حرمین الشریفین کے خادم ملک سعودی عرب پر حملہ افسوسناک

نائب امیر جماعتِ اسلامی، مجلسِ قائمہ سیاسی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثی حملے مِلّتِ اسلامیہ کےلئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یمن کے اندر طویل مدّت سے اندرونی جنگ اور خلفشار واضح حقیقت ہے لیکن یمن میں بیرونی مداخلت کی بنیاد پر حرمین الشریفین کے خادم ملک سعودی عرب پر حملہ افسوسناک ہے۔ یمن کے اندرونی مسائل کا حل، جنگ کی وُسعت اور شدّت کا سدّباب سفارتی مہارت سے ممکن ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران سفارتی سطح پر یمن کے اندرونی معاملات کا حل نکالیں وگرنہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت سے آبنائے ہُرمز کی بندش اور حوثیوں کی سعودی عرب پر حملوں کے ساتھ بحیرہ احمر باب المندب کی بندش پوری دُنیا سمیت بالخصوص پورے خطہ کے عوام کےلئے تباہی و بربادی اور جان لیوا بن گئی ہے۔ پاکستان کے عوام سعودی عرب کی دوستی پر فخر کرتے ہیں، سعودی عرب بھی ہمیشہ پاکستان کا بااعتماد دوست ثابت ہوا ہے۔
لیاقت بلوچ نے پروفیسر تنویر صادق کی کتاب کی تقریبِ رونمائی سے صدارتی خطاب کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وفاقی وزراء اور پنجاب حکومت کی قومی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت ہے۔ سیاست میں اختلاف ہر فرد کا بنیادی آئینی، سیاسی، جمہوری حق ہے لیکن معقول جواب نہ ہونے کی بناء پر کردار کشی کرنا سیاست اور جمہوریت کو اور زیادہ بےوقار بنادے گا۔ وزیرِداخلہ محسن نقوی نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران ایک تیر سے کئی شکار کرلئے، اپوزیشن جماعتوں اور قائدین کا ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز لب و لہجہ فارم 47 والی بے ساکھ حکومت اور اُس کے سرپرست بالادست اسٹیبلشمنٹ کےلئے مزید طاقت کا باعث بنے گا، اپوزیشن کے زیراہتمام بِلاتاخیر آل پارٹیز کانفرنس وقت اور حالات کا اوّلین تقاضا ہے۔
لیاقت بلوچ نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگ زیب کی خوش دامن کے انتقال پر اجتماعی دعائے مغفرت کے پروگرام میں اہلِ خاندان سے تعزیت کی، اِس موقع پر قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرحنیف عباسی اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان سے بھی ملاقات ہوئی۔ صحافیوں کے سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے خیبرپختونخوا میں بدنیتی کی بنیاد پر آئینی شقوں کے استعمال سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے مکسچر سے خوداختیار کردہ ٹرانس جینڈر نظام مسلّط کردیا ہے، پاکستان کے عوام نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نظام کو مسترد کردیا ہے، حکومت کالا اقدام واپس لے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتخابی اصلاحات اور خارجہ پالیسی کے نئے رہنما اُصول مرتب کرنے کا فیصلہ اہم ہے لیکن ملک کے اندر انتہائی گھمبیر سیاسی، معاشی بحران کا خاتمہ نہیں ہوگا تو سب کاسمیٹک اقدامات بےکار رہیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں، کِسان سے اونے پونے داموں گندم لُوٹ لی گئی اور اب ملک بھر کے شہری فی من 7 ہزار روپے سے بھی زیادہ تک قیمت پر آٹا خرید کر لُٹ رہے ہیں، حکمران دیہی و شہری عوام کی یکساں دشمن ہیں