🍀 تحریر؛ مرزا عبدالقدوس
پاکستان کو دولخت ہوئے اور بنگلہ دیش کے قیام کو 56 سال ہوچکے لیکن اب بھی دونوں برادر اسلامی ممالک کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں،علاقائی، عالمی سیاسی تنازعات ہوں، سیاسی مسائل ہوں یا کھیل کے میدان دونوں ممالک کے عوام کی واضح بھاری اکثریت ایک ہی سوچ رکھتی ہے، قدرتی آفات ہوں یا غمی، خوشی کے مواقع دونوں ممالک کی اکثریت ایک دوسرے سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے سولہ سالہ دور استبداد کے بعد جب حالات بدلے تو دونوں ممالک کے عوام ایک دفعہ پھر ایک دوسرے کے قریب آئے، اور ایک سوچ اپنانے کا موقع ملا۔ بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں پاکستان کے عوام کی گہری دلچسپی اسی سوچ کا مظہر تھی۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ہو یا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی انہیں پاکستان نواز کہا اور سمجھا جاتا ہے، اب ان دونوں جماعتوں کی کامیابی سے پاکستان کے لوگ بھی خوش اور مطمئن ہیں۔ الیکشن کے موقع پر دنیا بھر کی طرح پاکستان سے بھی بہت سے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں نے الیکشن کوریج کے لئے ڈھاکہ کا رخ کیا، ان ہی میں ایک جہاد کشمیر کے سابق مدیر منتظم ، سینیئر تجزیہ نگار اور اب ممتاز سماجی ورکر جناب صغیر قمر بھی تھے جو اس سے پہلے بھی سماجی خدمات کے سلسلے میں ڈھاکہ جا چکے ہیں۔ سینیئر صحافی اور اسلام آباد میں جسارت کے بیورو چیف میاں منیر احمد نے ان کی ڈھاکہ سے واپسی کے فورا بعد چند دوستوں کی ایک نشست کا اہتمام کیا تاکہ ان سے ان کے مشاہدات اور تاثرات جانے جا سکیں۔ ڈاکٹر فاروق عادل، شاہد شمسی، راؤ محمد اختر، عبیداللہ عابد، میاں منیر احمد,محمد وسیم زیدی، لطیف شاہ، نعیم روحانی اور راقم سمیت دیگر تمام شرکاء نے صغیر قمر کے مشاہدے کی تحسین کی اور کہا کہ جو ہم یہاں سوچتے ہیں وہی بنگلہ دیش کے بھائی سوچتے ہیں، یہ بہت خوش آئند پہلو یے۔ جناب صغیر قمر نے کہا کہ پہلے ڈھاکہ کا ویزہ ہی مشکل سے اور ایجنٹ کی وساطت سے لین دین کے بعد ملتا تھا، اب پہلی حیرت تب ہوئی جب ایمبیسی میں پاسپورٹ دیا تو انہوں نے چار دن پاسپورٹ (بمعہ ویزہ) لے جانے کا کہا اور چوتھے دن ہمارے جانے سے پہلے خود فون کردیا کہ پاسپورٹ تیار ہیں، اسی طرح جب ڈھاکہ پہنچے تو وہاں متعدد دوست پھولوں کے ہار لئے منتظر تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے بی این پی اور جماعت اسلامی کے مرکزی دفاتر میں کافی وقت گزارا بلکہ بی این پی کے دفتر میں ہی ان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کی اقتداء میں نماز عصر اور نماز مغرب کئی بار پڑھنے کا اتفاق ہوا، وہ کلین شیو ہیں جب بھی ایسا موقع آیا انہوں نے کھینچ کر اور یہ دلیل دے کر کی آپ پاکستان سے آئے ہیں ، مجھے امامت کے مصلے پر کھڑا کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر دفعہ معزرت کی۔ صغیر قمر نے کہا کہ بنگالی عوام کا سیاسی شعور تو برصغیر کے وقت سے ہمیشہ بلند رہا ہے، شیخ حسینہ کے دور میں محض ایک خاص کلاس جس نے اس دور استبداد میں مالی فائدے اٹھائے، باقی سب لوگ ظلم کا شکار رہے اور اب جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے جماعت اسلامی، بی این پی اور این سی پی کا انتخاب کیا، صغیر قمر کے مطابق ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ بنگلہ دیش کے عوام اب کسی صورت بھارت نواز حسینہ کو قبول کرنے کو تیار نہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ پڑھے لکھے افراد سے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کا ذکر کیا تو وہ پھٹ پڑے اور مجھ سے پوچھا کہ ان گلیوں میں، شہروں میں کہاں ہے معاشی ترقی؟, بے روزگاری ہے، ہمارے نوجوان لڑکے، لڑکیاں عرب ممالک اور دیگر مشرقی ممالک میں سب سے کم اجرت پر صفائی کرنے، گندگی اٹھانے اور اپنے ضمیر کا سودا کرنے پر مجبور ہیں، ہماری دو بندرگاہیں انڈیا کے پاس ہیں، وہ ان سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ صغیر قمر نے بتایا کہ ڈھاکہ میں جنیوا کیمپ جہاں بہاری آبادی دس ضرب بارہ فٹ کے ایک کمرے میں دس بارہ افراد کا پورا کنبہ رہتا ہے، اسی میں باورچی خانہ اور چھوٹی سی دکان بھی کئی لوگوں نے بنا رکھی ہے، انتہائی تنگ اور غلیظ گلیاں ہیں، حسینہ دور میں انہیں یکسر نظر انداز کیا گیا، ان لوگوں کے بقول جماعت اسلامی کے لوگ ان کی مدد کو آتے رہے، اب عالمی دباؤ پر ان کو ووٹ دینے کے لئے کارڈ جاری کیا گیا، پاسپورٹ یا قومی کارڈ اب بھی نہیں مل سکتا، اس کے بعد عوامی لیگ کے لوگ بھی آنے لگے،اس حلقے سے بنگلہ دیش کے سب سے کم عمر رکن اسمبلی عبدالمنان مسعود منتخب ہوئے ہیں جو طالب علم رہنما ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ وہ کوئی ایک پولنگ اسٹیشن بھی نہیں ہارے۔
حسینہ شیخ نے جماعت اسلامی پر پابندی لگادی تھی لیکن بغیر عہدوں کے قائدین اور کارکن سماجی خدمت کے میدان میں متحرک رہے، صغیر قمر نے بتایا کہ ڈھاکہ شہر میں بھی جابجا گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔ ایک علاقہ مجھے اپنے اسلام آباد سے بھی صاف نظر آیا تو میں نے کئی لوگوں سے اس کی وجہ پوچھیں سب کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ ،،بلبل کا کمال ہے،،،۔ نزرلااسلام بلبل جماعت اسلامی کے راہنما اور اب منتخب ممبر اسمبلی ہیں، پہلی دفعہ یہ ہوا کہ جماعت اسلامی کی پوری قیادت منتخب ہوئی ہے۔ صغیر قمر کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی نظریاتی اور ملی جذبے کے حوالے سے ایک سوچ رکھتے ہیں، صرف دونوں کے رویے ایک دوسرے سے کچھ مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو جن نتائج کی توقع تھی نتائج اس کے مطابق ہی ائے، اس کے درجنوں امیدوار پچاس ووٹوں سے لے کر دو ہزار ووٹوں کے معمولی فرق سے ہارے ہیں ان حلقوں کی دوبارہ گنتی کے لئے وہاں کے قانونی طریقہ کار کے مطابق انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ جب ایوان بالا کی تشکیل ہوگی تو ووٹوں کے تناسب سے اس ایوان میں جماعت اسلامی کے اتحاد کو اکثریت ملے گا اور چیئرمین ان کا ہوگا، جماعت اسلامی کی راہ روکنے کے لئے عوامی لیگ کے حامیوں نے بی این پی کے امیدوار وں کو ووٹ دیئے، ایک تاثر وہاں یہ بھی ہے کہ طارق رحمان ایک ڈیل کے نتیجے میں واپس آئے ہیں اسی طرح کی ڈیل کے ذریعے حسینہ شیخ کو واپس لا کر مقدمات سے بری کرایا جائے گا، لیکن اب اس کی عمر چوراسی سال ہے، اس سارے عمل میں بھی وقت لگے گا، اس لئے اس کے اب کسی عملی سیاسی کردار کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صغیر قمر نے کہا کہ وہاں اقلیتیں مکمل مطمئن اور سکون میں ہیں، ان کے بارے میں بھارتی پراپیگنڈہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے، جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک ہندو رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور امیر جماعت اسلامی جناب شفیق الرحمان کے اس بیان نے کہ بنگلہ دیش میں کوئی اقلیت نہیں سب برابر کے شہری ہیں، اقلیتوں کے بارے میں بھارتی پراپیگنڈے کی ہوا نکال دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غربت، بےروزگاری بہت ہے، ڈھاکہ شہر جہاں حسینہ حکومت نے سائیکل رکشا والوں کو بیٹریاں فراہم کی تھیں دیگر شہروں اور دیہی علاقوں میں اب بھی ایک انسان سائیکل رکشہ پر چھ سات افراد کو بٹھا کر کھینچتا ہے، جسے عالمی ادارے انسانیت کی تذلیل قرار دے چکے ہیں لیکن یہ روزگار اپنانا ان کی مجبوری ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حالیہ ریفرنڈم سے بی این پی کا راہ فرار محض وزیر اعظم کے دو دفعہ کی مدت پر ہے اور نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان نے جس طرح حزب اختلاف کے دو بڑے راہنماؤں امیر جماعت اسلامی اور صدر این سی پی سے ان کے گھر جا کر ملاقات کرکے اچھی شروعات کی ہیں، امید ہے کہ وہ آپس میں ہم آہنگی اور سیاسی رواداری کی بنیاد پر ایسے اختلافات پر قابو پالیں گے کیونکہ ان کے ہاں ہماری طرح سیاسی اختلاف اب ذاتی مخاصمت اور ذاتی دشمنی پر مبنی نہیں رہے جیسا کہ ماضی میں حسینہ کے دور میں حکمران جماعت کا رویہ تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے بارے وہاں کی جماعت کیا سوچ رکھتی ہے؟, اس سوال کے جواب میں صغیر قمر نے وہاں کے کسی راہنما کا جچاتلا فقرہ دہرایا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی قربانیاں، خدمت، جزبہ، جرات، بہادری اور اخلاص کسی طور بھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے کم نہیں بلکہ بعض معاملات میں وہ ہم سے آگے ہیں لیکن انہیں زمین پر اترنے کی ضرورت ہے۔
