حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کی دو بندر گاہوں پر بھارت کا قبضہ تھا‘ اور ان بندرگاہوں سے صرف بھارت کے لیے تجارت ہوتی تھی‘ حسینہ واجد نے بہت بھاری مقدار میں کرنسی بھارت منتقل کی ہے‘ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بنگلہ دیش نے پاکستان سے الگ ہوکر بہت ترقی کرلی ہے تو یہ تصور صرف پاکستان میں ہی ہے

بنگلہ دیش کے قومی انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے‘ ممتاز کالم نگار‘ ادیب‘ مصنف‘ شاعر جناب صغیر قمر بھی اسلام آباد سے بنگلہ دیش گئے‘ جب وہ بنگلہ دیش سے واپس آئے تو ان کے ساتھ نیشنل پریس کلب میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی کارکنوں‘ صحافیوں اور کاروباری حضرات بھی شریک ہوئے‘ اس نشست میں انہوں نے نہائت تفصیل کے ساتھ وہاں اپنی مصروفیات‘ اور نہائت آسان پیرائے میں انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا‘ جو کچھ انہوں نے بیان کیا‘ ان کی ساری گفتگو پیرا گراف کی صورت میں جسارت کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے

بنگلہ دیش کے انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے جانے کا فیصلہ
میری والدہ ماجدہ‘ جن کا حال ہی میں گزشتہ سال نومبر میں انتقال ہوا ہے‘ ہجرت کرکے مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر پہنچی تھیں‘ اس وقت ان کی عمر بھی بہت چھوٹی تھی‘ بلکہ ان کے پاؤں جو موجود جوتی بھی پیدل سفر کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی‘ لہذا وہ ایک پاؤں میں چپل پہنے آزاد کشمیر پہنچی تھی اور جوتی کا دوسرا پاؤں اپنی بغل میں انہوں نے دبائے رکھا اور یوں اپنا سفر مکمل کیا‘ میری والدہ نے ہمیں یہ نصیحت کی تھی کہ بیٹا‘ کبھی بھی زندگی بھر پاکستان کا احسان نہ بھولنا‘ ایک خاتون‘ جس کانام جاناں خاتون تھا‘ وہ میری والدہ کی سہلی بن گئی تھی تاہم جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو وہ بھی مشرقی پاکستان چلی گئیں‘ میری والدہ انہیں بہت یاد کرتی تھی‘ آخر وقت تک انہیں یاد کرتی رہیں‘ میری زندگی میں تین مشکل دور آئے ہیں پہلا یہ پروفیسر خورشید احمد کی وفات‘ مولانا مودودی کی وفات‘ اور تیسرا سب سیز فائر کیا گیا‘ جب مجید ڈار نے ہتھیار پھینک دیے‘ بنگلہ دیش میں جولائی سے بہت پہلے‘ جو حالات جولائی میں بن رہے تھے یا بن گئے تھے‘ ہم اپنے ترکی اور دیگر دوستوں میں یہ بحث جاری رہتی تھی بلکہ ترکی کے دوستوں کا خیال تھا کہ اب حسینہ واجد نہیں رہے گی‘ بہر حال یہ سب کچھ ہوگیا اور عبوری حکومت بن گئی اور انتخابات کا بھی اعلان ہوگیا تو بنگلہ دیش جانے کا بھی فیصلہ ہوا‘ ہمیں چار روز میں ویزا مل گیا‘ اور یوں سفر کا آغاز ہوا

ڈھاکہ ائر پورٹ پر آمد
ڈھاکہ پہنچے پر ائر پورٹ پر ہمیں لینے کے لیے سنگرام کے منتظم اعلی جناب نورالامین موجود تھے‘ اور جن جن بھی احباب کو ہمارے آنے کا علم ہوا وہ بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ ہمیں لینے ائر پورٹ پر آئے اور نہائت انتہاء درجے کی خوشی کے جذبات تھے‘ ہمیں پھول پیش کیے گئے‘ خوشی کی انتہاء دیکھی‘ یہ سارا منظر اس قدر خوش کن تھا کہ ہم تو اسے خواب سمجھ رہے تھے‘ مگر یہ سب کچھ حقیقت تھا‘ ہمیں ائر پورٹ پر لینے کے لیے آنے والوں میں دوستوں کے ہر گروپ کی خواہش تھی ہم ان کے ساتھ چلیں‘ بلکہ یوں سمجھ لیں کہ ہم ان کے نرغے میں تھے‘ کسی نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور کسی نے بازو سے پکڑا کہ ہمارے ساتھ چلیں‘ تاہم ان سب سے معذرت کرتے ہوئے ہم اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی ائر پورٹ سے ہوٹل روانہ ہوئے‘ اور اتفاق سے جس ہوٹل میں قیام ہوا وہ ہوٹل بھی نامزد وزیر اعظم طارق رحمن ضیاء کی ملکیت ہے‘ بس اسی ہوٹل میں رہے اور شہر میں جگہ جگہ بستی بستی گھومتے رہے‘ انتخابی حلقوں میں گئے‘ شہر میں گھومے‘ گلیاں‘ بازار دیکھے‘ روزنامہ سنگرام کے منتظم اعلی کے جذبات تو بہت ہی حساس تھے‘ وہ کہہ رہے تھے کہ 1971 کے بعد آج پہلی بار موقع ملا کہ کسی پاکستانی سے ملاقات ہوئی ہے‘ وہ بہت خوش تھے‘ ہاتھ ملایا اور گلے ملے‘ زور دار معانقہ کیا‘ وہاں رواج ہے کہ پہلے گلے ملتے ہیں اور بعد میں ہاتھ ملاتے ہیں‘ جب کہ ہم پہلے ہاتھ ملاتے ہیں تو پھر گلے ملتے ہیں‘ لہذا ہم نے ان کی ثقافت اپنائی اور انہوں نے ہماری ثقافت اپنائی‘ اس طرح کبھی وہ ہمارے ساتھ ہاتھ ملاتے پھر گلے ملتے‘ روزنامہ سنگرام کے منتظم اعلی سہلٹ میں رہے ہیں‘ سنگرام جناب خرم جاہ مراد نے شروع کیا تھا‘ اور اس کے لیے مولانا مودودی رح سے درخواست کی تھی کہ اخبار جاری ہونا چاہئے‘ ہمیں ایئر پورٹ پر لینے کے لیے آنے والوں میں خرم جاہ مراد کے بھانجے رفیع سمسان بھی موجود تھے‘ ہم نے روزنامہ سنگرام کے مرکزی دفتر کا بھی دورہ کیا‘ اسٹاف سے ملاقات ہوئی اور ان کے شعبہ جات دیکھے‘
جنیوا کیمپ
جنیواکیمپ ایک اصطلاح نہیں‘ نہ ہی یہ کسی جگہ کا نام ہے بلکہ یہ وہ کیمپ ہیں جہاں بہار کے مہاجرین کو رکھا گیا ہے‘ یہ انہی کیمپوں تک محدود ہیں اور اس جگہ ہی اندر ہی رہتے ہیں‘ اندر ہی کسی نے پان دکان بنائی ہوئی ہے اور کسی نے چائے کا ڈھابہ بناہوا ہے‘ انہیں دس فٹ لمبائی چوڑائی والے کمروں میں ایک خاندان کو جگہ دی گئی ہے جس میں یہ زندگی بسر کرتے ہیں‘ بہت عرصہ تک ان کی کوئی شناختی دستاویزات کے ذریعے شناخت نہیں تھی اب انہیں بیرونی دباؤ پر ووٹ کا حق بھی دیا گیا ہے اور شناختی کارڈ بنا کر دیے گئے ہیں ووٹ کا حق مل جانے کے بعد اب ان کی کچھ سماجی عزت ہے اور اہمیت ہے‘ بنگلہ دیشن نے نادرا کا نظام بھی پاکستان سے ہی لیا ہے‘ اور ان کے شہریوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈ کا رنگ اور ڈیزائن بھی پاکستان کے شناختی کارڈ جیسا ہی ہے‘ کیمپوں میں موجود بہاری مہاجرین یہ سب جماعت اسلامی سے بہت خوش تھے‘ اور انہیں یقین تھا کہ جماعت اسلامی انتخابات جیت کر انہیں پاکستان بھیج دے گی اور یوں انہیں کیمپوں کی اذیت ناک زندگی سے نجات مل جائے گی‘ یہ سب مولانا شفیق الرحمن کی کامیابی کے لیے بے تاب تھے
بنگلہ دیش کے انتخابات
بنگلہ دیش کے انتخابات میں جو نتائج سامنے آئے ہیں کسی کے لیے یہ حیران کن ہیں اور کسی کے لیے غیر متوقع‘ اس کی کئی وجوہات ہیں‘ اس کی پہلی وجہ تو شاید یہ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں بیٹھ کر وہاں کے حالات کا درست تجزیہ نہیں ہوسکتا‘ وہاں کا سیاسی ماحول مختلف ہے‘ جماعت اسلمی نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے‘ البتہ عوامی لیگ کے اثرات ہیں‘ انتخابی مہم میں بی این پی‘ کا سیاسی رویہ عوامی لیگ اور حسینہ واجد کے لیے نرم رہا‘ بلکہ یہاں تک بھی سوچا جارہا ہے کہ بی این پی حسینہ واجد کو این آر او دے دے گی‘ اس کی کیا شکل ہوگی‘ اور کن سیاسی راستوں سے گزر کر یہ کام ہوگا‘ بہر حال ابھی دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘ انتخابات میں جماعت اسلامی کو بہت ہی ذیادہ عوامی پذیرائی ملی ہے اس نے ماضی کی نسبت اس بات بہت نمایاں کامیا بی حاصل کی‘ اسے پچاس ایسے حلقوں میں شکست ہوئی اس کا مارجن بھی پچاس سے لے کر تین ہزار ووٹ کے فرق کے ساتھ تھا‘ بہر حال ایسے تمام حلقوں میں جماعت اسلامی دوبارہ گنتی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر چکی ہے‘ بنگلہ دیش میں انتخابی عذر داری الیکشن ٹربیونل کی بجائے ہائی کورٹ میں دائر کی جاتی ہے‘ نوجوانوں کی پارٹی‘ این سی پی جس کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ ڈھاکہ اور ملک بھر میں کلین سویپ کرجائے گی اسے چھ نشستیں ملی ہیں وہ بھی جماعت اسلامی کی بدولت ملی ہیں‘ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا کارکن بہت کمٹڈ ہے‘ اور جرائت مند ہے‘ زیرک ہے‘ موبائل فون کی بجائے کتاب سے اس کا تعلق بہت مضبوط ہے‘ وہ موبائل فون کو ترقی نہیں سمجھتے‘ کتاب ان کے نذدیک ترقی کی ضامن ہیں‘ اس اسے ان کا رشتہ بہت مضبوط ہے جماعت اسلامی نے بہت اعلی میرٹ پر فیصلے کرکے ٹکٹ تقسیم کیے‘ زبیر الدین اس کے انتخابی سیل کے سربراہ تھے‘ ان کے فیصلوں کی مرکزی شوری نے بھی تائید کی ہے‘ جماعت اسلامی نے شہداء کے بچوں کو ٹکٹ دیے‘ جو گرفتار کارکن تھے انہیں ٹکٹ دیے‘ یہ سب لوگ جیت گئے‘ گرفتار کارکن اب رہا بھی ہوچکے ہیں‘ پوری انتخابی مہم اور بنگلہ دیش میں قیام کے دوران ہمیں یہ کہاگیا کہ یہاں احتیاط کریں اور اپنا تعارف کم کرائیں اور خیال سے رہیں کیونکہ یہاں عوامی لیگ کے کارکن غنڈے بہت متحرک ہیں‘ تاہم ہمیں ایسی کوئی پریشانی نہیں ہوئی‘ بلکہ ایک دو بار ایسا ہوا کہ جیسے محسوس ہوا کہ کوئی ٹولی ہمارا پیچھا کر رہی ہے تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہتو ہمارے مہربان چھاترو شبر کے نوجوان تھے تو ہمیں اپنے حفاظتی حصار میں لیے ہوئے تھے‘ ہم نے جہاں بھی بتایا کہ پاکستان سے آئے ہیں تو خوب آؤ بھگت ہوئی‘ ہم جو پیسہ ساتھ لے کر گئے تھے‘ ہم نے ان پیسوں سے وہاں جتنے دن بھی قیام کیا‘ اپنے پیسوں سے کھانا نہیں کھایا‘ ہر روز کہیں نہ کہیں ہماری دعوت رہتی تھی‘ ہماری وہاں ڈھاکا یونیورسٹی کی جامع مسجد کے امام سے ملاقات ہوئی‘ ہادی عثمان کے دوست نظر الاسلام کے ساتھ وہاں گئے تھے‘ امام مسجدکی عمر کوئی اکیانوے سال ہوگی‘ بہت ہی متحرک لگ رہے تھے‘ ان سے صحت کا راز پوچھا تو کہنے لگے کہ پاکستان کا خوارک کھایا ہوا ہے‘ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن عبدالمالک ان کی آنکھوں کے سامنے شہید کیے گئے تھے‘بنگلہ دیش میں شہر ہوں یا دیہات‘ جہا ں بھی ادھیڑ عمر لے لوگ ملے‘ وہ اردو جانتے تھے‘ بولتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے‘ باقی ہر جگہ بنگلہ بولی جاتی ہے‘
بنگلہ دیش کے دیہات
بنگلہ دیش کے دہہاتوں کی بہت بری حالت ہے‘ نرائن گنج‘ حمائت پورہ سمیت دیگر دیہاتوں میں جانے کا اتفاق بھی ہوا‘ میرے ساتھ شاہ جلال تھے جنہوں نے مکمل راہنمائی دی‘ دیہاتوں میں گھروں کی چھتیں لکڑی کی ہیں اور دیواریں بھی‘ چھتوں پر ٹین کی چادریں بھی ہیں‘ بہت ہی برا حال ہے‘ بنگلہ دیش میں آبادی کے لیے اوسطاً فی خاندان تیرہ افراد پر مشتمل گھرانہ تصور کیا جاتا ہے‘ ہم جہاں بھی گئے بھلو باشی‘ اس کا مطلب ہے ہم آپ سے پیار کرتے ہیں‘ کا نعرہ اور خوشی کے اظہار کے جذبات دیکھے‘ ہم نے ایک بات بہت محسوس کی کہ عوامی لیگ کے غنڈوں کی بہت دھشت تھی‘ ہم شہروں یا یا جہاں بھی گئے اور جس بھی گھر گئے‘ گھنٹی بجائی‘ سلام دعا ہوئی تو انہوں نے پہچان لیا کہ پاکستانی ہیں لہذا ہمیں گھر کے اندر لے گئے اور پھر باہر تاک جھانک کرتے رہے کہ کہیں عوامی لیگ کے غنڈے دیکھ تو نہیں رہے
سماجی زندگی
ڈھاکا شہر دنیا کے گندے شہروں میں شمار ہوتا ہے‘ راولپنڈی کا محلہ موہن پورہ‘ یہ ڈھاکا شہرکی فوٹو کاپی ہے‘ ایسے ہی گھر اور ایسی ہی گلیاں اور سڑکیں‘ لوگ سائکل رکشہ چلاتے ہیں یہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے‘اگر سڑک پر پانچ کاریں چل رہی ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ پچاس سائکل رکشہ چل رہے ہوتے ہیں‘ اب انہیں سائکل کے ساتھ موٹر لگا کر دی گئی ہیں تاہم ابھی بھی وہاں پیڈل والے سائکل رکشہ چل رہے ہیں‘ پینے کا پانی بہت بڑا ایشو ہے‘ یہ سماجی اور معاشی مسلۂ بھی ہے‘ راولپنڈی تو ڈھاکہ سے کئی گنا صاف شہر ہے‘ وہاں ہم نے یہ یہ کہیں نہیں دیکھا کہ کوئی مجلس ہورہی ہے تو لوگ مجلس میں اپنے موبائل فون میں مصروف ہوں‘ یہ بھی نہیں دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور نماز مکمل کرنے کے فوری بعد موبائل فون ہاتھ میں پکڑ کر دیکھ رہے ہوں‘ وہا ں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ترقی موبائل فون میں نہیں بلکہ کتاب میں ہے
معیشت
بنگہ دیش کی معیشت ٹیکسٹائل کی صنعت کی حد تک بہت اچھی ہے‘ بیرون ملک کاروبار کے لیے ٹکا نہیں بلکہ ڈالرز میں کاروبار ہوتا ہے تاہم اس وجہ سے معیشت کی بہتری کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچے حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کی دو بندر گاہوں پر بھارت کا قبضہ تھا‘ اور ان بندرگاہوں سے صرف بھارت کے لیے تجارت ہوتی تھی‘ حسینہ واجد نے وہاں کی فوج کی مدد سے بہت بھاری مقدار میں کرنسی بھارت منتقل کی ہے‘ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بنگلہ دیش نے پاکستان سے الگ ہوکر بہت ترقی کرلی ہے تو یہ تصور صرف پاکستان میں ہی ہے‘ اور دوسرا تصور کہ بنگالی خود الگ ہوئے یہ بھی ایک غلط تصور ہے‘ وہاں یہ سوچ ہے کہ ہم پاکستان سے خود الگ نہیں ہوئے‘ اور جہاں تک ترقی کی بات ہے‘ اگر ترقی کی ہوتی تو عام آدمی کی حالت اس قدر ابتر نہ ہوتی‘ آج بھی بنگلہ دیش کا مزدور‘ بیرون دنیا میں سب سے سستا ہے‘ اور ملک میں جسم فروشی کا بھی دھندہ موجود ہے‘
پاکستان سے محبت
وہاں ہمیں یتیم بچوں کے ایک سکول میں جانے کا اتفاق ہوا‘ ان بچوں کے ساتھ ایک دن گزارا‘ جب وہاں پہنچے تو بچوں نے خوشی سے نعرے لگائے‘ پاکستان زندہ باد‘ بنگلہ دیش زندہ باد‘ نور الاسلام بلبل ہمارے ساتھ تھے‘ وہ بھی پارلیمنٹ کے رکن نتخب ہوئے ہیں‘ اسلامی چھاترو شبر کے ناظم اعلی رہے ہیں‘ ان دنوں وہ جماعت اسلامی ڈھاکا کے امیر ہیں‘ یہ کہتے ہیں کہ ان کی بس ایک ہی خواہش ہے کسی طرح پاکستان جاؤں اور مولانا مودودی کی قبر پر حاضری دوں‘ وہ جماعت اسلامی پاکستان کو اپنی ماں سمجھتے ہیں اور ماں جیسا ہی درجہ دیتے ہیں وہاں کے لوگ پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں
بنگلہ دیش کے اخبارات
سنگرام ایک پرانا اخبار ہے اور آج بھی اس کی سرکولیشن پچاس ہزار سے زائد ہے کسی زمانے میں یہ اس کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ تھی‘ اور اسی طرح دیگر اخبارات بھی انگریزی اور بنگلہ زبان میں ایک بڑی تعداد میں شائع ہوتے ہیں‘ اخبارات پڑھنے کا وہاں رواج ہے‘ کتاب پڑھنے کا بھی وہاں رواج ہے‘ ہم نے پارکوں میں‘ ٹی سٹالز پر‘ ڈھابوں پر دکانوں پر دفاتر میں اور گھروں میں اخبارات دیکھے ہیں جو پڑھنے کے لیے لوگ خریدتے ہیں‘ ہمیں وہاں پریس کلب میں جانے کا اتفاق ہوا‘ پریس کلب بہت ہی چھوٹا سا ہے‘ ایسا نہیں جیسا یہ اسلام آباد کا پریس کلب ہے
عوامی لیگ کے کارکنوں سے ملاقات
ایک جگہ عوامی لیگ کے کارکنو ں سے ملاقات ہوگئی‘ انہیں پتا تھا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں لیکن وہ ہمیں تنگ نظری سے نہیں ملے‘ البتہ ان کا دل پاکستان کے لیے بہت تنگ تھا‘ ان کاموقف یہ تھا کہ وہ نہ انتخابات کو مانتے ہیں اور نہ پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں‘ تاہم انہوں نے ہمیں کہا کہ وہ ہمیں گنے کا رس پلاتے ہیں لیکن انہوں نے ہمارے لیے ناریل لائے اور اس کا جوس پلایا
لاء اینڈ آرڈر
بنگلہ دیش میں بھتہ خوری عام ہے‘ بلکہ بی این پی کے بہت سے لوگوں پر اس کا الزام ہے‘ طارق رحمن پر بھی ایسے ہی الزامات ہیں اب دیکھتے ہیں کہ حکومت کس طرح ملک کا کاروبار زندگی چلاتی ہے