برطانوی ٹیکس ادارے کی 200 ارب پتی افراد کیخلاف کارروائی کی تیاری

رطانیہ میں مکان کرائے پر دینے والے مالکان کو 2027ء سے کرائے کی آمدنی پر ٹیکس میں 4 فیصد پوائنٹس اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ 1 ارب پاؤنڈ اضافی حاصل ہوں گے۔یہ مسلسل دوسرے سال جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس میں اضافہ ہے۔گزشتہ سال بھی سابق وزیرِ خزانہ ریچل ریوز نے جائیداد کی آمدنی پر 2 فیصد ٹیکس بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ماہرینِ جائیداد کے مطابق مسلسل ٹیکس میں اضافے سے مکان خرید کر کرائے پر دینے کا کاروبار مزید مشکل ہو جائے گا اور بعض مالکان اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مکان مالکان اضافی ٹیکس کا بوجھ کرائے داروں پر منتقل کریں گے، جس سے کرایوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔برطانیہ کے ٹیکس وصولی کے ادارے ایچ ایم آر سی (HMRC) نے ملک کے 200 ارب پتی افراد کو ٹیکس سے متعلق خصوصی نگرانی کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور قومی خزانے کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ادارے کے خصوصی افسران، جنہیں ’کمپلائنس منیجرز‘ کہا جاتا ہے، ملک کے امیر ترین افراد سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ان ملاقاتوں کے ذریعے ان کے ٹیکس معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق ٹیکس ادا کریں۔اس اقدام کے تحت ٹیکس حکام امیر ترین افراد کے مالی معاملات پر زیادہ توجہ دیں گے تاکہ ٹیکس کی ادائیگی میں کسی ممکنہ بےضابطگی کی نشاندہی کی جا سکے اور واجب الادا محصولات کی وصولی بہتر بنائی جا سکے۔حکام کی اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام کی نگرانی مؤثر بنانا اور سرکاری آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فہرست میں شامل تمام افراد کے خلاف کسی خلاف ورزی یا ٹیکس چوری کا الزام ہے۔برطانوی ٹیکس ادارے کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت کے لیے سرکاری آمدنی میں اضافے اور عوامی اخراجات کے انتظام کو اہمیت حاصل ہے۔