پاکستان کی تازہ ترین صورتحال

عالمی جیو پولیٹیکل امور کا جائزہ

تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

پاکستان کی داخلی و سفارتی صورتحال، اسرائیل میں حکومت سازی کا بحران، اور امریکہ، ایران اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق اہم عالمی جیو پولیٹیکل امور کا جائزہ لیتے ہیں

سیاسی اور پارلیمانی منظرنامہ: ملک کے سیاسی اکھاڑے میں اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ اور گرما گرمی عروج پر ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں سیاسی جماعتیں (خصوصاً جے یو آئی اور حکومتی اتحادی وزرا کے مابین) ماضی کی فائلیں کھولنے اور کڑے بیانات دینے میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں سیاسی کشمکش اور گورنر راج جیسے امور بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

عوامی مشکلات اور مہنگائی: سیاسی محاذ آرائی کے برعکس، عام آدمی کے لیے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے اخراجات سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے سیاسی و مذہبی جماعتیں (جیسے جماعت اسلامی) سراپا احتجاج ہیں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات و کمیٹیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سفارتی کامیابیاں اور سکیورٹی چیلنجز: پاکستان نے بین الحکومتی گروپ جی 24 (G24) کی صدارت باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے، جسے وزیراعظم نے ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، سرحدی علاقوں (خصوصاً جنوبی وزیرستان اور خیبرپختونخوا) میں سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور افغان سرحد پار سے فتنة الخوارج کو ملنے والے جدید امریکی اسلحے کے شواہد بھی وفاقی سطح پر اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسرائیل میں حکومت سازی کا بحران

پارلیمانی انتخابات اور نیتن یاہو کی مشکلات: اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات (کنیسٹ) کے نتائج نے ایک بار پھر سیاسی تعطل پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی کل 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ جادوئی ہندسہ 61 ارکان کی حمایت کا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو کی پوزیشن: نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے، لیکن ان کا اتحاد سادہ اکثریت سے چند نشستیں پیچھے رہ گیا ہے۔ کرپشن کے الزامات اور مقدمات سے بچنے کے لیے نیتن یاہو اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپوزیشن اور عرب جماعتوں کا کردار: دوسری طرف سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ اور نفتالی بینیٹ کی زیرِ قیادت اپوزیشن اتحاد نے بھی حکومت بنانے کے لیے جوڑ توڑ تیز کر دی ہے۔ اس تمام صورتحال میں اسرائیلی عرب جماعتوں کی نشستوں (تقریباً 19 نشستیں) نے “کنگ میکر” کا کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے تل ابیب میں حکومت سازی کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے اور اسرائیل ایک نئے سیاسی بحران سے دوچار ہے۔

امریکہ الیکشن، امریکہ-ایران جنگ، اور ٹرمپ کی دھمکیاں یا عملی اقدام

امریکہ ایران کشیدگی اور ٹرمپ کی پالیسی:ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ بالخصوص امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی کڑے مرحلے سے گزرے ہیں۔ ماضی میں خطے میں شدید فوجی جھڑپیں اور حملے دیکھنے میں آئے جن میں ایران کی اہم عسکری و سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹرمپ کی دھمکیاں اور عملی اقدامات: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مسلسل سخت انتباہات دیے جاتے رہے ہیں۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران نے جامع معاہدے سے گریز کیا تو وہ چند منٹوں میں ایران کی باقی ماندہ ایٹمی یا حساس تنصیبات کو تباہ کرنے کا مکمل منصوبہ رکھتے ہیں۔

جنگ یا مذاکرات کا دوطرفہ رخ: جہاں ایک طرف ٹرمپ نے متعدد بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کو فوجی و معاشی طور پر زبردست نقصان پہنچا چکے ہیں اور جنگ کے جلد خاتمے کے اشارے بھی دیے، وہیں دوسری طرف وہ “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی حکمت عملی کے تحت ایران پر اقتصادی اور عسکری دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ تہران کو واشنگٹن کی شرائط پر میز پر لایا جا سکے