تحریر: انجینئر افتخار احمد چودھری
میرے پیارے دوست فاروق دل لزبن میں مقیم ہیں۔ پاکستان کی سیاست اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک اہم آئینی خدشے کا اظہار کیا کہ اگر صوبے میں سیاسی اور امن و امان کی صورتِ حال مزید خراب ہوتی ہے تو کیا گورنر خیبر پختونخوا براہِ راست صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال سکتے ہیں؟ ان کا یہ سوال میرے لیے بھی باعثِ توجہ بنا۔ چنانچہ میں نے اسے محض ایک سیاسی بحث کے بجائے قانون اور آئین کے عنوان سے دیکھنے کی کوشش کی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا آئین اس بارے میں کیا کہتا ہے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ضرور ہے، لیکن وہ صوبے کا روزمرہ سیاسی اور انتظامی حاکم نہیں ہوتا۔ آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت صوبے کا انتظامی اختیار گورنر کے نام سے صوبائی حکومت استعمال کرتی ہے، اور یہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا پر مشتمل ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اختیار کا اظہار گورنر کے نام سے ضرور ہوتا ہے، مگر عملی حکومت وزیراعلیٰ اور کابینہ چلاتی ہے۔
یہاں آرٹیکل 130 بھی نہایت اہم ہے۔ صوبائی کابینہ، جس کا سربراہ وزیراعلیٰ ہوتا ہے، گورنر کو اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی میں مشورہ دیتی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 105 عمومی اصول متعین کرتا ہے کہ گورنر اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں کابینہ یا وزیراعلیٰ کے مشورے کے مطابق عمل کرے گا، سوائے ان معاملات کے جہاں آئین اسے واضح طور پر صوابدیدی اختیار دیتا ہے۔
لہٰذا محض یہ حقیقت کہ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہے، اسے یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ کسی سیاسی اختلاف، احتجاج، بدامنی یا سکیورٹی کے بحران کے باعث خود صوبائی انتظامیہ چلانا شروع کردے۔
گورنر صوبائی حکام سے ملاقات کرسکتا ہے، بریفنگ لے سکتا ہے، حالات سے آگاہی حاصل کرسکتا ہے اور وزیراعلیٰ سے صوبے کے معاملات پر گفتگو کرسکتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 131 بھی گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان صوبائی انتظام کے حوالے سے رابطے کی گنجائش رکھتا ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ مشاورت اور حکمرانی دو الگ چیزیں ہیں۔
اگر گورنر وزیراعلیٰ اور کابینہ کو نظرانداز کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو براہِ راست احکامات دینا شروع کردے تو پھر بنیادی سوال یہ ہوگا کہ اسے یہ اختیار آئین کے کس آرٹیکل نے دیا ہے؟
یہاں آتا ہے آئین کا آرٹیکل 234، جس کا تعلق صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے ہے۔ اگر صدرِ مملکت، گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر، اس بات سے مطمئن ہوجائیں کہ ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر ایک اعلان کے ذریعے غیر معمولی آئینی اقدام کرسکتے ہیں۔
مگر یہاں ایک نہایت اہم فرق ہے۔ گورنر کی طرف سے صدر کو رپورٹ بھیج دینا خود گورنر راج نافذ نہیں کرتا۔ گورنر صرف اپنی آئینی تشخیص صدر کے سامنے رکھ سکتا ہے۔ اصل فیصلہ صدرِ مملکت کا ہوتا ہے، اور وہ بھی اسی وقت جب آئین میں بیان کردہ شرائط پوری ہوں۔
یعنی اگر کسی صوبے میں حکومت اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہی، سیاسی اختلاف شدید ہے، اپوزیشن احتجاج کررہی ہے، دہشت گردی کا مسئلہ موجود ہے یا امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے تو صرف ان وجوہات کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آئینی مشینری لازماً ناکام ہوچکی ہے۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا صوبائی حکومت اب بھی آئین کے مطابق چل سکتی ہے یا نہیں؟
پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ پیر صابر شاہ بنام وفاقِ پاکستان، PLD 1994 SC 738 خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقدمے میں اس وقت کے صوبہ سرحد، یعنی موجودہ خیبر پختونخوا، میں آرٹیکل 234 کے تحت صدارتی اقدام عدالت کے سامنے آیا تھا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ایسی غیر معمولی آئینی طاقت کی ضرورت جمہوری دستور میں بعض حالات میں پیش آسکتی ہے، لیکن اس کے اثرات نہایت وسیع اور سنگین ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسے بے لگام یا غیر محدود اختیار نہیں سمجھا جاسکتا۔
اس مقدمے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ تھا کہ صدارتی اعلان کے ذریعے صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کے ساتھ وزیراعلیٰ اور وزرا کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹانے کا تاثر پیدا کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 234 کے تحت عارضی طور پر صوبائی حکومتی اختیارات سنبھالنے کا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کو مستقل طور پر ان کے منصب سے محروم کردیا جائے۔ عدالت نے اس حصے کو آئینی اختیار سے تجاوز قرار دیا۔
یہ فیصلہ آج بھی ہمیں ایک بنیادی اصول سمجھاتا ہے کہ ایمرجنسی یا آئینی بحران بھی آئین سے بالاتر نہیں ہوتا۔
یہاں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کا فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 232 کا تعلق ایسے سنگین ہنگامی حالات سے ہے جن میں جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی شامل ہوسکتی ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ جبکہ آرٹیکل 234 خاص طور پر اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب صوبے میں آئینی مشینری اس حد تک ناکام ہوجائے کہ حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔
لہٰذا دہشت گردی یا امن و امان کی خرابی بذاتِ خود آرٹیکل 234 کے تحت آئینی مشینری کی ناکامی کا ثبوت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ آئینی طور پر اپنے منصب پر موجود ہے یا نہیں؟ کابینہ کام کررہی ہے یا نہیں؟ صوبائی اسمبلی اپنا کردار ادا کررہی ہے یا نہیں؟ اور کیا صوبائی حکومت اپنے آئینی فرائض ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں؟
آئین کا آرٹیکل 148 بھی وفاق اور صوبوں کے تعلق میں اہم ذمہ داریاں متعین کرتا ہے، لیکن وفاق کی یہ ذمہ داری کہ وہ صوبے کو بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار سے تحفظ دے، گورنر کو غیر محدود انتظامی اختیار نہیں بخش دیتی۔ ہر آئینی مداخلت کے لیے اپنا آئینی راستہ اور اپنی شرائط موجود ہیں۔
اور اگر کبھی آرٹیکل 234 کے تحت صدارتی اعلان جاری بھی ہوجائے تو یہ مستقل سیاسی بندوبست نہیں بن جاتا۔ آئین اس اقدام کو عارضی نوعیت کا رکھتا ہے اور اسے پارلیمانی نگرانی کے آئینی تقاضوں سے بھی وابستہ کرتا ہے۔ یہی عارضی حیثیت پیر صابر شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے استدلال کا بنیادی حصہ تھی۔
اس سارے معاملے میں آرٹیکل 236 بھی قابلِ توجہ ہے، کیونکہ یہ ہنگامی آئینی اعلانات کے عدالتی جائزے سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔ تاہم پیر صابر شاہ کے فیصلے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ آئینی اختیار کی آڑ میں ایسا قدم نہیں اٹھایا جاسکتا جو خود آئین کی مقرر کردہ حدود سے باہر چلا جائے۔ بعد کے عدالتی مباحث میں بھی غیر معمولی آئینی اختیارات کی اسی نوعیت پر گفتگو ہوئی ہے۔
چنانچہ فاروق دل کا سوال دراصل بہت سادہ مگر انتہائی اہم ہے: کیا گورنر خیبر پختونخوا کو اپنی مرضی سے سنبھال سکتا ہے؟
آئینی اعتبار سے معاملہ یہ ہے کہ گورنر محض اپنے منصب کی بنیاد پر صوبائی حکومت کا انتظام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ آئینی مشینری ناکام ہوچکی ہے تو اس کے لیے آئین نے آرٹیکل 234 کا راستہ دیا ہے۔ وہ صدر کو رپورٹ دے سکتا ہے، لیکن فیصلہ صدرِ مملکت کریں گے اور وہ بھی آئین کی مقررہ حدود کے اندر۔
آج خیبر پختونخوا کے حوالے سے اصل سوال سیاسی نعروں کا نہیں بلکہ آئینی اختیار کا ہے۔ وزیراعلیٰ موجود ہے؟ کابینہ موجود ہے؟ اسمبلی موجود ہے؟ حکومت اپنے فرائض ادا کررہی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو محض سیاسی اختلاف یا امن و امان کی خرابی کو آئینی مشینری کی ناکامی قرار دینا ایک الگ اور سنجیدہ آئینی بحث ہے۔
یہ سب کچھ پڑھنے اور آئین کی ایک ایک شق کو سامنے رکھنے کے بعد میرے ذہن میں لطیف کھوسہ صاحب کی وہ بات بھی گردش کرنے لگتی ہے کہ پاکستان ایسی سرزمین ہے جو آئین کے بغیر چلتی ہے۔ یہ جملہ بظاہر تلخ ہے، مگر ہمارے آئینی سفر پر ایک بڑا سوال ضرور اٹھاتا ہے۔ ہمارے پاس آئین موجود ہے، اس میں اختیارات کی حدود بھی متعین ہیں، اداروں کے فرائض بھی لکھے ہیں اور بحرانوں سے نکلنے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں؛ پھر بھی اصل امتحان ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم آئین کو کتاب میں رکھتے ہیں یا اپنے عمل میں بھی۔ویسے 26 ترمیم کے بعد ائین کے دانت نکل گئے ہیں
خیبر پختونخوا کا موجودہ سوال بھی آخرکار اسی مقام پر آکر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر آئین موجود ہے تو پھر ہر اختیار اسی سے نکلنا چاہیے، ہر مداخلت اسی کے دائرے میں ہونی چاہیے اور ہر بحران کا حل بھی آئینی راستے سے تلاش ہونا چاہیے۔ ورنہ مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ گورنر کیا کرسکتا ہے، صدر کیا کرسکتا ہے یا صوبائی حکومت کیا کرسکتی ہے؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی آئین کے مطابق چلنے والا ملک ہیں؟
شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ کو دینا ہوگا۔
