اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے الیکشن نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کردیے۔
اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے انتخابات کے نتائج کا سرکاری طور پر اعلان کردیا، سرکاری نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کو 53، نشستیں اور اپوزیشن جماعتوں کو 67 نشستیں ملنے کی تصدیق کی گئی، جبکہ 19 نشستیں عرب جماعتوں کو ملیں۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے صدارتی محل میں منعقدہ تقریب کے دوران مرکزی الیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوعم سولبرگ سے انتخابات کے باضابطہ نتائج وصول کیے اور ان کی منظوری دی۔
اسرائیلی صدر نے نتائج وصول کرنے کے بعد کہا کہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنا جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے، اب وہ پارلیمنٹ کے کسی رکن کو حکومت بنانے کی کی ذمہ داری دینے پر مشاورت کریں گے۔
انہوں نے 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد عرب برادری کے خلاف سامنے آنے والے نسل پرستانہ اور توہین آمیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کمیونٹی کو انتخابی تحقیقات کی آڑ میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں عرب برادری کے خلاف جو غیر مہذب اور نسل پرستانہ زبان استعمال کی گئی، وہ قابل مذمت ہے اور اسرائیل میں کسی بھی کمیونٹی کے لیے ایسی زبان کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہیں اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شین بیٹ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ انتخابات کے بعد عرب اکثریتی علاقوں میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی نتائج میں بیرونی مداخلت کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ہرزوگ کے مطابق انہوں نے تحقیقات کے طریقہ کار پر شین بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی اور اٹارنی جنرل کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں دونوں سے بات بھی کی ہے اور وہ دونوں کا احترام کرتے ہیں۔
اسرائیلی صدر نے انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی صورت حال پر بھی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی جماعت کو انتخابی مہم کے دوران کیے گئے ہر وعدے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ملک میں نئے انتخابات کی نوبت آسکتی ہے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات ختم کرکے سمجھوتے اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔
ہرزوگ کے مطابق موجودہ صورت حال میں انتخابات کے بعد کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا، اس لیے ملک کے مفاد میں تخلیقی سوچ، حوصلے اور نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی، نیتن یاہو پر نتائج متنازع بنانے کا الزام
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ موجودہ وقت میں ملک کے لیے کیا بہتر ہے۔
اس سے پہلے اسرائیلی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے الیکشن کے نتائج کی منظوری دی اور کسی بھی قسم کی دھاندلی کے شواہد نہ ملنے کا کہا۔
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے صدر کو نتائج دینے کے بعد کہا کہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔
