دنیا میں راشن جمع کرنے کی ہدایت سے پرامن شہریوں میں تشویش، حملہ یا ایٹمی دھماکہ

تحقیق و تجزیہ : محمد اجمل خان سینئرجرنلسٹ

دنیا میں جاپان برطانیہ سمیت کئی ممالک شہریوں کو راشن جمع کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں جس سے پرامن شہریوں میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے اس معاملے کو عالمی حالات کے وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کیا دنیا کسی بڑے بحران کے لیے تیاری کر رہی ہے، یا حکومتیں محض احتیاطی انتظامات کر رہی ہیں؟لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے: ہنگامی تیاری کی ہدایت، کسی آنے والی جنگ یا تباہی کا اعلان نہیں ہوتی۔ بعض حکومتیں جنگ، سائبر حملوں، بجلی و مواصلات کی بندش، قدرتی آفات یا رسد میں تعطل کے امکان کے پیش نظر پہلے ہی شہریوں کو تیار رہنے کا مشورہ دیتی ہیں۔

تازہ تحقیق کے مطابق خبروں کے پیچھے اصل صورتِ حال کیا ہے؟جاپان، برطانیہ اور دیگر کے اعلانات واقعی ایک ہی وقت میں کسی مخصوص فوجی خطرے سے متعلق ہوئے ہوں تو ان کی مشترکہ اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ مگر فی الحال دستیاب شواہد ان اعلانات کو ایک خفیہ منصوبے سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں یہ بات بھی اہم ہےکہ اگر ایران واقعی جوہری ہتھیاربنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے نتائج صرف اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے؛ سعودی عرب، خلیجی ممالک، پاکستان اورعالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران صرف جوہری ٹیکنالوجی کو تیز کرنا چاہتا ہے، یا جنگ کے تجربے کے بعد اپنے جوہری نظریے میں بنیادی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ دستیاب شواہد دوسرے امکان پر سنجیدہ نظر رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں، مگر حتمی نتیجے کے لیے مزید تصدیق ضروری ہے۔

تازہ رپورٹسں کے مطابق تہران میں واقعی پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی اہم چار فریقی ملاقات ہوئی ہے۔ اس کا تعلق علاقائی جنگ کے خطرے، سعودی عرب پر حوثی حملوں، امریکہ و ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات اور خطے کے دفاعی انتظامات سے ہے۔سعودی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی، جو ولی عہد کے بھائی ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔

تہران میں کیا کچھ سامنے آیا، اور کیا ابھی پردے میں ہے؟26 اکتوبر کی ملاقات کے بعد 27 اکتوبر تک سامنے آنے والی اطلاعات کو چار حصوں میں سمجھنا چاہیے۔

مشترکہ دفاعی معاہدہ اور ایران

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اب ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایران کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطہ بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات

پاکستان اور قطر کی ثالثی سے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، امریکی بحری پابندیاں اٹھانے اور جوہری پروگرام پر بات چیت کے طریقۂ کار میں اختلافات موجود ہیں۔

سعودی عرب کی سلامتی اور تیل کی تنصیبات

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔ سعودی عرب کے لیے یہ ایک فوری سلامتی کا مسئلہ ہے، اور اسی وجہ سے ایران کے ساتھ رابطہ اہم ہو جاتا ہے۔ تاہم حوثیوں کے ہر دعوے کو آزادانہ تصدیق کے بغیر ثابت شدہ حملہ نہیں کہا جا سکتا۔اصل مشترکہ اعلامیے میں کیا لکھا تھا؟ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ لیکن عوامی طور پر جاری مختصر اعلامیے میں نہ کسی نئے جنگ بندی معاہدے کا اعلان تھا، نہ ایٹمی پروگرام پر کوئی حتمی سمجھوتا، اور نہ ہی حوثیوں کے معاملے کا کوئی مخصوص حل۔

سب سے اہم تین امکانات

منظرنامہ اول: جنگ روکنے کی کوشش ممکن

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایران کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کریں۔ اس کا کامیاب ہونا ابھی یقینی نہیں۔

منظرنامہ دوم: دفاعی تیاری کے ساتھ مذاکرات

چاروں ممالک رابطے جاری رکھیں، سعودی عرب اپنی دفاعی تیاری بڑھائے اور ایران امریکی دباؤ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے۔ یعنی سفارت کاری بھی جاری رہے اور فوجی احتیاط بھی۔

منظرنامہ سوم: مذاکرات ناکام اور تصادم میں شدت

اگرامریکہ اور ایران آبنائے ہرمز، بحری پابندیوں اور جوہری پروگرام پر کوئی قابلِ قبول راستہ نہ نکال سکے تو نئی فوجی کارروائی کا خطرہ برقرار رہے گا۔ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، پاکستان کی درآمدات، روپے اور مہنگائی تک پہنچ سکتے ہیں۔

کیا اس ملاقات کا تعلق ایران کے ممکنہ ایٹمی تجربے سے بھی ہے؟یہ ایک قابلِ غور سوال ہے، لیکن ابھی تک ایسی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی کہ تہران کی اس ملاقات میں ایران نے ایٹمی دھماکے کے تجربے کا اعلان کیا ہو یا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایسا کوئی فیصلہ بتایا ہو۔ جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے معاملات وسیع تر امریکہ ایران مذاکرات کا اہم حصہ ہیں، مگران پر کوئی حتمی پیش رفت عوامی اعلامیے میں درج نہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر یہ چار ملکی رابطہ مستقل شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا: سعودی عرب کے ساتھ دفاعی ذمہ داریاں، ایران کے ساتھ ہمسائیگی، ترکیہ کے ساتھ تعاون، اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی رابطے۔

اس دورے کی اصل اہمیت یہ نہیں کہ کوئی خفیہ معاہدہ لازماً ہو چکا ہے، بلکہ یہ ہے کہ علاقائی جنگ کے خطرے کے درمیان چار اہم ممالک نے براہِ راست بات چیت کا راستہ کھولا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ اگلی ملاقاتوں میں کوئی ٹھوس سمجھوتا سامنے آتا ہے یا نہیں ، خدشہ اب محض قیاس آرائی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 27 اکتوبر 2026ء کی تازہ اطلاعات میں واقعی ایسے متعدد اشارے موجود ہیں جو کسی نئے فوجی تصادم کے خطرے کو سنجیدہ بناتے ہیں۔ تاہم کسی بڑے حملے کا امکان اور اس حملے کے بارے میں مصدقہ پیشگی اطلاع، دو الگ باتیں ہیں۔تازہ صورتِ حال میں تین باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں:اسرائیل کے انتخاباتسے متعلق سامنے آنے والی رپورٹوں میں الزام لگایا گیا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ان کی حکومت اور وزارتِ دفاع نے حملے کے منصوبے کی تردید کی۔

جبکہ رائٹرز کی یکم اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام نے کہا تھا کہ اگر امریکہ بڑے پیمانے پر دوبارہ حملہ کرتا ہے تو ایران پہلے سے زیادہ وسیع اور سخت جواب کی تیاری کر رہا ہے۔27 اکتوبر کو سعودی قیادت والے اتحاد نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے بھیجے گئے تین بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون تباہ کیے گئے۔ سعودی عرب کے بعض علاقوں میں خطرے کے انتباہ بھی جاری ہوئے۔یہ واقعات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ علاقائی کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

کیا راشن کی ہدایات بھی کسی بڑے حملے کی تیاری کا حصہ ہیں؟

یہ امکان موجود ہے کہ حکومتیں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر شہریوں کو تیار رہنے کا مشورہ دے رہی ہوں۔ برطانیہ کے وزیرِ دفاع نے حال ہی میں ریاستی سرپرستی میں سائبر حملوں، ضروری اشیا کی رسد میں خلل اور ادائیگیوں کے نظام کی بندش جیسے خطرات کا ذکر کیا ہے۔ حکومت نے گھر میں تین دن کے لیے ضروری اشیا رکھنے کی ہدایت دی ہے۔لیکن اس میں ایک اہم فرق ہےکہ برطانوی ہدایت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ حکومت کو ایران پر حملے کی خفیہ تاریخ معلوم ہے۔ اسی طرح جاپان میں برطانوی حکومت کی ہدایت سے متعلق اطلاع کی اشاعت، جاپانی حکومت کی طرف سے کسی مخصوص جنگ کا انتباہ دینے کے برابر نہیں۔

اگلے چند دنوں کے تین ممکنہ منظرنامے

منظرنامہ 1 — محدود حملہ

امریکہ یا اسرائیل ایران کی مخصوص فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائیں، اور ایران جوابی کارروائی کرے۔ اس صورت میں خلیجی ممالک، تیل کی تنصیبات اور بحری راستے خطرے میں آ سکتے ہیں۔

منظرنامہ 2 — وسیع علاقائی جنگ

اگر جوابی حملے سعودی عرب، خلیجی امریکی اڈوں یا اہم بحری راستوں تک پھیلیں تو کئی ممالک براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ منظرنامہ ہوگا، لیکن اسے یقینی قرار دینے کا ثبوت موجود نہیں۔

منظرنامہ 3 — آخری وقت میں سفارت کاری

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دوسرے ثالث حملے کو روکنے، محدود کرنے یا جنگ بندی کی کوشش کریں۔ تہران میں 26 اکتوبر کی ملاقات اسی سفارتی کوشش کے تناظر میں اہم ہے۔

پاکستان میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

مشورہ ہے کہ گھبرانے کے بجائے چند عملی احتیاطیں کر لی جائیں:گھر میں استطاعت کے مطابق چند دن کی عام خوراک اور پینے کا پانی رکھیں۔ضروری ادویات، ٹارچ، پاور بینک اور کچھ نقد رقم دستیاب رکھیں۔افواہوں کی بنیاد پر پیٹرول، ادویات یا خوراک کی غیر ضروری خریداری نہ کریں۔تیل کی قیمتوں، پاکستان کی سرکاری سفری ہدایات، فضائی راستوں اور حکومت کے ہنگامی اعلانات پر نظر رکھیں۔اس وقت سب سے تشویش ناک بات کوئی ایک بیان نہیں، بلکہ انتخابی سیاست، ایران کی جوابی تیاری، سعودی عرب کو درپیش خطرات اور سفارتی کوششوں کا بیک وقت جاری ہونا ہے۔ یہ صورتِ حال بڑے تصادم کے امکان کو سنجیدگی سے لینے کا جواز دیتی ہے، لیکن ابھی یہ دعویٰ کرنا درست نہیں کہ حملے کا فیصلہ ہو چکا ہے یا راشن کی ہدایات اسی فیصلے کا ثبوت ہیں۔ایک اہم سوال کہ جن تجزیہ کاروں نے بڑے حملے کی خبر دی ہے، کیا انہوں نے حملے کا ممکنہ وقت بھی بتایا ہے، یا صرف یہ کہا ہے کہ انتخابات کے بعد حملہ ہو سکتا ہے؟ خبر کی سنسنی نہیں، اس کا ثبوت اہم ہوتا ہے۔ نہ کسی حقیقی خطرے کو معمولی سمجھا جائے، نہ غیر مصدقہ اطلاع کو یقینی خبر بنایا جائے۔ایک عملی بات کہ ابھی گھر میں چند دن کی بنیادی ضروریات رکھنا مناسب احتیاط ہے، مگر قرض لے کر راشن جمع کرنے یا افواہوں کی بنیاد پر خریداری کرنے کی ضرورت نہیں۔

الجزیرہ نے 25 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون نے 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ لیکن منصوبہ تیار ہونا، صدر کی منظوری ملنا اور حملہ شروع ہونا تین مختلف مراحل ہیں۔برطانوی حکومت کی 22 اکتوبر کی سرکاری وضاحت کے مطابق تین دن کی ضروری اشیا رکھنے کی مہم شدید موسم، بجلی و پانی کی بندش اور انٹرنیٹ میں خلل جیسے ہنگامی حالات کے لیے ہے۔ حکومت نے اسے کسی مخصوص حملے کی پیش گوئی قرار نہیں دیا۔حالیہ دنوں میں جاپان اور چند یورپی ممالک کی جانب سے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی حالات (Emergency Preparedness) کے پیشِ نظر راشن اور ضروری سامان کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایات اور وارننگز جاری کی گئی ہیں۔جاپانی حکومت نے اپنے شہریوں کو کم از کم 3 دن سے لے کر 1 ہفتے (7 دن) تک کا ہنگامی راشن اور ضروری سامان گھروں میں رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وجوہ:قدرتی آفات اور زلزلے: جاپان کو شدت کے حامل زلزلوں (مثلاً نانکائی ٹرف زلزلہ) اور طوفانوں کے خطرات کا مسلسل سامنا رہتا ہے، جس سے بجلی، پانی اور سڑکوں کا نظام معطل ہو سکتا ہے۔قومی ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی: نومبر 2026ء میں جاپان کی نئی “قومی ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی” کے قیام کے پیشِ نظر شہریوں کو خود کفیل (Self-reliant) بنانے کے لیے یہ ہنگامی درخواست (Emergency Request) جاری کی ہے۔تجویز کردہ سامان:فی شخص روزانہ 3 لیٹر پینے کا پانی۔ڈبہ بند اور خشک خوراک (Rice, Canned Food) جو جلدی خراب نہ ہو۔پورٹیبل ٹوائلٹ سیٹ، فرسٹ ایڈ کٹ، ٹارچ، پاور بینک اور ضروری نقدی۔یورپی ممالک جنہوں نے راشن ذخیرہ کرنے کا کہا ہے ان میں برطانوی حکومت نے اپنی نئی مہم “Prep” / “Be Ready” کے تحت عوام کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے (3 دن) کا راشن، پانی اور بنیادی ادویات گھر میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وجوہ: ممکنہ سائبر حملوں (Cyberattacks)، ایندھن یا بجلی کے بریک ڈاؤن، شدید موسمی تغیرات اور خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بحالی تک عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ دیگر یورپی ممالک (سویڈن، فن لینڈ، ناروے اور نیدرلینڈز)سویڈن اور ناروے: سویڈن نے “If Crisis or War Comes” نامی کتابچہ اپنے شہریوں کو بھیجا ہے، جس میں کم از کم ایک سے دو ہفتے کی خوراک اور ہنگامی سامان محفوظ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔فن لینڈ: اپنے شہریوں کو کسی بھی بحران کی صورت میں 72 گھنٹے خود کفیل رہنے کی تیاری مکمل رکھنے پر زور دیتا ہے۔یورپی یونین (EU) کی عمومی گائیڈ لائنز: یورپی کمیشن نے تمام رکن ممالک کے لیے 72-Hour Survival Kit تیار رکھنے کی تجاویز دی ہیں تاکہ جنگ، وبائی امراض یا سائبر حملوں کے دوران سپلائی چین متاثر ہونے پر شہری فوری طور پر مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

27 اکتوبر 2026ء تک کے بین الاقوامی اورعلاقائی منظر نامے میں درج ذیل صورتِ حال اور اہم امور نمایاں ترین رہے ہیں

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات: 27 اکتوبر 2026ء کو اسرائیل میں کنیست (پارلیمنٹ) کے ارکان کے انتخاب کے لیے عام ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جو کہ غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد کے پہلے عمومی انتخابات ہیں۔

بین الاقوامی اور علاقائی سفارت کاری: تہران میں ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور ایران کا چوکھی (quadrilateral) اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی صورتِ حال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل مباحثے: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مباحثے میں پاکستان نے سلامتی کونسل میں مزید اراکین کی شمولیت اور ویٹو پاور کی توسیع کے خلاف دوٹوک مؤقف اپنایا۔ مقامی و تاریخی مناسبت (یومِ سیاہ): پاکستان اور کشمیری عوام کی طرف سے 27 اکتوبر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے اترنے اور قبضے کے دن کے حوالے سے “یومِ سیاہ” کے طور پر منایا گیا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کی گئی۔