تحریر: سردار آصف
کسی قوم کی اصل پہچان صرف اس کے نام، جغرافیے یا سرحدوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی حقیقی شناخت اس کی زبان، ثقافت، تاریخ، روایات اور تہذیبی اقدار سے ہوتی ہے۔ زبان کسی قوم کے ماضی کی محافظ، حال کی ترجمان اور مستقبل کی امین ہوتی ہے۔ اس میں صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ صدیوں کے تجربات، بزرگوں کی دانش، ماؤں کی لوریاں، لوک داستانیں، محاورے اور اجتماعی یادداشت محفوظ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی باشعور اقوام اپنی مادری زبان اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں۔
گوجری زبان بھی ایک ایسے ہی قیمتی تہذیبی ورثے کی حامل زبان ہے۔ یہ ایک قدیم زبان ہے جس کے دامن میں ایک طویل معاشرتی اور ثقافتی تاریخ محفوظ ہے۔ اس زبان کے اندر صدیوں کی اجتماعی زندگی، بزرگوں کے تجربات، لوک داستانیں، محاورے، روایات اور ایک پوری تہذیب کی یادیں موجود ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم خود اپنی اس زبان اور اس کے عظیم ثقافتی ورثے کو بھولتے چلے گئے۔ ہماری نئی نسل اپنی جڑوں سے دور ہوتی گئی اور ہمیں یہ احساس بھی نہ رہا کہ ہمارے پاس اپنی مادری زبان کی صورت میں کتنا بڑا تہذیبی خزانہ موجود ہے۔
ایسے میں انجینئر افتخار چودھری نے ہمیں ہماری بھولی ہوئی زبان اور شناخت کی طرف دوبارہ متوجہ کیا۔ انہوں نے گوجری زبان کے معاملے کو صرف جذباتی مسئلہ نہیں بنایا بلکہ اسے شناخت، ثقافت اور آئینی و پارلیمانی حق کے طور پر اجاگر کیا۔ یہ انہی کی مسلسل آواز اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج گوجری زبان کے مقام اور مستقبل پر سنجیدہ گفتگو ہورہی ہے۔
اس جدوجہد میں بابر سلیم سواتی کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔ بابر سلیم سواتی نے گوجری زبان اور گوجر برادری کے ثقافتی ورثے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے گوجری کو خیبر پختونخوا کی چھٹی زبان قرار دینے کی بات کی۔ انہوں نے اس زبان کو محض ایک بول چال کی زبان نہیں سمجھا بلکہ اس کے پیچھے موجود عظیم ثقافت اور قدامت کو تسلیم کیا۔ ایسے الفاظ یقیناً ان لوگوں کے لیے حوصلے کا باعث ہیں جو اپنی مادری زبان کے تحفظ کے لیے عرصے سے آواز اٹھاتے آئے ہیں۔
ہمیں یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ گوجری کے بارے میں یہ احساس شاید ہم میں خود بھی کمزور پڑچکا تھا۔ ہم نے اپنی زبان کو گھروں کی محدود گفتگو تک رکھا، اس کے ادب کو وہ توجہ نہ دی جس کا وہ مستحق تھا اور اپنی نئی نسل کو یہ بتانے میں بھی کوتاہی کی کہ ان کے بزرگوں کی زبان اپنے اندر ایک وسیع تاریخی اور ثقافتی ورثہ رکھتی ہے۔
یہاں انجینئر افتخار چودھری کے ساتھ اپوزیشن لیڈر اور میاں ولی الرحمن کے فرزند ارجمن کی کاوشوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا اور گوجری زبان کے حوالے سے اس اجتماعی احساس کو دوبارہ زندہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک بھولی ہوئی آواز دوبارہ سنائی دینے لگی ہے اور ایک ایسا ورثہ جسے ہم پسِ پشت ڈال چکے تھے، دوبارہ ہماری اجتماعی گفتگو کا حصہ بن رہا ہے۔
گوجری کو سرکاری سطح پر شناخت دلانے کی جدوجہد کسی دوسری زبان کے خلاف نہیں۔ یہ اپنی زبان کے جائز مقام کے لیے ایک مثبت مطالبہ ہے۔ پاکستان کی خوبصورتی ہی اس کے لسانی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔ اردو ہماری قومی رابطے کی زبان ہے، انگریزی تعلیم اور عالمی روابط میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، ہندکو، سرائیکی، گوجری اور دیگر علاقائی زبانیں ہماری اجتماعی شناخت کو مکمل کرتی ہیں۔ کسی ایک زبان کو عزت دینے سے دوسری زبان کی عزت کم نہیں ہوتی۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی قوم کے اپنے لوگ اپنی مادری زبان کو کمتر سمجھنے لگیں۔ جب والدین بچوں سے اپنی زبان میں بات کرنے میں جھجک محسوس کریں، جب نوجوان اپنے بزرگوں کے محاورے سمجھنے سے قاصر ہوجائیں اور جب گھر سے مادری زبان آہستہ آہستہ نکل جائے تو زبان کے زوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔
آج دنیا میں بہت سی مقامی زبانیں اسی خطرے سے دوچار ہیں۔ جدید تعلیم، شہری زندگی، عالمی میڈیا اور روزگار کے تقاضے نئی نسل کو دوسری زبانوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ دوسری زبانیں سیکھنا یقیناً ضروری ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ترقی کے لیے اپنی مادری زبان قربان کردی جائے۔ انسان بیک وقت کئی زبانیں سیکھ سکتا ہے اور اپنی مادری زبان سے بھی محبت رکھ سکتا ہے۔
اپنی مادری زبان پر فخر کرنا دنیا سے کٹ جانا نہیں بلکہ اپنی جڑوں سے مضبوط ہوکر دنیا کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ یہی سوچ ہمیں گوجری کے بارے میں اپنانا ہوگی۔
سرکاری شناخت کی اہمیت بھی اسی لیے ہے۔ گھروں میں زبان بولی جائے تو وہ زندہ رہتی ہے، لیکن جب اسے تعلیم، تحقیق، ادب، میڈیا، سرکاری اداروں اور پارلیمانی سطح پر جگہ ملتی ہے تو اس کے فروغ کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اگر گوجری کو سرکاری سطح پر مناسب مقام ملتا ہے تو اس زبان کے لیے علمی اور تحقیقی کام کو فروغ مل سکتا ہے۔ گوجری لغت مرتب کی جاسکتی ہے، اس زبان کے ادب کو محفوظ کیا جاسکتا ہے، جامعات میں تحقیق ہوسکتی ہے، بچوں کے لیے تعلیمی مواد تیار ہوسکتا ہے اور نئی نسل کو اپنی زبان پڑھنے اور لکھنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
ہمیں گوجری کو صرف ماضی کی نشانی نہیں بنانا بلکہ مستقبل کی زبان بھی بنانا ہے۔ آج کا نوجوان موبائل فون، سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ گوجری نئی نسل تک پہنچے تو اسے ڈیجیٹل دنیا میں بھی بھرپور جگہ دینا ہوگی۔
گوجری میں یوٹیوب پروگرام بن سکتے ہیں، پوڈکاسٹ شروع کیے جاسکتے ہیں، گوجری کتابوں کو ڈیجیٹل شکل دی جاسکتی ہے، بزرگوں کی گفتگو ریکارڈ کی جاسکتی ہے، لوک داستانوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور گوجری کی آن لائن لغت تیار کی جاسکتی ہے۔ نوجوانوں کو گوجری میں لکھنے، بولنے اور تخلیق کرنے کے مواقع دیے جائیں تو زبان صرف زندہ ہی نہیں رہے گی بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ آگے بھی بڑھے گی۔
گوجر ثقافت کا تحفظ بھی اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ ثقافت صرف روایتی لباس یا چند تقریبات کا نام نہیں۔ ثقافت میں زبان، رہن سہن، سماجی اقدار، لوک ادب، موسیقی، داستانیں، رسم و رواج، بزرگوں کی دانش اور اجتماعی زندگی کے طریقے شامل ہوتے ہیں۔
ہمارے بزرگوں کے پاس بے شمار ایسی داستانیں، کہاوتیں اور روایات موجود ہیں جو شاید کسی کتاب میں درج نہیں۔ اگر ہم نے ان کی باتیں آج محفوظ نہ کیں تو ممکن ہے کل یہ خزانہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کی گفتگو سنیں، اسے ریکارڈ کریں اور اسے تحریری شکل میں نئی نسل تک پہنچائیں۔
گوجری زبان کے تحفظ کے لیے اہلِ قلم کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ ادیب، شاعر اور دانشور زبان کو صرف محفوظ نہیں کرتے بلکہ اسے نئی زندگی دیتے ہیں۔ ہمیں گوجری میں کتابیں لکھنے، تحقیق کرنے، ترجمہ کرنے اور جدید موضوعات پر تخلیقی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اب گوجری زبان کے بارے میں سیاسی اور سماجی سطح پر آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بابر سلیم سواتی جیسے ذمہ دار سیاسی رہنما جب اس زبان کی قدامت اور اس سے وابستہ ثقافت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں تو اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ گوجری کے معاملے کو محض ایک برادری کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے صوبے کے ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انجینئر افتخار چودھری کی جدوجہد اسی لیے قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے ہمیں ہماری بھولی ہوئی زبان یاد دلائی۔ بعض اوقات قوموں کو اپنے خزانے کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب کوئی انہیں اس خزانے کی طرف دوبارہ متوجہ کرے۔ گوجری کے معاملے میں یہ یاد دہانی ایک اہم خدمت ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ آواز صرف چند افراد تک محدود نہ رہے۔ گوجری زبان سے محبت رکھنے والے ادیب، شاعر، دانشور، اساتذہ، سماجی کارکن اور نوجوان اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ حکومت بھی اس حوالے سے عملی اقدامات کرے اور گوجری زبان کو علمی، ادبی، تعلیمی اور پارلیمانی سطح پر مناسب مقام دینے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کرے۔
ہمیں شخصیتوں سے آگے بڑھ کر ادارے بنانے ہوں گے۔ گوجری زبان کے لیے تحقیق کے مراکز قائم ہونے چاہئیں، مستند لغت تیار ہونی چاہیے، گوجری ادب کو محفوظ کیا جانا چاہیے، لوک داستانوں کو مرتب کیا جانا چاہیے اور نئی نسل کے لیے ایسا تعلیمی مواد تیار ہونا چاہیے جو اسے اپنی زبان اور ثقافت سے جوڑ سکے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ اپنی مادری زبان بولنا کسی احساسِ کمتری کی علامت ہے۔ اپنی زبان سے محبت دراصل اپنی شناخت سے وفاداری ہے۔
گوجری کسی ایک شخص، خاندان، تنظیم یا علاقے کی ملکیت نہیں۔ یہ ایک مشترکہ تہذیبی امانت ہے۔ بابر سلیم سواتی کی طرف سے اس زبان کی اہمیت کا اعتراف، اپوزیشن لیڈر کی آواز، میاں ولی الرحمن کے فرزند ارجمن کی توجہ اور سب سے بڑھ کر انجینئر افتخار چودھری کی مسلسل جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ گوجری کو دوبارہ اس کا مقام دلانے کے لیے ایک اجتماعی احساس جنم لے رہا ہے۔
آج ہم جو فیصلہ کریں گے، کل ہماری نسلیں اسی کا نتیجہ دیکھیں گی۔ اگر ہم نے آج گوجری کے الفاظ، محاورے، داستانیں، لوک ادب اور روایات محفوظ کرلیں تو آنے والی نسلیں اپنے ماضی سے جڑی رہیں گی۔ اگر ہم نے غفلت کی تو ممکن ہے کل ہمارے بچے صرف اتنا جانیں کہ کبھی ان کے بزرگ ایک زبان بولتے تھے جس کا نام گوجری تھا۔
ہمیں ایسا مستقبل نہیں چاہیے۔
ہم چاہتے ہیں کہ گوجری گھر میں بھی بولی جائے، کتاب میں بھی لکھی جائے، تعلیم اور تحقیق میں بھی استعمال ہو، میڈیا میں بھی سنائی دے، اسمبلی میں بھی اس کا ذکر ہو اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنی موجودگی قائم کرے۔
انجینئر افتخار چودھری صاحب! گوجری زبان و ثقافت کے تحفظ، فروغ اور سرکاری شناخت کے لیے آپ کی جدوجہد کو سلام۔ آپ نے ہمیں ایک ایسی زبان یاد دلائی جسے ہم خود بھولتے جارہے تھے۔ آپ کی آواز نے ہمیں ہماری تہذیبی جڑوں کی طرف دوبارہ متوجہ کیا ہے۔
بابر سلیم سواتی جیسے لوگوں کا اعتراف، سیاسی قیادت کی توجہ اور اہلِ قلم کی آواز اس جدوجہد کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس آواز کو ایک تحریک، اس تحریک کو ایک ادارہ اور اس ادارے کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط تہذیبی ورثہ بنایا جائے۔
گوجری ہمارے بزرگوں کی امانت ہے۔
گوجری ہماری شناخت ہے۔
گوجری ہماری ثقافت کی ایک بڑی علامت ہے۔
اور اسے زندہ رکھنا صرف گوجر برادری نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
گوجری زبان زندہ رہے،
گوجری ادب پھلتا پھولتا رہے،
گوجر ثقافت محفوظ رہے،
اور ہماری نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتی رہے
