اسلام آباد ( طاہر خلیل ) نگار ہستی مسرت و شادبانی کے ساتھ حزن و ملال اور مصائب مشکلات کی ملی جلی کیفیتوں کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اجرائے ہستی کو بہت سے احسانات سے نوازا تخلیق کائنات سے آج آرٹیفشل انٹیلی جنس (A-I) تک کے رخت سفر نے انسانی زندگی کو بہت سے سہولتیں اور را حتیں میسر کیں یہ سب اللہ کے احسانات ہیں لیکن اللہ کے انعام و اکرام میں والدین سب سے بڑا احسان اور انعام ہیں والدین کا چلے جانا سب سے بڑا انسانی دکھ ہے ۔ انسانی کرب کا سب سے مشکل لمحہ وہ ہے جب والدین رخصت ہو رہے ہوتےہیں یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اللہ کی اتھارٹی کے آگے قطعی بےبس ہوتا ہے اور سوچتا ہے کہ کریں بھی تو کیا کریں ،یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جب علم،شعور ،آگہی کی چکا چوبند ماند پڑ جاتی ہے ۔فلسفہ گنگ ہو جاتا ہے ، پس منظر اور پیش منظر کے سارے نقوش پھیکے پڑ جاتے ہیں ، میں اس کا عینی شاہد ہوں میں نے اپنے جذبات و خیالات کو مرکوز کرنے اور انہیں حروف کی شکل دینے کیلئے 1989 کی اپنی ذاتی ڈائری سے 9 اور10 اکتوبر کے دو صفحات کی پوسٹ لگائی جو میں نے ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں وقت رخصت تک والد گرامی کی معیت میں گزارے تھے ، آج اس واقعے کو گزرے 37 برس ہو چکے لیکن سطح ذہن پر آج بھی ہر نقش پوری طرح روشن ہے ،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حفظ قرآن کے انتہائی مرحلوں میںجبکہ میری عمر 7 سال کے لگ بھگ تھی ،مجھے اور چھوٹے بھائی طیب مرحوم کو گوالمنڈی سکول میں داخل کر ا دیا تھا۔ اس وقت تک ہم دونوں بھائی ماں اور بڑی بہن آپا کی آغوش کے پناہ گزیں تھے، بڑی بہن ہونے کےناطے انہوں نے مجھے بالوں میں کنگی کرنا سکھایا مجھے سکھایا کہ شلوار کا زار بند کیسے باندھا جاتا ہے ، بڑے بھائی جان نے مجھے ہدایت تھی کہ سکول ہمیشہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر جایا کرواور تمہارے بوٹ ہمیشہ پالش سے صاف رہنا چاہیں یہ وہ خصوصیات تھیں جو میں نے بچپن میں اپنے بڑوں سے سیکھیں ،سخت سردی میں جب بھاری ھرکم بستہ اٹھانا مشکل ہوتا تو والد نے اپنے شاگرد عباس اور اقبال کی ڈیوٹی لگائی کہ روز آکر صبح منہ اندھیرے پیدل گوالمنڈی سکول چھوڑنے جاتے ، ہمارے والدین روائتی سکولوں سے پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود ہم سب بہن بھائیوں کو ماشااللہ کامیابیوں کے ایسے سفر پر گامزن کر گئے ، جس نے خزاں رسیدہ زندگی کو تازہ بہار کی خوشبوئوں سے آشنا کیا مجھے یاد آیا خزاںبدوش ہوا کو خنک مزاجی سے نسیم صبح بہاراں بنا دیا تو نے ، بد ل کے رکھ دیئے فکر و نظر کے پیمانے ،جنوں کو ہوش بدامان بنا دیا تو نے ،یہ ایسا موضوع ہے کہ اس پر ایک نہیں کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں بڑے بھائی جان ،چھوٹے بھائی جان مرحوم ،آپا مرحو مہ ،طاہرہ بہن ،طیب مرحوم ،سلیم ،نسیم ، صبیحہ بہن ،عامر اور عامرہ بہن ہی نہیں ،بھابی رضیہ مرحومہ ، بھا بھی تاج مرحومہ، انکے بچے ،سب کا رہن سہن ہمارے کالج روڈ کے گھر کی شادابیاں ،وہاں ایک ایک بچے کی شادی، اٹھنے والے جنازے ،ایک ایک لمحہ یاد ہے ، یہ ایسی تاریخ ہے جو ہمیشہ دلوں کو گرماتی رہے گی ،مجھے یاد ہے کہ میرا چھوٹا بھائی طیب مرحوم کو والدہ اماں سے کتنا عشق تھا، اسکی ایک عادت میں کبھی فراموش نہیں کرتا کہ وہ جب بھی باہر سے آتا ماں کو لپٹ جاتا تھا ماں اس سے پوچھتی کہ کیا ہوا ؟ وہ ایک ہی بات کہتا کہ میں باہر سے آیا ہوں اور جب اس کا راولپنڈی کنٹونمنٹ ہسپتال میں نومبر 64 میں وقت رخصت آیا تو میں وہاں موجود تھا وہ بستر مرگ پر آنکھیں کھولے سیدھا لیٹا ہوا تھا میں اسکی آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو اپنے رومال سے روکنے کی کوشش کر تا جو آپا نے ایک سرخ پھول کشیدہ کاری کے بعد مجھے دیا تھا ، اس نے جانے سے پہلے اشارہ دیا میں نے کان قریب کیا اسکی زبان سے لفظ ماں نکلا ہی تھا کہ میں نے ڈاکٹر کو چیخ کر بلایا کہ اس کو جانے نہ دیں میں ماں کو لے کر آتا ہوں مگر وہ جا چکاتھا ، والد گرامی کا انتقال میری زندگی کا دوسرا بڑا واقعہ بنا ،میں مشتاق بھائی جان کے ساتھ پمز ایمرجنسی میں اپنے والد کے پائوں پر بیٹھا اور ڈائجسٹ پڑھنے کی کوشش کرتا رہا ، ہسپتال میں یہ میرا والد کے ہمراہ دوسرا دن تھاوالد مرحوم کی میڈیکل کیفیت میں نے اپنی ڈائری میں محفوظ کی جسے آج میں نے 37 سال بعد آپ سب کو شیئر کیا، میری ذاتی ڈائریاں سب چیزیں میری یاداشت میں موجود ہیں ،مجھے یاد ہے کہ حافظ جی ہوش میں نہیں تھے ،بھائی مشتاق مرحوم مسلسل قرآن خوانی میںمصروف رہے لیکن میں کبھی ان کے چہرے کو سنوارتا اور کبھی اجلے سر پر ابھرنے والے پسینے کی بوندوں کو صاف کرنے میں لگا رہا ، اس روز میری پاکٹ میں میری بہن کا کشیدہ رومال نہیں تھا ،یہ رومال میری شریک حیات کشور کا خریدکردہ تھااور یہ رومال اپنی خستگی کے باوجود آج بھی میرے پاس محفوظ ہے، میں نے یہ رومال اپنی اس ٹوپی کے ساتھ رکھا ہوا ہے جو میں روضہ رسول ﷺ کے اندر حجرہ پاک کے سفید سنگ مرمر فرش کی صفائی کے بعد اپنی پاکٹ میں محفوظ کر لیا تھا ۔ تین مرتبہ خانہ کعبہ کے اندر اور چار مرتبہ روضہ رسول ﷺ کے حجرے کے اندر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی اور آج جب بھی غیر معمولی مشکل گھیرتی ہے مجھے روضہ رسول ﷺ کی توانائی پھر کھڑا کر دیتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وقت رخصت میرے والد کے بے حس اور بے جان جسم میں ایسی توانائی ابھری کہ خود دونوں بازوں سے بیڈ کی ریلنگ کو تھام کر بیٹھ گئے ، میں نے یہ منظر دیکھا تو لپکا کہ کمر سہلا دوں ، ڈاکٹر کو آواز دی ،دوسرے ،لمحے ان کے جسم سے ساری توانائی خرو ہو گئی اور جاں جان آفریں کے سپرد ہوئی آنا لله وانا الیه راجعون آج انہیں رخصت ہوئے 37 برس ہو چکے ، حافظ ایوب ہوں یا فیلڈ مارشل ،طلعت مسعود، سردار سکندر حیات ،بیرسٹرسلطان محمود سے لے کر آج تک ،الخلیل قرآن کمپلیکس سے فارغ ہونے والے حفاظ کرام حافظ نسیم خلیل کی سرپرستی اور رہنمائی میں پورے جوش و خروش اور تازگی جاری رکھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ خدمت قرآن کی عظیم مساعی کو حافظ صاحب مرحوم کے حق میں قبول و منظور فرمائے ۔ ہمارے تمام بہن بھائیوں ان کی اولاد وں اور خاص طور پر ہماری بہنوں طاہرہ باجی ،صبہیہ بہن ،عامرہ بہن ،ممتاز شاہ صاحب ، جمیل انجم ، حفظ الرحمٰن ،بے بی ،صالحہ ،فرحت ،فارس، اسد ، گڑیا ، متین ، صفیہ، ساجدہ ،عائشہ ، روبینہ ، ، زری گل اور مجیب مرحوم کی فیملیز کو صحت و سلامتی کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرے اور یہ کارواں اسی پیغام کے ساتھ پھلتا پھولتا رہے ، ہم بدلتے ہیں رخ ہوائوں کا ، آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے ،اس لمحے مجھے اپنے بیٹے متین طاہر اور بیٹی طیبہ اسد کو یاد کرنا ہے ،جنہوں نے میرے والدین کی آغوش میں پہلی آنکھ کھولی تھی یہ وہ وقت تھا جب عید ،تہوار ،مذہبی ایام پر ہمارے والدین پورے خاندان اور دوستوں کو جمع کرتے ،سب کو یاد ہے کہ ہر عید پر ہمارے خاندان کے 60/70 افراد کیلئے صحن پر شامیانہ لگایا جاتا تھا ، بڑے دیکچوں اور بالٹیوں میں روح افزا تیار ہوتا تھا ،ہر محرم پر طلحہ محمود کے والد حاجی محمود ،فیلڈ مارشل کے والد سرور منیر مرحوم اپنے بچوں اور خاندان کے ہمراہ ہمارے گھر جمع ہوتے تھے اور ہم بھی اپنے دوستوں جاوید صادق میر ، پرویز رشید ،خالد حکیم قریشی شمشاد راجا ، لطیف شاہ کے والدین ،شیخ نور الہیٰ مرحوم سمیت سب کو انوایٹ کرتے تھے ،بقول شاعر وہ ہر مقام سے پہلے ،وہ ہر مقام کے بعد، سحر تھی شام سے پہلے ، سحر شام کے بعد ایک بڑی خوبی جو آج کے والدین میں کم پائی جاتی ہے، بچوں کی خوشیوں کا احترام ہے، ،شادی بیاہ اور دیگر خاندانی معاملات میں ہمارے والد مرحوم بچوں سے رائے لینے اور پھر کسی فیصلے تک پہنچتے ۔ میرے بہن ،بھائیوں کی شادیوں پر کئی ہفتے تک گھر میں ڈھولکی بجتی ،محلے پھر کی لڑکیاں گیت گاتیں ،وہ اپنے کمرے میں خاموشی سے TV دیکھتے رہتے ، رواداری کی عظیم مثالیں قائم کیں ، ایام عزا کے دوران شیعہ علما ان کے ساتھ ناشتے پر موجود ہوتے تھے ،گھر کے باہر اضافی بلب لگوا دیتے تھے تاکہ گھر سے متصل امام بارگاہ میں آنے جانے والوں کو دقت نہ ہو ، اسی لئے شمیم حیدر سید کے والد مرحوم ابو محمد رضوی انہیں ا تحاد مسلمین کا روشن مینار قرار دیتے تھے ۔( جنگ سے اخذ)
