تحریر: انجینیئر افتخار گجر
زندگی بھی عجب تماشا ہے۔ جن لوگوں کے خلاف کبھی گلی کوچوں میں نعرے لگتے ہیں، جن کے نام پر اختلاف کی دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں، وقت گزرنے کے بعد انہی کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں، ان کے افکار پر گفتگو ہوتی ہے اور ان کی علمی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ تاریخ کی عدالت میں فیصلے دیر سے صادر ہوتے ہیں، مگر جب ہوتے ہیں تو بہت سے مفروضوں، تعصبات اور سنی سنائی باتوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں میرے اپنے تجربات بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ میں نے ان کی مخالفت کا زمانہ بھی دیکھا، ان کے خلاف لگنے والے نعرے بھی سنے اور پھر مطالعے کے ذریعے اپنی سوچ کو بدلتے ہوئے بھی محسوس کیا۔ آج جب ان کے افکار اور علمی خدمات کا ذکر ہوتا ہے تو مجھے اپنی جوانی کے وہ دن یاد آتے ہیں جب میں بھی اس ماحول کا حصہ تھا جس میں مولانا مودودیؒ کی مخالفت ایک عام بات سمجھی جاتی تھی۔
سنہ 1970ء کے انتخابات کا زمانہ تھا۔ مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کے خلاف اختلاف پایا جاتا تھا۔ جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت اہلِ حدیث، کنونشن لیگ اور دوسرے سیاسی حلقوں میں جماعت اسلامی کے بارے میں مختلف آرا موجود تھیں۔ میں اس وقت نوجوان تھا اور اپنے ماحول سے متاثر ہوتا تھا۔ جو باتیں بزرگوں، دوستوں اور سیاسی محفلوں میں سنتا، ان پر یقین کر لیتا۔ نوجوانی میں آدمی کے پاس جوش تو بہت ہوتا ہے، مگر ہر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا تجربہ کم ہوتا ہے۔ وہ اکثر دوسروں کے خیالات کو اپنا خیال سمجھ بیٹھتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
مجھے مولوی منشا والی مسجد کا واقعہ آج بھی یاد ہے۔ وہ اہلِ حدیث کی مسجد تھی اور وہاں مولانا مودودیؒ کے خلاف بات نہیں کی جاتی تھی۔ ہم بریلوی مسجد سے نکل کر باہر سے کھڑکیوں میں منہ کرکے ’’مودودی ٹھاہ‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اس وقت مولانا مودودیؒ کو پڑھا ہی نہیں تھا، ان کی تحریروں اور افکار کو سمجھا ہی نہیں تھا، مگر ان کے خلاف نعرے لگانے میں پیش پیش تھے۔ وقت نے مجھے یہ سکھایا کہ کسی کے خلاف آواز بلند کرنے سے پہلے اس کی بات سننا اور اس کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ اختلاف انسان کا حق ہے، مگر تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف فیصلہ صادر کرنا انصاف نہیں۔
میری زندگی میں مطالعے کا ایک اہم موڑ مدرسہ اشرف العلوم کے نیچے قائم جماعت اسلامی کے دارالمطالعہ سے آیا۔ میں وہاں جانے لگا، کتابیں پڑھنے لگا اور مختلف اہلِ فکر کے خیالات سے واقف ہوا۔ میرے ساتھیوں میں قاضی آصف اور سید طاہر شہباز شامل تھے۔ قاضی آصف بعد میں ڈاکٹر بنے اور امریکہ چلے گئے، جبکہ سید طاہر شہباز نے وفاقی محتسبِ اعلیٰ اور چیئرمین سی ڈی اے جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ان دنوں ہم علم اور شعور کی تلاش میں تھے۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وقت ہمیں کہاں کہاں لے جائے گا، لیکن ان دنوں کے مطالعے نے ہماری سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
’’سمرقند و بخارا کی خونی سرگزشت‘‘، کشمیر کے حالات پر لکھی جانے والی تحریریں، رسالہ چٹان اور روزنامہ زندگی کا مطالعہ میرے فکری سفر کے اہم پڑاؤ تھے۔ کبھی جمہوری پارٹی کے جلسے میں شرکت کی تو وہاں کے خیالات نے متاثر کیا، کبھی خواجہ قمر الدین سیالوی کی مجلس میں بیٹھا تو اس ماحول سے بھی سیکھنے کا موقع ملا۔ میں مختلف خیالات اور نظریات سے گزرتا ہوا بالآخر جماعت اسلامی کے قریب آ گیا۔ لیکن اس پورے سفر کا سب سے بڑا سبق یہ تھا کہ مطالعہ انسان کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنا سکھاتا ہے۔ جو شخص پڑھتا ہے، وہ سوال کرتا ہے؛ جو سوال کرتا ہے، وہ تحقیق کی طرف بڑھتا ہے؛ اور جو تحقیق کرتا ہے، اس کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
مولانا مودودیؒ کے درسِ قرآن میں بھی مجھے ایک سائل کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا۔ میری یاد کے مطابق مولانا مجھے پہچانتے تھے اور جب میں حاضر ہوتا تو محبت سے کہتے کہ گوجرانوالہ سے میرا دوست نن ائے افتخار آ گیا۔ اس یاد میں میرے لیے آج بھی ایک خاص اپنائیت ہے۔ میں ان کی مجلس میں بیٹھ کر سوال کرتا، سنتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ ایک طرف ان کے خلاف طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی تھیں، دوسری طرف ان کی علمی مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس تجربے نے میرے ذہن میں یہ بات راسخ کی کہ کسی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کی اپنی بات سننا ضروری ہے۔ دوسروں کی رائے سے واقف ہونا مفید ہے، مگر اسے تحقیق کے بغیر اپنا فیصلہ بنا لینا درست نہیں۔
میرے ایک رشتہ دار تھانیدار تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مولانا مودودیؒ امریکہ کے ایجنٹ ہیں، کیونکہ امریکہ ان کی کتابیں خریدتا ہے اور پھر انہیں سمندر میں پھینک دیتا ہے۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب استدلال تھا! کسی کتاب کی خریداری سے اس کے مصنف کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اس الزام کی حقیقت جاننے کے بجائے اسے دہرانا آسان تھا، اور شاید اسی آسانی نے ایسی باتوں کو پھیلنے کا موقع دیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی مفکر سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا؛ اختلاف ضرور ہونا چاہیے، مگر دلیل اور تحقیق کے ساتھ۔ کسی کے خلاف تہمت لگا دینا اور پھر اسے حقیقت سمجھ لینا علمی دیانت کے منافی ہے۔
ہمارے محلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لہراتے تھے، مگر جماعت اسلامی کے جھنڈے چند گھروں تک محدود تھے۔ میں نے اپنے وسیع، حویلی نما گھر پر جماعت اسلامی کے ترازو کے نشان اور میاں چوہدری اسلم صاحب کے نام کا بینر بھی آویزاں کر رکھا تھا۔ اردگرد کے گھروں میں دوسرے سیاسی رجحانات غالب تھے، مگر ہم اپنے نظریے کے مطابق کھڑے رہے۔ اس تجربے نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ کسی رائے کی سچائی کا فیصلہ اس کے حامیوں کی تعداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ اکثریت ہمیشہ درست نہیں ہوتی اور اقلیت ہمیشہ غلط نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت دلیل، کردار اور اصول کی ہوتی ہے۔
آج جب مولانا مودودیؒ کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں، ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ان کی علمی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے تو مجھے اپنی جوانی کے وہ نعرے یاد آتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم نے اس وقت ان کی تحریریں پڑھ لی ہوتیں تو شاید ہماری زبان سے وہ نعرے نہ نکلتے۔ یہ اعتراف کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں؛ یہ ہماری اجتماعی تربیت کا مسئلہ ہے۔ ہم اکثر کسی انسان کے بارے میں پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں اور پھر ساری زندگی اسی فیصلے کے حق میں دلائل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ علم کا تقاضا یہ ہے کہ دلیل سامنے آئے تو انسان اپنی رائے بدلنے کی ہمت بھی رکھے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، ذہنی بلوغت کی علامت ہے۔
زندگی نے مجھے یہ بھی سمجھایا کہ وسائل کی کمی انسان کے راستے ضرور مشکل بناتی ہے، مگر محنت، تعلیم اور اچھی تربیت کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ میں نے سعودی عرب میں زندگی کے کئی برس گزارے، جدہ میں محنت کی اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد کی۔ میرے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ بچوں کو مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھا سکتا، مگر میں نے انہیں پاکستان ایمبیسی اسکول میں تعلیم دلائی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے چاروں بیٹے تعلیم یافتہ ہوئے، ان میں سے دو کو حفظِ قرآن کی سعادت نصیب ہوئی اور میری بیٹی نے بھی تعلیم حاصل کی۔ میرے بڑے بھائی کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، اور اللہ کے فضل سے سب اپنے اپنے روزگار میں مصروف ہیں۔ میرے لیے یہ تجربہ اس بات کی گواہی ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی تعداد نہیں، بلکہ ان کی تعلیم، تربیت، اخلاق اور مستقبل کے لیے کوشش کرنا بھی ہے۔
اسی لیے آبادی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بھی اعتدال ضروری ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں، لیکن انسانوں کو محض بوجھ سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ ہر بچہ ایک امکان، ایک صلاحیت اور ایک مستقبل ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی ملک کی طاقت بن سکتی ہے۔ دوسری طرف بچوں کی پیدائش، بانجھ پن یا ویکسینوں سے متعلق دعووں کے معاملے میں سنی سنائی باتوں کے بجائے مستند طبی تحقیق پر بھروسا کرنا چاہیے۔ معاشرتی مسائل کا حل افواہوں میں نہیں، علم اور شعور میں ہے۔
میں نے پردیس میں رہ کر یہ بھی دیکھا کہ بیرونِ ملک پاکستانی کس طرح اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی اپنی محنت، قربانی اور جدوجہد سے گھر چلاتے ہیں، بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں اور وطن زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ پردیس کی زندگی بظاہر خوش حالی کی تصویر دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پیچھے تنہائی، اپنوں سے دوری اور مسلسل محنت کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ ان پاکستانیوں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اگر ہم ان کے تجربے، ہنر اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں تو ملک کی تعمیر میں ان کا کردار مزید مؤثر ہو سکتا ہے۔
آج دنیا کو نفرت اور تصادم سے زیادہ امن، مکالمے اور انصاف کی ضرورت ہے۔ جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کا ہوتا ہے۔ گھر اجڑتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کو کھو دیتی ہیں اور برسوں کی محنت ملبے میں دفن ہو جاتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن قائم فرمائے، انسانوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دے اور نفرتوں کی جگہ محبت، جنگوں کی جگہ مذاکرات اور ظلم کی جگہ انصاف کو رواج دے۔ یہی اصول ہمارے گھروں، ہماری سیاست، ہماری مذہبی محفلوں اور ہمارے معاشرتی رویوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اختلاف ہو تو دلیل سے ہو، تنقید ہو تو انصاف کے ساتھ ہو اور مخالفت ہو تو اخلاق کی حدود میں رہ کر ہو۔
مولانا مودودیؒ کے بارے میں میرے تجربے کا حاصل یہی ہے کہ انسان کو مطالعے سے کبھی دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے افکار پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کی تحریروں کو پڑھے بغیر ان کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں۔ میری اپنی زندگی اس تبدیلی کی گواہ ہے کہ ایک وقت تھا جب میں بھی ان کے خلاف نعرے لگاتا تھا، پھر مطالعے نے مجھے ان کی فکر کو سمجھنے اور اپنے رویے پر نظرثانی کرنے کا موقع دیا۔ اس لیے آج کی نسل سے بھی یہی گزارش ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اسے پڑھے، اس کی بات سنے اور اپنے فیصلے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھے۔
وقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے سامنے اس کے اپنے رویوں کا آئینہ رکھ دیتا ہے۔ جو لوگ زندگی میں مخالفت کا سامنا کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ تاریخ بھی انہیں اسی نگاہ سے دیکھے۔ بعض شخصیات کی قدر ان کے عہد میں پوری طرح نہیں ہو پاتی، مگر بعد کی نسلیں ان کے کام، فکر اور کردار کو نئے سرے سے سمجھتی ہیں۔ انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے تھے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے علم، کردار اور خدمت سے کیا چھوڑا۔ عہدے ختم ہو جاتے ہیں، جھنڈے اتر جاتے ہیں، سیاسی نعرے خاموش پڑ جاتے ہیں، مگر علم اور کردار کی روشنی باقی رہ سکتی ہے۔
اب عمر کے اس حصے میں ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے احتیاط، اختلاف کرتے ہوئے شائستگی اور اپنی رائے بناتے ہوئے تحقیق سے کام لینا چاہیے۔ انسان اپنی غلطی سے سیکھ لے تو اس کی زندگی کا سفر رائیگاں نہیں جاتا۔ میں نے اپنی جوانی میں جو نعرے لگائے، آج انہیں یاد کرکے اپنے لیے ایک سبق اخذ کرتا ہوں: کسی کو سمجھے بغیر اس کی مخالفت نہ کرو، کسی کی بات پڑھے بغیر اس پر فیصلہ نہ سناؤ اور کسی کے بارے میں سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر سچ نہ مانو۔ یہی وہ سبق ہے جو میں اپنے تجربے سے نئی نسل تک پہنچانا چاہتا ہوں۔
ہمیں زمانے نے ٹھکرایا، یہ زمانے کی ادا ٹھہری
ہمیں دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ، یہی وقت کی گواہی ٹھہری۔
