غزہ جنگ بندی معاہدے کو  فلسطینیوں کی فتح قرار

  ایران  کی جانب سے   غزہ جنگ بندی معاہدے کو  فلسطینیوں کی فتح قرار  دےدیا  گیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی کابینہ اس وقت تک معاہدے کی منظوری نہیں دے گی جب تک حماس پیچھے نہیں ہٹ جاتی۔

تہران نے اسرائیل اور   حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو فلسطینی عوام اور اس کے حامیوں کی فتح قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل  اپنے وعدوں کا احترام نہیں کرے گی ۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایکس پر لکھا کہ   ” غزہ کے عوام کے صبر اور فلسطینی مزاحمت کی استقامت نے صیہونی حکومت کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔”

آئی آر جی سی (IRGC) نے جنگ بندی کو فلسطینیوں کی “واضح فتح”  قرار دیا۔اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے، اور اسے جو نقصان پہنچا ہے، اس نے اسے معاہدے پر  مجبور کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ جمعرات کو غزہ جنگ بندی معاہدے کا جائزہ لے گی اور اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔

امریکہ اور قطر نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت تین مراحل میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔

اسرائیلی کابینہ نے اگر جنگ بندی معاہدے کی حتمی منظوری دے دی تو اتوار کو معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

 میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی کابینہ اس وقت تک معاہدے کی منظوری نہیں دے گی جب تک حماس پیچھے نہیں ہٹ جاتی۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ ’آخری لمحے کے بحران‘ کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کو جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق میں تاخیر کا سامنا ہے۔

اس بیان میں حماس پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے بعض نکات سے انکار کر کے مزید رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم حماس کے ایک سینئر عہدے دار عزت الرشق نے کہا ہے کہ حماس “جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے جس کا اعلان ثالثوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔”