نائب امیر جماعت اسلامی، قومی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سابق ممبر لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیریوں پاکستان کی شہہ رگ کو ہندو سامراج سے آزاد کرانے کےلئے لازوال قربانیاں دی ہیں. حق خودارادیت کے حصول کی 79 سال سے فقیدالمثال جدوجہد جاری ہے. اقوامِ متحدہ نے خود اپنی قرارداد کے مط؛بق مسئلہ کشمیر کے حق میں جانبدارانہ، متعصبانہ کردار ادا کیا. جس، کے نتیجے میں جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کے ساتھ قابض بھارتی فوج نے لاکھوں کشمیریوں کو، شہید، زخمی، قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار اور ان کے گھر کا سایہ، کھیت کھلیان برباد ہوگئے. مسئلہ کشمیر علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ اانسانوں کی بقاء، انسانی حقوق اور ان کے حق خودارادیت کے حصول کا مسئلہ ہے. حق خودارادیت کے حصول کےلئے کشمیریوں کی جدوجہد عالمی ضمیر کا بڑا، امتحان ہے. 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیری عوام کی آزادی کا حق چھین کر بھارتی فوج سری نگر میں داخلہ کے بعد. ناجائز قابض ہوگئی. کشمیریوں نے کبھی بھی ناجائز بھارتی قبضہ کو قبول نہیں کیا. بھارت یکطرفہ طور پر تمام عالمی وعدوں، فیصلوں کو پامال کرتا ہے لیکن عالمی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں. سرد جنگ اورخطے میں بالادستی کے جنگی جنون نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے. پاکستان کے 25 کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں. ھمارا دوٹوک مؤقف ہے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے. بھارت یا پاکستان یکطرفہ طور ہر کشمیریوں پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرسکتے. یہ کشمیریوں کا حق ہے کہ انہیں حق خودارادیت دیا جائے. اور وہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ طور پر فیصلہ کریں کہ وہ خود پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں.
لیاقت بلوچ نے 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنویبئر غلام محمد صفی، کشمیری رہنما عبدالرشید ترابی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قیادت نے بھارتی ظلم و جبر کے سامنے استقامت سے کھڑے ہوکر آزادی کی جدوجہد کے چراغ کو روشن کیا. کشمیری قیادت نے جیلوں. عقوبت خانوں، پھانسی گھاٹ کو آباد رکھا لیکن لازوال جدوجہد کو زندہ رکھا. لیاقت بلوچ نے یقین دلایا کہ جماعتِ اسلامی ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کی جدوجہد کی پشتیبان رہے گی. حکومتِ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈال دیا ہے اور یہ سنگین غلطی ہے. مسئلہ کشمیر پر بھارت کو کوئی ڈھیل دینے کی بجائے سیاسی، سفارتی اور علاقائی محاذ پر بےنقاب کرتے رہنا چاہئے. آزاد جموں و کشمیر تحریکِ آزادی کا اھم ترین بیس کیمپ ہے، اِسے سیاست کی چال بازیوں کی آماجگاہ نہ بنایا جائے، عوامی احتجاج کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا راستہ دیا جائے اور حکومت، کشمیری قیادت غیرمتزلزل کشمیری پالیسی کی بنیاد پر سفارتی محاذ پر جدوجہد کی جائے. آزادکشمیر میں معرکہ حق کی کامیابی کے انڈیا کے جاری آپریشن سندور ٹو کو پوری حکمت اور وحدت سے ناکام بنایا جائے
