باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا احساس جنم لیتا ہے—امن، ترتیب اور مواقع کا احساس۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لاکھوں پاکستانی نہ صرف روزگار کے بہتر مواقع سے مستفید ہو رہے ہیں بلکہ اپنی محنت، دیانت اور صلاحیت کے ذریعے ایک باوقار زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ یہاں صرف ایک یا دو شخصیات کی موجودگی نہیں، بلکہ بیس لاکھ کے قریب پاکستانیوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے، جو اپنے وطن سے محبت بھی رکھتے ہیں اور میزبان ملک کے لیے احترام بھی۔یہ حیرانگی کی بات ہے کہ ہم سعودی عرب کا تیل کاٹ دیں گے۔تو ایران کس کی زبان بول رہا ہے کس کو فائدہ دے رہا ہے۔جس طرح ہم نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے اس طرح ہمیں خلیج کے دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی معاہدہ کرنا چاہیے کیونکہ ایران کے ارادے صحیح نہیں ہے
اکثر جب سیاست کی تیز لہریں چلتی ہیں تو باتیں حدود سے نکل جاتی ہیں۔ الفاظ کا انتخاب سخت ہو جاتا ہے اور بیانیہ ایسا بن جاتا ہے جو تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ وہ پاکستان کے چہرے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے رویے، ان کی گفتگو اور ان کی سوچ ہی اصل میں پاکستان کی پہچان بنتی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے جس فراخ دلی کے ساتھ پاکستانیوں کو مواقع فراہم کیے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں کے حکمرانوں نے نہ صرف روزگار کے دروازے کھولے بلکہ ایک ایسا ماحول بھی فراہم کیا جہاں ہر محنتی شخص آگے بڑھ سکتا ہے۔ پاکستانیوں نے بھی اس اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی۔ انہوں نے کاروبار قائم کیے، پلازے بنائے، سرمایہ کاری کی اور اس معیشت کا حصہ بنے جو آج دنیا میں ایک مضبوط مقام رکھتی ہے۔
یہاں صرف بڑے سیاستدان یا سرمایہ دار ہی نہیں، بلکہ عام مزدور، ڈرائیور، انجینئر، ڈاکٹر اور دکاندار بھی اپنی جگہ ایک مکمل کہانی رکھتے ہیں۔ وہ کہانیاں جن میں قربانیاں ہیں، خواب ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی جستجو ہے۔ یہ لوگ اپنے وطن کو نہیں بھولے، بلکہ ہر ماہ بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
اس پس منظر میں جب کوئی ایسا بیان سامنے آتا ہے جو میزبان ملک کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرے تو اس کا اثر صرف الفاظ تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ان لاکھوں لوگوں کی محنت پر بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے جو یہاں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اس اختلاف کو اس انداز میں پیش کرنا کہ قومی وقار متاثر ہو، دانشمندی نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے تعلقات صرف معاشی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان تعلقات میں گرمجوشی اور بھائی چارہ شامل ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے بلکہ ان کروڑوں لوگوں کے لیے بھی جو اس رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔
عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو اس وقت مسلم دنیا کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات بیانات ایسے دیے جاتے ہیں جو کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔ ایران کی جانب سے بعض سخت بیانات، تیل کی پائپ لائنز کو نشانہ بنانے کی باتیں یا دیگر ممالک کے خلاف دھمکیاں—یہ سب ایسے عوامل ہیں جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے اس سارے ماحول میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان تنازعات کم ہوں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ یہی وہ کردار ہے جس نے پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی سطح پر پاکستان کا ذکر ہوتا ہے تو اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
حال ہی میں ایک عوامی مقام پر، جہاں مختلف ممالک کے لوگ موجود تھے، وہاں بھی پاکستان کے مثبت کردار کا ذکر سننے کو ملا۔ یہ وہ لمحہ تھا جو ہر پاکستانی کے لیے فخر کا باعث ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ عزت کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہوتی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات وقتی ہوتے ہیں۔ حکومتیں آتی ہیں، جاتی ہیں، پالیسیاں بدلتی ہیں، مگر قوم کی عزت اور وقار مستقل ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بیانیے کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں، اپنے الفاظ کا چناؤ بہتر رکھیں اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو ہم نہ صرف اپنے ملک کی عزت میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنے تعلقات کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ اور بھی اہم ہے کہ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔ کیونکہ وہ جہاں بھی ہوتے ہیں، وہیں پاکستان کا عکس بھی ہوتا ہے۔ ان کی کامیابیاں پاکستان کی کامیابیاں ہوتی ہیں اور ان کی غلطیاں بھی پاکستان کے نام سے جڑ جاتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم جذبات سے ہٹ کر عقل و دانش کا راستہ اختیار کریں۔ اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، مگر اس انداز میں کہ ہماری قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔ ہمیں اپنے الفاظ کو اس طرح استعمال کرنا ہوگا کہ وہ پل بنائیں، دیواریں نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ یہ کسی ایک جماعت، ایک لیڈر یا ایک طبقے کی ملکیت نہیں ہوتی۔ جب پاکستان کی عزت بڑھتی ہے تو وہ ہر پاکستانی کی عزت ہوتی ہے—چاہے وہ ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک۔ اسی طرح ووٹ ہر شخص کا اپنا حق ہے، اس کا فیصلہ وہ خود کرے، مگر قومی وقار کو ہمیشہ مقدم رکھے۔
دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلم دنیا کو اتحاد نصیب فرمائے، ہمارے دلوں میں وسعت پیدا کرے اور ہمیں وہ بصیرت عطا کرے جس سے ہم اپنے اختلافات کو سنبھال سکیں اور اپنی مشترکہ طاقت کو پہچان سکیں۔ کیونکہ جب ہم متحد ہوں گے تو نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری امت کے لیے ایک مضبوط مثال بن سکیں گے۔
