صنعت کے اہم معاملہ پر اپنی مساجد سے خطابِ جمعہ میں عوام کو آگہی دیں۔ امیر جماعتِ اسلامی کی لانگ مارچ کے تیسرے مرحلہ کے آغاز پر ملک گیر احتجاج کی کال بروقت اقدام ہے، عوامی احتجاج اسلام آباد سُپرمارچ کی تیاریوں کو نیا جذبہ دے گی۔ لیاقت بلوچ نے سوال کے جواب میں کہا کہ احسن اقبال اور رانا ثناءاللہ خان نے تجویز کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات اور مذاکرات سے پہلے مذاکراتی کمیٹیوں کے نمائندے مِل بیٹھیں اور مذاکرات کی سفارشات کو حتمی شکل دے لیں، لیکن ابھی تک اُن کی جانب سے اس معاملے میں پیش رفت کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ امر بالکل دوٹوک ہے کہ جماعتِ اسلامی عوام کو ریلیف دِلانے، قومی معیشت پر پیداواری لاگت کے ناجائز بوجھ کو ختم کرنے اور آئی پی پیز، پٹرولیم مصنوعات پر فی فلٹر لیوی بھتہ کے ظلم سے عوام کو نجات دِلانے کےلئے حکومت سے مذاکرات بھی کریں گے اور اپنی حکمتِ عملی کے مطابق مرحلہ وار ملک گیر احتجاج کو بھی منطقی انجام کی طرف لے جائیں گے، تاکہ عوام کو ریلیف مِل سکے۔ ہم جلد بازی، اشتعال انگیزی اور حکومتی عوام دشمنی، سردمہری کے دباؤ میں آنے کی بجائے استقامت سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ امیر جماعتِ اسلامیِ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں نوجوان، خواتین، معیشت کی زبوں حالی سے متاثرہ مزدور، کسان اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان یکسُو، یک جان اور پُرعزم ہیں۔
لیاقت بلوچ نے سوال کے جواب میں کہا کہ جماعتِ اسلامی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ہر حکومت کی جانب سے گورنر راج نفاذ کے آئینی اختیار کے بدنیتی پر مبنی استعمال کی مخالفت کی ہے؛ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کسی بھی حکومت نے گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ سے اختلاف اور مذمت نہیں کی۔ ہم خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کے ذریعے اس غیرضروری، ناجائز اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی اپوزیشن جماعتیں مذاکرات اور پارلیمنٹ کے فورم کو ترجیح دی تاکہ ملک و قوم کےلئے ہر لمحہ پیدا ہونے والے بحرانوں سے نجات مِلے۔#