“کوٹا سسٹم اور میرٹ کا قتل: کیا ہم اپنی ہی قوم کے مجرم ہیں؟”

“کوٹا سسٹم اور میرٹ کا قتل: کیا ہم اپنی ہی قوم کے مجرم ہیں؟”

تحقیق و تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

کوٹا سسٹم کا تاریخی پس منظر، قانون، 60/40 کا فارمولا اور حقائق

کوٹا سسٹم کیا ہے؟

کوٹا سسٹم کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم (بشمول میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں) میں نشستیں صرف کھلے میرٹ (Open Merit) کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتیں، بلکہ ملک یا صوبے کے مختلف علاقوں کی آبادی کی تناسب سے مخصوص (Reserve) کر دی جاتی ہیں۔

یہ کیوں اور کیسے ہے؟

مقصد: قیامِ پاکستان کے بعد دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات، اسکولز اور انفراسٹرکچر شدید ناقص تھے، جبکہ شہروں (خصوصاً کراچی) میں پڑھے لکھے لوگ زیادہ تھے۔ مقصد یہ تھا کہ پسماندہ دیہی آبادی کو بھی سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں برابری کی نمائندگی ملے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔

کیسے عمل میں آتا ہے؟

امیدوار کے پاس موجود ڈومیسائل (Domicile) اور PRC کی بنیاد پر یہ طے ہوتا ہے کہ وہ “شہری کوٹا” سے اپلائی کرے گا یا “دیہی کوٹا” سے۔

کوٹا کون لایا، کہاں لایا اور کب سے ہے؟ (تاریخی پس منظر)

پہلا کوٹا (1948ء): پاکستان میں سب سے پہلے مرکزی سطح پر کوٹا سسٹم ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت ستمبر 1948ء میں لائی تھی۔ اس وقت مقصد صوبائی نابرابری ختم کرنا تھا۔

یہ کب تک ہے؟

اصل مدت: 1973ء کے آئین میں اس عارضی نظام کو صرف 10 سال کی مدت (1983ء تک) کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ اس دوران پسماندہ علاقوں کو ترقی دے کر میرٹ کو یکساں کر دیا جائے۔

توسیع:

جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسے 20 سال (1993ء تک) بڑھایا گیا۔

بعد میں نواز شریف کے دور میں 16ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسے 40 سال (2013ء تک) کیا گیا۔

بعد ازاں کابینہ اور پارلیمنٹ سے اس میں مزید توسیع کی منظوری دی جاتی رہی اور یہ 2033ء تک کے لیے قانونی تحفظ حاصل کر چکا ہے۔

آئینی شقیں اور آرٹیکل 27

پاکستان کے 1973ء کے آئین کا آرٹیکل 27 (Article 27) اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں زبان، ذات یا صنف کی بنیاد پر کوئی امتیاز (Discrimination) نہیں برتا جائے گا اور تمام شہریوں کو یکساں مواقع ملیں گے۔

آئینی استثناء (Proviso): اسی آرٹیکل میں ایک شق (Proviso) رکھی گئی کہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کوٹا سسٹم یا خصوصی نشستیں رکھی جا سکتی ہیں۔

عارضی شق: اصل آئین میں یہ شرط تھی کہ یہ استثناء صرف 10 سال کے لیے ہوگا تاکہ پسماندہ علاقوں کی حالت سدھر سکے، لیکن سیاسی اور پارلیمنٹ کی منظوری سے آئینی ترامیم کے ذریعے اس کی مدت میں بار بار توسیع کی جاتی رہی ہے۔

سندھ میں اس کوٹا سسٹم کی دو بنیادی سطحیں ہیں:

وفاقی سطح (CSS وغیرہ): سندھ کو کل وفاقی ملازمتوں میں 19% کوٹا ملتا ہے۔

صوبائی سطح (سندھ کا اربن بمقابلہ رورل کوٹا): سندھ کے اندر اس 19% کوٹا (اور صوبائی ملازمتوں) کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

سندھ دیہی (Rural): 60%

سندھ شہری (Urban – کراچی، حیدرآباد، سکھر): 40%

کیا کوٹا سسٹم صرف سندھ میں ہے یا دوسرے پسماندہ علاقوں (بلوچستان، کے پی، گلگت بلتستان) میں بھی ہے؟
صوبائی سطح پر تقسیم: کوٹا سسٹم صرف سندھ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں میں صوبائی سطح پر اضلاع کی بنیاد پر کوٹا موجود ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا (کے پی کے): بلوچستان میں بھی اندرونِ بلوچستان (کوئٹہ کے علاوہ دیگر اضلاع) کے لیے سخت کوٹا سسٹم نافذ ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی پشاور اور دیگر ترقی یافتہ اضلاع کے مقابلے میں پسماندہ اضلاع (مثلاً سابقہ فاٹا اور دیر، کوہستان وغیرہ) کا الگ کوٹا ہے۔

فرق کیا ہے؟ سندھ کا معاملہ اس لیے منفرد اور شدید تنازعہ بن جاتا ہے کیونکہ سندھ کے اندر آبادی کو دو واضح حصوں (شہری 40% اور دیہی 60%) میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ کراچی جیسے میگا پولیٹن شہر کو—جو ملکی معیشت کا انجن اور دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کا مرکز ہے—صرف 40% تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ سندھ کے شہری علاقوں کی اصل آبادی اور ٹیکس کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسرے صوبوں میں اس طرح کی دوطرفہ شہری/دیہی تقسیم اتنی شدت سے نہیں پائی جاتی۔

پنجاب میں کوٹا سسٹم کی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟
اندرونی تقسیم کا فقدان: پنجاب میں صوبائی سطح پر سندھ کی طرح “شہری بمقابلہ دیہی” کا کوئی متنازعہ قانونی فارمولا موجود نہیں ہے۔ اگرچہ پنجاب میں بھی جنوبی پنجاب (سرائیکی بیلٹ) کے حوالے سے محرومی اور الگ صوبے یا ملازمتوں میں کوٹے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے، لیکن پورا پنجاب ایک ہی انتظامی اکائ کی طرح اوپن میرٹ یا ضلعی کوٹے کے تحت چلتا ہے۔

بڑی مارکیٹ اور مواقع: پنجاب میں آبادی کے تناسب سے تعلیمی ادارے اور نوکریوں کے مواقع سندھ کے مقابلے میں زیادہ پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے وہاں کراچی جیسی شدید دو طرفہ خلیج یا احساسِ محرومی پیدا نہیں ہوا۔

آبادیوں کی منتقلی، زمینوں کی خریداری اور کچی آبادیاں (کراچی اور سندھ کے شہر)
یہ بالکل درست ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک اندرونی ہجرت نے سندھ کے ڈیموگرافک (آبادیاتی) نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے:

مختلف کمیونٹیز کی آباد کاری: سرائیکی بیلٹ، ہزارہ، گلگت، کشمیر اور کے پی سے لاکھوں لوگ روزگار، تجارت اور بہتر زندگی کی تلاش میں سندھ (خصوصاً کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میرپورخاص) منتقل ہوئے اور یہیں مستقل زمینیں خرید کر آباد ہو گئے۔

کچی آبادیاں اور سیاسی مفادات: کراچی اور دیگر شہروں میں بننے والی بڑی کچی آبادیوں کو سیاسی ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور مختلف دور حکومتوں میں انہیں ڈی سی لیز (DC Lease) یا سیاسی سرپرستی کے ذریعے باقاعدہ ریگولر کیا گیا، جس سے شہروں کا اصل ڈھانچہ اور وسائل شدید دباؤ کا شکار ہوئے۔

کوٹا سسٹم کے فوائد اور نقصانات (اچھے برے اثرات)

فوائد (مثبت پہلو):

پسماندہ علاقوں کی نمائندگی: اندرونِ سندھ کے ان غریب اور پسماندہ بچوں کو موقع ملا جن کے علاقوں میں معیاری اسکول یا اکیڈمیاں موجود نہیں تھیں۔

صوبائی ہم آہنگی اور احساسِ محرومی میں کمی: دیہی عوام میں یہ احساس کم ہوا کہ تمام نوکریاں صرف شہری علاقوں یا ایک مخصوص طبقے کو مل رہی ہیں۔

نقصانات (منفی پہلو):

میرٹ کا قتل: اعلیٰ نمبرز اور زیادہ قابلیت رکھنے والے شہری نوجوانوں کے مقابلے میں کم نمبرز والے افراد منتخب ہو جاتے ہیں، جس سے مایوسی پھیلتی ہے۔

جعلی ڈومیسائل کی لعنت: بااثر افراد جعلی شہری يا دیہی ڈومیسائل بنا کر حقداروں کا حق مارتے ہیں۔

دماغی فرار (Brain Drain): کراچی اور حیدرآباد کے ہزاروں قابل اور باصلاحیت نوجوان میرٹ پر موقع نہ ملنے کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو گئے۔

لسانی تقسیم: اس سسٹم نے سندھ میں “سندھی” اور “مہاجر” (اردو بولنے والے) کے درمیان لسانی اور سیاسی خلیج کو بہت گہرا کر دیا۔

کیا کوٹا سسٹم نسلیں کھا گیا؟

نقادوں اور متاثرین کا ماننا ہے کہ ہاں، اس کے نافذ العمل رہنے کے طریقہ کار نے نسلوں کا نقصان کیا ہے:

صلاحیتوں کی تلفی: تین نسلوں کے نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم اور ٹیلنٹ کے باوجود محض ڈومیسائل یا کوٹا کی پابندیوں کی وجہ سے سرکاری اداروں، عدلیہ اور سول سروس میں وہ مقام حاصل نہیں کیا جو میرٹ پر ملنا چاہیے تھا۔

ادارے تباہ ہوئے: میرٹ کے بجائے کوٹا اور سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں سے صوبائی اداروں (پی ڈبلیو ڈی، پولیس، واٹر بورڈ، تعلیم وغیرہ) کی کارکردگی اور معيار گر گیا۔

یہ کیسے ختم ہو سکتا ہے؟

کوٹا سسٹم خود بخود ختم نہیں ہوگا، اس کے لیے قانونی، آئینی اور انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے:

آئینی ترمیم: پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 27 کی مدت میں مزید توسیع نہ کی جائے یا آئینی ترمیم کے ذریعے اسے ختم کر دیا جائے۔

دیہی علاقوں میں یکساں تعلیمی معیار: کوٹا ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اندرونِ سندھ کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا معیارِ تعلیم کراچی کے برابر لایا جائے تاکہ مقابلے کی فضائی پیدا ہو۔

مرحلہ وار ختم کرنا (Phase-out): کوٹا کو یکلخت ختم کرنے کے بجائے سالانہ 10% یا 20% میرٹ کا تناسب بڑھایا جائے (مثلاً 100% اوپن میرٹ کی طرف بڑھا جائے)۔

سیاسی اور صوبائی اتفاقِ رائے: وفاقی اور سندھ حکومت تمام سیاسی و لسانی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر 100٪ اوپن میرٹ نافذ کرے۔

جعلی ڈومیسائل، آبادیاتی تبدیلی اور کرپشن کا زوال

جعلی ڈومیسائل کا معاملہ اور قانونی نقطہ نظر

کوٹا سسٹم کی سب سے بڑی خامی یا ناسور جعلی ڈومیسائل (Fake Domicile) کا اجرا ہے۔ قانونی اور عدالتی نقطہ نظر سے اس پر یہ صورتحال ہے:

جرم اور قوانین: کسی شخص کا تعلق اگر کسی شہری علاقے (مثلاً کراچی یا حیدرآباد) سے ہو اور وہ اثر و رسوخ یا رشوت کے ذریعے اندرونِ سندھ کے کسی ضلع (مثلاً تھر، لاڑکانہ یا جیکب آباد) کا جعلی ڈومیسائل یا پی آر سی (PRC) بنوا لے، تو یہ قانوناً جعل سازی (Forgery) اور فراڈ ہے۔

عدالتوں کا موقف: سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اس حوالے سے متعدد کیسز دائر ہوئے ہیں۔ عدالتوں نے بارہا حکم دیا ہے کہ جعلی ڈومیسائل کے حامل افراد کی نہ صرف نوکریاں ختم کی جائیں بلکہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) اور سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) سخت جانچ پڑتال کرتے ہیں، لیکن سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ مسئلہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔

جعلی ڈومیسائل اور کرپشن: کیا مجرموں کو سزا ملی یا بڑے خاندان بن گئے؟

حقیقتِ تلخ: کرپشن اور سفارش کے اس نظام کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے حق مارنے والے بڑے پیمانے پر بچ نکلے اور شاذ و نادر ہی کسی کو عبرت ناک سزا ملی ہو۔

بڑے خاندانوں کا ابھرنا: جن لوگوں نے اس سسٹم کی خامیوں اور سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا کر غلط طریقوں سے ڈومیسائل بنائے، ان کی اگلی نسلیں ملک کے اعلیٰ ترین بیوروکریٹک، عدالتی اور سیاسی عہدوں پر قابض ہو گئیں۔

عدالتی احکامات اور تاخیری حربے: اگرچہ سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں متعدد بار جعلی ڈومیسائل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں (اور عدالتوں نے تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بھی بنائیں)، لیکن سسٹم کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ بیوروکریسی اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے زیادہ تر کیسز التواء کا شکار ہو جاتے ہیں یا مجرم بچ نکلتے ہیں۔

اس پورے سسٹم کی خرابی نے سندھ کے دونوں حصوں (شہری اور دیہی) کے حق دار اور لائق نوجوانوں کا سب سے زیادہ نقصان کیا ہے، جہاں میرٹ کی پامالی نے نسلوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

کوٹا سسٹم کا سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟

سب سے زیادہ فائدہ: اس ابتدائی دور میں اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان سرکاری ملازمین اور مہاجرین کو ملا جو ہجرت کر کے نئے پاکستان (خصوصاً کراچی اور بڑے شہروں) میں آئے تھے، کیونکہ سول سروس میں اس وقت پڑھے لکھے طبقے کی شدید کمی تھی۔ تاہم جب 1973ء میں سندھ کے اندر 60/40 کا شہری/دیہی کوٹا آیا، تو اس کا بنیادی مقصد اندرونِ سندھ کے پسماندہ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں میں حصہ دینا تھا تاکہ وہ شہری علاقوں کے مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

ون یونٹ (One Unit) بننے کے بعد کوٹا سسٹم کا کیا ہوا؟

1955ء میں ون یونٹ کے قیام سے مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ملا کر ایک اکائی بنا دیا گیا تھا، جس کے بعد صوبائی شناختیں عارضی طور پر ختم ہو گئی تھیں۔ اس دوران صوبائی کوٹے کی بجائے علاقائی اور مرکز کی سطح پر الگ قوانین رائج ہوئے۔

1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور سندھ سمیت تمام صوبے اپنی الگ حیثیت میں بحال ہو گئے۔ ون یونٹ ختم ہونے کے فوراً بعد صوبائی سطح پر حقوق اور نوکریوں کی تقسیم کا توازن بگڑنے لگا، جس کے نتیجے میں 1973ء کے آئین میں باقاعدہ سندھ کے لیے 60% دیہی اور 40% شہری کوٹے کا فارمولا متعارف کروایا گیا۔

وفاقی سطح (CSS وغیرہ) پر سندھ کے 19% کوٹے کی تقسیم اور نامزدگی کا طریقہ کار
وفاقی ملازمتوں (جیسے CSS) میں کل نشستوں کا 19% سندھ کے لیے مختص ہے۔ اس 19% کو آگے یوں تقسیم کیا جاتا ہے:

سندھ دیہی (60%): جو کہ کل وفاقی کوٹے کا تقریباً 11.4% بنتا ہے۔

سندھ شہری (40%): جو کہ کل وفاقی کوٹے کا تقریباً 7.6% بنتا ہے۔

اگر سندھ سے امیدوار پاس نہ ہوں تو نشستیں کیسے بھرتی ہوتی ہیں؟

وفاقی قوانین اور FPSC کے طریقہ کار کے مطابق، اگر کسی مخصوص صوبے یا کوٹے (مثلاً سندھ اربن یا سندھ رورل) کے امیدوار تحریری امتحان اور انٹرویو میں مطلوبہ پاسنگ مارکس حاصل نہ کر سکیں یا نشستیں خالی رہ جائیں، تو وہ نشستیں کسی دوسرے صوبے کے امیدواروں کو نہیں دی جاتیں۔

اس کے بجائے ضابطے کے تحت ان خالی نشستوں کو یا تو اگلے سال کے لیے کیری فارورڈ (Carry forward) کر دیا جاتا ہے یا اسی خطے کے کوٹے پر دوبارہ موقع دیا جاتا ہے تاکہ صوبائی کوٹے کا تقدس پامال نہ ہو۔

کیا کبھی امتحان یا انٹرویو میں دھاندلی یا عدم شفافیت کا الزام لگا؟
ہاں، انتہائی شدت کے ساتھ الزامات لگے ہیں اور یہ ایک مستقل تنازعہ ہے۔

SPSC پر الزامات: سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور بالخصوص انٹرویوز کے نظام پر ہمیشہ سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سیاسی مداخلت، پسند و ناپسند، اور رشوت ستانی کے الزامات پر ماضی میں عدالتوں نے SPSC کے کئی بیجز اور سارا کا سارا نظام معطل یا کالعدم قرار دیا ہے۔

FPSC/CSS میں شفافیت: وفاقی سطح پر CSS کا نظام نسبتاً زیادہ شفاف مانا جاتا ہے، لیکن تحریری امتحان کے بعد انٹرویو (Viva Voce) کے نمبروں کے حوالے سے اکثر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ بعض اوقات تحریری امتحان میں ٹاپ کرنے والے امیدواروں کو انٹرویو میں جان بوجھ کر کم نمبر دے کر فیل کر دیا جاتا ہے تاکہ من پسند افراد کو کوٹے پر ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

کوٹا سسٹم – میرٹ کا جنازہ اور نسلوں کا استحصال
پاکستان کی تاریخ میں جب بھی ان پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا جنہوں نے اس ملک کے پودے کو اندر سے کھوکھلا کیا، تو ستمبر 1948ء میں بویا گیا “کوٹا سسٹم” کا بیج سرِ فہرست نظر آئے گا۔ اس عارضی اوزار کو ایک مستقل ناسور بنا دیا گیا، جس کا مقصد بظاہر پسماندگی کا خاتمہ تھا لیکن عملاً اس نے اقربا پروری، سفارش، جعلی ڈومیسائل اور پرچی ازم کو وہ فروغ دیا کہ قابلیت اور میرٹ اس ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک خواب بن کر رہ گئے۔

جب ریاستیں اپنے شہریوں کو یکساں مواقع دینے میں ناکام ہو جاتی ہیں، تو وہ پسماندگی ختم کرنے کے نام پر پسماندگی کو ہی قانون بنا دیتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پسماندگی کا علاج یہ تھا کہ دیہی علاقوں میں معیاری اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، اسپتال اور ہنر مندانہ ادارے بنائے جاتے؟ یا اس کا حل یہ تھا کہ شہروں میں پڑھنے والے، لیبارٹریوں میں راتیں جگانے والے اور اوپن میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوانوں کا حق چھین کر نااہلوں کو مسلط کر دیا جائے؟ ہم نے دوسرا راستہ چنا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہنر مند نسلیں مایوسی کے سمندر میں ڈوب گئیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ سندھ کے شہر ہوں یا ملک کے دوسرے گوشے، کراچی جیسے میگا پولیٹن شہر میں جینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے، وسائل دم توڑ رہے ہیں، اور نوجوان سوچنے پر مجبور ہیں کہ آنے والے برسوں میں جب حکمران اس کوٹا سسٹم کو مزید دہائیوں کے لیے بڑھا دیں گے، تو ان کی آنے والی نسلیں کہاں جائیں گی؟ کیا وہ اپنی ڈگریاں جلا کر قبریں بنانے کے لیے زمین تلاش کریں گی؟

جو جہاں ہے، جیسا ہے، اسے ویسا ہی رکھنے کی اس سیاست نے پاکستان کے وفاق کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ جن لوگوں نے قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا تھا، وہ ویزے لگوا کر ملک سے باہر جا رہے ہیں (Brain Drain)، اور پیچھے رہ جانے والوں کو جعلی ڈومیسائل اور سیاسی سفارش کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔ کیا ہم اپنی ہی قوم کے مجرم نہیں ہیں کہ ہم نے تعلیم کی بہتری پر توجہ دینے کے بجائے “کوٹا” نامی ایک ایسی تقسیم کو جنم دیا جس نے سندھ کی دھرتی پر بسنے والے اردو بولنے والوں اور سندھی بولنے والوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا؟

اگر پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانا ہے، تو اس ناسور کو 2033ء یا اس سے پہلے ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کوٹا سسٹم کی توسیع کا رواج بند کیا جائے، ضلعی اور شہری/دیہی بنیادوں کو ختم کر کے صرف اور صرف “اوپن میرٹ اور نیڈ بیسڈ” (Merit and Need-based) نظام نافذ کیا جائے۔ پسماندگی مٹانی ہے تو اسکول بناؤ، سڑکیں بناؤ، اسپتال بناؤ—ملازمتوں اور تعلیم میں میرٹ کا خون کر کے کسی قوم کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔