“یادوں کے دیے: جیکب آباد سے صحافت کے دشت تک”

(ایک صحافی محمد اجمل خان کی آپ بیتی)

بچپن کے آنسو، ہجرت اور بچھڑتے اپنے

15 اکتوبر 1955ء کو جیکب آباد (سندھ) میں میری پیدائش ہوئی۔ اس سے قبل میرے والدین ایک طویل عرصے تک ہرنائی (بلوچستان) میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم رہے۔ میری دو بہنوں کی پیدائش وہیں ہوئی؛ ایک پیدائش کے فوراً بعد انتقال کر گئی اور دوسری کا نام “شادمانی” رکھا گیا۔ یہ نام مجھے بے حد پسند تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر میری بیٹی ہوئی تو بیگم کے مشورے سے اس کا نام یہی رکھوں گا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تین بیٹوں سے نوازا جو اب خود صاحبِ اولاد ہیں اور بیگم بچوں کے ساتھ ان کی خوشیوں میں مگن ہیں۔ اللہ میری فیملی کو سلامت رکھے اور نظرِ بد سے بچائے۔

ہرنائی میں میری دونوں بہنیں مدفون ہیں۔ میں نے وہاں کی مٹی کبھی نہیں سونگھی، لیکن اس کی خوشبو یوں محسوس کرتا ہوں جیسے وہ میرا اپنا وطن ہو۔ 1965ء میں میری والدہ اپنے آبائی شہر جیکب آباد میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ وہ گھر، وہ صحن جہاں میں نے اپنے قدموں تلے سے زمین نکلتی محسوس کی تھی، آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔ رات کے وقت ڈاکٹر کے پاس جانا، انہیں تانگے میں لانا اور پھر زندگی اجڑ جانے کی خبر سننا—یہ صدمہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ والد صاحب بھی 1998ء میں ہمیں روتا چھوڑ گئے۔ بڑے بھائی اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد 1987ء میں داغِ علیحدگی دےگئے، جبکہ بہن کی شادی والد صاحب کی زندگی ہی میں 1988ء میں کر دی گئی تھی۔ آج میں اپنے تینوں بھانجوں، ان کی بیویوں اور بچوں کی پرسکون زندگی پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ رب کریم ہمارے خاندان پر ہمیشہ اپنا رحم و کرم رکھے۔ آمین۔

سبی کی لو، برف باری کا کوئٹہ اور بچپن کی شرارتیں

سبی کے ریلوے سرونٹ کوارٹرز کا ایک واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ شدید گرمی اور جھلستی لو کا دن تھا، شاید میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے پڑوسی گارڈ تپتی ڈیوٹی سے گھر لوٹے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کے گرنے کی ایک دھماکے دار آواز آئی۔ میں جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا، باہر بھاگا اور ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ میں نے چیخ کر دیگر پڑوسیوں کو بلا لیا کہ “گارڈ صاحب دروازہ نہیں کھول رہے، ابھی تو آئے تھے، کہیں کچھ غلط نہ ہو گیا ہو!” لوگ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ شدید گرمی سے نپٹنے کے لیے وہ سیدھے نہانے بیٹھ گئے تھے اور یہی بات ان کی جان لے گئی۔

سبی کا موسمِ سرما ہو یا گرما، دونوں اپنی شدت پر ہوتے تھے۔ اسکول کی تعطیلات میں جب بچے گھروں میں ہوتے تو تپش سے گھر دہک رہے ہوتے تھے۔ جیکب آباد بھی گرم ترین شہر تھا؛ ہم کمروں کے فرش پر بار بار پانی ڈالتے اور چارپائیوں پر سوتے، باہر چھڑکاؤ کرتے اور راتیں کبھی جاگ کر تو کبھی سو کر گزارتے۔ اس زمانے میں زیادہ سے زیادہ مرغیوں، انڈوں یا بکریوں کی چوری ہوتی تھی، باقی گھروں کے دروازے کھلے رہتے اور کوئی خوف نہ ہوتا تھا۔

اسی سبی میں ہم تینوں بہن بھائی دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر شادی بیاہ کا کھیل رچاتے، مستی اور شور مچایا کرتے۔ جب گنے کی ٹرین آتی تو بچوں کا ٹولہ ریلوے یارڈ پہنچ جاتا اور اپنا حصہ کبھی مانگ کر تو کبھی خود نکال کر کھاتا۔ جب گائے بھینسیں مال گاڑیوں میں بھیجی جاتیں تو ہم برتن لے کر پہنچ جاتے اور خالص دودھ لے کر گھر لوٹتے، جس سے امی کھیر اور برفی بنا کر کھلایا کرتی تھیں۔

کوئٹہ میں جب برف پڑتی تو صبح صبح بہن بھائی کے ساتھ گلی میں برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینکنا مجھے آج بھی نہیں بھولا۔ وہ منظر یاد آتے ہی لگتا ہے جیسے میں بچپن میں لوٹ گیا ہوں۔ گھر کے قریب ریلوے کا پل آج بھی آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ جب ہم سبی یا جیکب آباد میں رہتے تھے، وہاں سے والدہ کو ٹی بی سینیٹوریم (ہسپتال) دیکھنے کا سفر بھی یادگار ہے۔ اس سفر میں پہاڑیوں پر چڑھ کر چشمے کے نالے سے پانی پینا اور ہاتھ منہ دھونا بہت بھلا لگتا تھا۔ چڑھائی چڑھتے وقت والد صاحب کے یہ الفاظ: “ہمتِ مرداں، مددِ خدا” میری زندگی کا محور بن گئے۔ وہ حوصلہ دیتے کہ “ہسپتال بس اسی سڑک پر ہے جہاں ہم پہنچنے والے ہیں۔” ہسپتال کے راہداری (کاریڈور) کے پیچھے ایک باغ تھا، جہاں امی سے ملنے کے بعد ہم کھیلنے چلے جاتے تھے۔ والد صاحب چادر بچھا کر فرش پر بیٹھتے اور ہم سب مل کر کھانا کھاتے۔ ملاقات کا وقت ختم ہوتے ہی ہم واپس ٹرین پکڑ کر سبی آ جاتے۔ والدہ وہاں کتنے ماہ زیرِ علاج رہیں، یاد نہیں، مگر والد صاحب نے کبھی ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔

اسکول کے دن، ندی کی تختیاں اور ایک صوفیانہ سوچ

سبی میں ہم تینوں بہن بھائیوں کا ہاتھ میں ہاتھ ڈالے یا آگے پیچھے اسکول جانا معمول تھا۔ پہلے بہن کو گرلز اسکول چھوڑتے، پھر ہم دونوں بھائی بوائز اسکول چلے جاتے۔ واپسی پر ندی پر جا کر اپنی تختیوں کو چکنی مٹی سے دھوتے اور دوبارہ لکھنے کے قابل بناتے۔

زندگی اپنی رفتار سے گزرتی رہی۔ مجھے یاد ہے، ہم مچھلیاں پکڑنے اس نالے میں بھی اتر جاتے جو بڑے تالاب میں گرتا تھا اور ہمارے گھر کے پاس سے گزرتا تھا۔ میرا اکیلے یا بچوں کے ساتھ مچھلیاں پکڑ کر لانا امی کو بالکل پسند نہ تھا۔ وہ ہدایت دیتیں کہ “انہیں واپس نالے میں ڈال کر آؤ، مچھلی پانی میں رہتی ہے، اسے اس کے گھر سے نہ نکالو، وہیں پلنے دو۔”

سبی ریلوے اسٹیشن کی سیڑھیوں کی دیوار پر پھسلنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ والد صاحب (جنہیں ہم پیار سے بابو کہتے تھے) جب جیب خرچ دیتے تو میں دکاندار سے بھنے چنے، کھٹ مٹھے، مرمرے اور چاکلیٹ اپنی قمیض کے دامن میں بھر لاتا اور راستے میں کھاتا ہوا آتا۔ نہ چوری یا اغوا کا ڈر تھا اور نہ ہی موجودہ دور کی ہوش ربا مہنگائی، جس نے جینا دو بھر کر دیا ہے۔ آج ہر شخص کمانے میں لگا ہے مگر برکت نہیں رہی۔ کاش وہ ماضی کا دور لوٹ آئے! تب امن تھا، کوئی ہنگامہ نہ حق تلفی۔ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔

مجھے یاد ہے، دوپہر اور رات کے وقت مسجد کے مدرسے کا ایک طالبِ علم بڑا تھال اٹھائے اور کندھے پر رومال کا جھولا بنائے محلے میں صدا لگاتا: “طالب کو کھانا دے دو۔” ہر گھر سے سالن تھال میں اور روٹیاں رومال میں چلی جاتیں۔ لفظ “طالب” میں نے پہلی بار سبی میں سنا تھا، جو وقت کے ساتھ کلچر بدلتے بدلتے “طالبان” تک پہنچ گیا۔

کوئٹہ میں ہمارے گھر کی گلی میں تندور ہوتا تھا جہاں سے ہم روٹیاں لاتے تھے۔ اسی گلی کا سرا گرلز اسکول کی دیوار پر ختم ہوتا تھا۔ میں کبھی والد کے کندھوں پر بیٹھ کر اسکول کی اسمبلی دیکھا کرتا تھا (تب میری عمر پڑھائی کی نہیں تھی)۔ جب ہم بچے ضد کرتے تو بابو ہمیں کندھے پر بٹھا کر دیوار کے دوسری طرف کا نظارہ کرا دیتے تھے۔

کوئٹہ کا وہ پارک بھی یاد ہے جہاں جھولے لگے تھے اور والدین بچوں کو لے کر آتے تھے۔ والدہ ٹوپی والا برقع پہنتی تھیں جو اس وقت عام تھا۔ اسی برقعے کی وجہ سے میں ایک بار حیدرآباد میں گم بھی ہو گیا تھا۔ ہوا یوں کہ میرے ماموں حیدرآباد میں چوڑیوں کے کارخانے میں کام کرتے تھے اور قریب ہی رہتے تھے۔ ہم سبی سے ملنے آئے تو مامی اور امی بازار خریداری کے لیے گئیں اور مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ امی نے مجھے گنے کی گنڈیریاں دلا دیں، جو جیب میں تو آ نہیں سکتی تھیں، سو میں قمیض کی جھولی بنا کر کھاتا ہوا ان کے پیچھے چلنے لگا۔ بازار میں دیگر خواتین بھی ویسا ہی برقع پہنے گزر رہی تھیں؛ میں غلطی سے کسی اور عورت کے پیچھے چل پڑا۔ کافی دور جا کر جب وہ غائب ہو گئیں تو میں “امی امی” پکار کر رونے لگا۔ ایک دکاندار نے مجھے کاؤنٹر پر کھڑا کر دیا تاکہ میری والدہ مجھے دیکھ سکیں۔ کافی دیر بعد والدہ اور مامی ڈھونڈتی ہوئی وہاں پہنچیں اور مجھے گود میں اٹھا کر گھر لائیں۔ شاید اس واقعے کے بعد امی مجھے کبھی اپنے ساتھ بازار نہیں لے گئیں کہ کہیں دوبارہ گم نہ ہو جاؤں۔

سبی میں ایک بار امی اپنی بیماری کے علاج اور دعا کے لیے مجھے ایک مشہور پیر صاحب کے پاس لے گئیں۔ وہ دیگر خواتین کے ساتھ ایک پہاڑی پر گئیں جہاں پیر صاحب سال دو سال بعد مریدوں کے لیے خیمہ لگاتے تھے۔ مجھے اسی وقت سے پیروں سے ایک چڑ سی ہو گئی۔ میرے دل میں خیال آتا کہ جب شفا دینے والا اللہ ہے تو بندہ خود دعا کیوں نہ مانگے؟ کسی پیر فقیر کی کیا ضرورت؟ بعد میں اپنی جوانی اور لڑکپن میں پنڈی، لاہور، ملتان، ٹھٹھہ، مکلی، سہون اور روہڑی کے مزارات پر فاتحہ پڑھنے اور تاریخی عمارتیں دیکھنے بارہا گیا، مگر مانگا ہمیشہ اپنے رب ہی سے، اور اس نے عطا بھی کیا۔

کھیل، سینما اور صحافت کا تلخ سفر

میں نے جیکب آباد میں فٹبال اور روہڑی میں ہاکی بہت کھیلی۔ اسکول میں پی ٹی، کھیلوں، تقریری اور قرات کے مقابلوں میں حصہ لیتا۔ زندگی بھرپور گزری؛ اسکول پکنک ہو یا نمائش، ہر جگہ شرکت کرتا۔

سینما دیکھنے کا جنون مجھے جیکب آباد ہی میں ہوا—چھپ چھپا کر فلمیں دیکھنے جانا اور سکھر تک نکل جانا! اس چکر کو چھپانے کے لیے اکثر جھوٹ بولنا پڑتا تھا۔ یوں تو مجھے جھوٹ سے شدید نفرت تھی اور اپنے عمل سے بھی یہ دکھاتا تھا، مگر کئی مواقع ایسے کٹھن ثابت ہوئے جہاں سچ کام نہ آیا۔

صحافت کو کبھی مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا، مگر اندر داخل ہوا تو زیادہ تر اسٹوریاں جھوٹ، فریب اور دھوکے پر ہی مبنی نکلیں۔ گالیاں سیکھنی ہوں تو اخبارات کا ماحول دیکھ لیں؛ جو باتیں دنیا میں وجود نہیں رکھتیں، وہ اخبار والوں سے مل جائیں گی۔ اگرچہ یہ گالیاں اور فحش جملے بازی تہذیب کے دائرے میں رہ کر کی جاتی تھی، مگر طنز اور نازیبا مذاق شاید صحافیوں کی من بھاتی غذا ہے۔

میرا یہ سفر بہت طویل تھا جو بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ ۳۵ سالہ اس کیریئر میں میں نے نشیب و فراز، دکھ سکھ، آندھی طوفان، مارشل لا، کرفیو، لاک ڈاؤن اور دھماکے دیکھے۔ یہ ایک عہد تھا جو بیت گیا۔ جن اداروں میں کام کیا، ان سب کی اپنی کہانیاں ہیں، لیکن ان میں ایک بات مشترک تھی: “خون نچوڑنا، معاوضہ کم دینا اور خدمت کی قدر نہ کرنا۔” دور پرنٹ کا ہو، ڈیجیٹل کا یا کوئی نیا انداز—سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ کوئی مسیحا، ہمدرد یا ملنسار نہیں؛ بغض، عداوت اور ناانصافی ہر جگہ ملی اور ملتی رہے گی۔ انسان ایسے ماحول میں خود کو پارسا کیسے رکھ سکتا ہے؟ کہیں نہ کہیں رنگ بدلنا ہی پڑتا ہے ورنہ قیامت برپا ہو جاتی ہے۔

اگر تقدیر نے آپ کو بچا رکھا ہے تو اللہ کی شکر گزاری کبھی نہ چھوڑیے، ورنہ انسان کہیں کا نہیں رہتا۔